انگلینڈ کیلئے پاکستانی سکواڈ کا اعلان – کورونا سے متاثرپاکستانی 10 کھیلاڑیوں میں سے چھ کے ٹیسٹ بھی منفی آ گئے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے دورہ انگلینڈ کے لیے 20 رکنی سکواڈ اور 11 سپورٹ سٹاف کے اراکین کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ابتدا کورونا وائرس سے متاثرہ 10 کھلاڑیوں میں سے چھ کے ٹیسٹ بھی منفی آ گئے ہیں،سکواڈ کا اعلان ان تمام اراکین کے دوسری مرتبہ کورونا وائرس ٹیسٹ منفی آنے کے بعد کیا گیا ہے،

قومی سکواڈ اتوار کی صبح ایک خصوصی چارٹرڈ پرواز کے ذریعے مانچسٹر روانہ ہو گا جہاں اسے اگست اور ستمبر کے مہینوں میں میزبان انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنی ہے،پہلے مرحلے میں جن 10 کھلاڑیوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے تھے ان میں سے فخر زمان، محمد حسنین، محمد حفیظ، محمد رضوان، شاداب خان اور وہاب ریاض کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں، ان چھ کھلاڑیوں کے آئندہ ہفتے دوبارہ ٹیسٹ کیے جائیں گے،

گیند پر تھوک لگانے پر پابندی اور دیگر نئے کرکٹ قوانین،پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دورۂ آئرلینڈ ملتوی،’بند سٹیڈیم میں کرکٹ ممکن مگر کھلاڑیوں کی حفاظت مقدم ہے‘،تاہم حیدر علی، حارث رؤف ، کاشف بھٹی اور عمران خان کے ٹیسٹ دوسری مرتبہ بھی مثبت آئے ہیں،خیال رہے کہ پہلے مرحلہ میں کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے والے محمد حفیظ نے ایک نجی لیب سے اگلے ہی روز اپنا ٹیسٹ کروا لیا تھا جو منفی آیا تھا، تاہم انھیں بھی فی الحال سکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا،

اس حوالے سے ردِ عمل دیتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ محمد حفیظ اور وہاب ریاض نے پی سی بی کی دوسری ٹیسٹنگ سے قبل ذاتی طور پر اپنی ٹیسٹنگ کروائی اور اس کے باوجود کے ان کے ٹیسٹ منفی ہیں،’تاہم پی سی بی ٹیسٹنگ پروگرام کے تحت ان کا ایک مثبت اور ایک منفی ٹیسٹ آیا، لہٰذا انگلینڈ روانگی کے لیے انتظامات سے قبل انھیں پی سی بی ٹیسٹنگ پروگرام کے تحت مزید ایک مرتبہ منفی ٹیسٹ دینا ہو گا،

انھوں نے مزید کہا کہ وہ پیچھے رہ جانے والے کھلاڑیوں کو مکمل یقین دلاتے ہیں کہ پی سی بی ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا اور اس قرنطینہ کے وقت میں پی سی بی ان کی مکمل نگرانی جاری رکھے گا،انھوں نے کہا کہ یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ان تمام کھلاڑیوں میں کوئی علامات نہیں تھیں جس کا مطلب ہے کہ ان کی جلد مکمل تندرستی کے امکانات بہت زیادہ ہیں،

جیسے ہی ان کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کے نتائج دو مرتبہ منفی آئیں گے ویسے ہی یہ انگلینڈ میں دوبارہ اسکواڈ کو جوائن کرلیں گے،سکواڈ کے ساتھ روحیل نذیر اور محمد موسیٰ کو بھی روانہ کیا جا رہا ہے جبکہ سیریز کی تیاریوں کےدوران ظفر گوہر ٹیم کا حصہ بنیں گے، ظفر گوہر کو صرف میچوں سے قبل تیاریوں کے لیے سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے،

مانچسٹر پہنچنے کے بعد قومی سکواڈ وورسٹر شائر روانہ ہو گا جہاں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام کھلاڑیوں کی ٹیسٹنگ کی جائے گی،اس دوران قومی اسکواڈ 14 روز تک قرنطینہ میں گزاریں گے تاہم یہاں انھیں پریکٹس اور ٹریننگ کی اجازت ہو گی۔ اس کے بعد قومی ٹیم 13 جولائی کو ڈربی شائر روانہ ہو جائے گی جہاں یہ دو پریکٹس میچ کھیلے گی،

دورہ انگلینڈ کے روانہ ہونے والے سکواڈ میں کپتان اظہر علی اور نائب کپتان بابر اعظم کے علاوہ اسد شفیق، فہیم اشرف، فواد عالم، افتخار احمد، عماد وسیم، امام الحق، خوشدل شاہ، محمد عباس، موسیٰ خان، نسیم شاہ، روحیل نذیر، سرفراز احمد، شاہین شاہ آفریدی، شا ن مسعود، سہیل خان، عثمان شنواری اور یاسر شاہ شامل ہیں،اس کے علاوہ ٹیم کے ساتھ 11 رکنی سٹاف بھی روانہ ہو رہا ہے جن میں ہیڈ کوچ مصباح الحق، بیٹنگ کوچ یونس خان، سپن بولنگ کوچ مشتاق احمد اور ٹیم مینیجر منصور رانا سمیت دیگر شامل ہیں،

کلف ڈیکن اور وقار یونس بالترتیب جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا سے انگلینڈ میں ٹیم کو جوائن کریں گے جبکہ شعیب ملک کی 24 جولائی کو انگلینڈ روانگی متوقع ہے،سپورٹس سائنسز کے ماہرین اور برطانوی حکومت کے قوانین کے مطابق پی سی بی کے ٹیسٹنگ کے عمل کے دوران سکواڈ میں شامل جن اراکین کے ٹیسٹ مثبت آئے وہ اتوار کو سفر نہیں کر سکیں گے تاہم جونہی ان کے دو منفی ٹیسٹ آئیں گے تو انھیں انگلینڈ بھیج دیا جائے گا،

چار ریزرو کھلاڑیوں کے کوویڈ 19 ٹیسٹ بدھ کو ہوئے تھے، ان میں سے عمران بٹ کا ٹیسٹ مثبت جبکہ بلال آصف، محمد نواز اور موسیٰ خان کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں،سکواڈ سے متعلق بات کرتے ہوئے وسیم خان نے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ ایک غیرمعمولی عمل کے بعد 20 کھلاڑیوں اور ٹیم منیجمنٹ کے 11 اراکین اتوار کو مانچسٹر روانگی کے لیے دستیاب ہیں،

انھوں نے کہا کہ کیسز کی تعداد میں اضافے اور کچھ کھلاڑیوں کے علاقوں میں ٹیسٹ لیب کی عدم دستیابی کے باوجود پی سی بی کے میڈیکل پینل نے اس عمل کو مکمل انجام تک پہنچانے کے لیے ایک اچھا کام کیا ہے،لاجسٹک چیلنجز کے سبب ہمیں ان غیرمعمولی حالات میں مشکلات کا سامنا تھا مگرہم نے اس سارے عمل میں بہت کچھ سیکھا ہے،

وسیم خان کا کہنا ہے کہ ان کی مصباح الحق سے بات ہوئی اور وہ اتوار کو مانچسٹر روانہ ہونے والے پہلے گروپ سے مطمئن ہیں۔