عرض حال

انسان کی شخصیت اور کردار کا سارا دار ومدار اس کی نفسیات سے ہوتا ہے۔ وقت، معروضی حالات اور ہمارے اردگرد کے ماحول سے جہاں ہماری شخصیت بنتی ہے وہیں ہمارے کردار کا بھی تار وپود بنتا ہے۔ شخصیت (Personality) ہماری اجتماعی کیفیات کا نام ہے، ہم کیسے بولتے ہیں، کیسے چلتے ہیں، کیا مشاغل رکھتے ہیں، لباس، خوراک، بود وباش، پسند ناپسند، احباب وغیرہ جیسے خصلتوں اور خصوصیات کا تعلق انسان کی شخصیت سے ہوتا ہے۔ اسی شخصیت کیساتھ انسان کا ایک کردار (Character) بھی ہوتا ہے۔ کردار کا تعلق ہمارے روزمرہ لین دین، معاملات سے ہے، ہمارے مزاج سے ہے۔ ہم کاروبار، دوستی، رشتہ داری وغیرہ میں کیسے روئیے رکھتے ہیں۔ ہمارا اخلاقی نظام ہمارے کردار کو حرکت دیتا ہے۔ کردار سازی اور شخصیت سازی کے اپنے ادارے سماج میں اپنا کام کرتے ہیں، جیسے ہمارے یہاں حجرہ ہے یا مسجد یا کوئی اور عبادت گاہ جہاں اخلاقیات اور سماجی قدروں کی شعوری اور غیرشعوری تعلیم ملتی ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام اس میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ خاص طور پر تعلیمی نصاب انسان کے شعور پر انمٹ نقوش چھوڑتا ہے۔ انسان اپنے سماج سے جو کچھ سیکھتا ہے ویسا ہی سماج کو لوٹا دیتا ہے، خاص طور پر ایک ذہنی وجسمانی طور پر آزاد معاشرہ شعور کی مثبت طور پر آبیاری کرتا ہے جبکہ غلام معاشروں کے افراد کے شعوری معاملات سنگین ہوتے ہیں کہ ان کی انائیں بار بار دکھی ہوتی ہیں اور ان میں غصہ کے عناصر دیگر سماج کی نسبت زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے سماج کے باسی انتہاؤں میں زندگی گزارتے ہیں، ہماری آزادی کا تہترواں برس ہے، بے شک قوموں کی زندگی میں چھے ساتھ دہائیاں لمبا عرصہ نہیں ہوتیں۔ وقت کیساتھ ساتھ قومیں اپنے تہذیبی رچاؤ کو مستحکم کرتی ہیں، ہم چونکہ غلامی سے آزادی کی طرف آئے ہیں، اس لئے اب بھی ہمارے اجتماعی لاشعور میں غلامانہ قدریں مکمل طور پر چھٹ نہیں پائیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اسی پرانے سسٹم کو لیکر چل رہے ہیں جو انگریز چھوڑ گیا تھا۔ انگریز کا مسئلہ تو یہ تھا کہ اس نے یہاں حکمرانی کرنی تھی اس لئے ایک حکمران سسٹم بنایا گیا تاکہ لوگ رعایا رہیں جبکہ آزادی میں رعایا کا سٹیٹس رعایا سے عوام میں تبدیل ہوجاتا ہے کہ جس میں حکمران حاکم سے زیادہ عوام کا خادم ہوتا ہے اور اداروں کا مقصد عوام پر حکمرانی کی بجائے انہیں سہولت اور سکھ دینا ہوتا ہے۔ آزادی کے فوراً بعد ہم اس سسٹم کو توڑ کر ایک نئے سسٹم کی طرف نہ آسکے جو حقیقی جمہوریت اور انسانی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ وہی فیوڈل ازم ہمیں اب تک چمٹا ہوا ہے، کچھ ہماری کچھ جغرافیائی حیثیت ایسی رہی ہے کہ ہمیں عالمی جھگڑوں میں ملوث ہونا پڑا، جس کی وجہ سے معاشی ترقی بھی نہ ہوسکی اور نہ ہی ہم اپنے سماجی سسٹم کو بہتر بنانے پر کام کرسکے۔ اداروں کی کارکردگی بھی انہیں حالات میں دگرگوں ہوتی رہی۔ ایک لوڈشیڈنگ کو ہی لے لیں کہ اس نے کتنے برس خاص وعام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کئے رکھا۔ عوامی زندگی کبھی خوشحال نہیں رہی۔ اس لئے ایک عدم اعتماد کی فضا میں عوام سانس لیتی ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ہمارے عدم برداشت کے روئیے جنم لیتے ہیں۔ ہم سماجی سطح پر کوشش کرتے ہیں کہ اپنی بیمار اناؤں کو سکھ پہنچانے کیلئے کسی دوسرے کی انا کو چوٹ پہنچائیں۔ سسٹم کی کمزوری کی وجہ سے سماج مافیاز کے نرغے میں آجاتا ہے اور مافیاز ہی عوام کیلئے طے کرتے ہیں کہ انہیں کتنی آکسیجن دی جائے کہ مریں بھی نہ اور جئیں بھی تو مافیاز کے مفاد ات کے تحفظ کیساتھ۔ اس سارے منظرنامے میں دیکھیں تو بے چینی لازمی سا امر دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے ہاں چیزیں جس تیزی سے بدلتی ہیں اس کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں، اگر یہ بدلاؤ مثبت بھی ہو لیکن ہم تو منفی کے ہی روادار ٹھہرے ہیں۔ خواب فروشوں نے ایسے ایسے خواب دکھائے ہیں لیکن خواب تو خواب ہی ہوتے ہیں۔ کبھی کسی نے ان خوابوں کی تعبیر نہیں دکھائی، خواب اور حقیقت میں فرق یہی ہوتا ہے کہ خواب میں زمان ومکان نہیں ہوتا نہ ہی منطق واستدلال کی گنجائش ہوتی ہے۔ حقیقت کسی راستے پر چل کر منزل تک پہنچنے کا نام ہے۔ کسی خواب فروش نے قوم کو اعتماد میں ہی نہیں لیا کہ کوئی منزل دکھاتا اور رستے کا تعین کرکے قوم کو کہتا چلو میرے ساتھ تو کیوں نہ منزلیں پالیتے۔ افسوس ہوتا ہے کہ جتنی پستیاں تھیں ہمارے لئے ہی لکھ دی گئیں، کیا اتنے برے تھے ہم۔ قوم ہی نہیں بننے دیا کوئی پٹھان تو کوئی پنجابی تو کسی کو سندھی بنا دیا، کسی کو بلوچی، مسالک کا تڑکہ الگ لگایا گیا۔ دین اتنا واضح جیسے صبح کا سورج لیکن شکوک وشبہات اتنے گھڑ دئیے گئے کہ کچھ سمجھ ہی نہ آئی۔ مارشل لاؤں میں ہوش سنبھالنے والی میری نسل تو شاید بدنصیبوں میں بھی اول نمبر پر ہو کہ بحرانوں ہی میں زندگی گزاری، کبھی یہ نہ سنا کہ بحران اختتام پذیر ہوا، اب جی لوآزادی کیساتھ۔ ایسے میں طعنے بھی مل جائیں کہ قصور تمہارا ہے کہ تم ہی قوم نہ بن سکے تو اور کیا کہا جاسکتا ہے تسلیم کرلیں گے کہ ہاں ہم ہی گناہ گار۔