لمحہ فکریہ

سکندراعظم سے کسی نے پوچھا کہ آپ کی اتنی زیادہ کامیابیاں حاصل کرنے کی کیا وجوہات ہیں، اس نے کہا کہ میں نے اپنے عوام کو سہولتیں عطا کی ہیں، میں نے ان کو تکلیف میں نہیں ڈالا! اگر ہم آج کی زبان میں کہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ سکندراعظم نے کہا میں نے ان کو لوڈشیڈنگ کے عذاب میں نہیں ڈالا، میرے دور میں روپے کی قدر کم نہیں ہوئی، میں ان کو مہنگائی کے عفریت سے بچاتا رہا، میرے دور میں چیزوں میں ملاوٹ نہیں ہوتی تھی، میں لوگوں کیلئے روزگار کے نت نئے مواقع ڈھونڈتا رہتا تھا۔ تعلیم مفت تھی بوڑھوں، بیواؤں، یتیموں اور بیماروں کے وظائف مقرر تھے۔ سکندر نے کہا کہ میں نے پرانے زمانے کی جو اچھی رسومات تھیں ان کو بھی منسوخ نہیں کیا اور مجھ سے پہلے جو بادشاہ گزر چکے تھے ان کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کیا چونکہ سکندر خود عوام کے حق میں اچھا تھا اس لئے گزشتہ بادشاہوں کا ذکر بھی اچھے انداز میں کرتا تھا، اگر وہ رعایا کو پریشان کرتا تو اسے بھی عوام سے مجبوراً یہی کہنا پڑتا کہ آپ آج جن مسائل میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب کچھ ہم سے پہلے لوگوں کی غلط حکمرانی کا نتیجہ ہے۔ جب ہم آئے تو خزانہ خالی تھا، اسلئے آپ ہمیں موردالزام نہ ٹھہرائیں اگر ہمیں وقت ملا تو ہم آپ کے تمام مسائل حل کر دیں گے، ایک مرتبہ کسی جنگل میں لوگوں نے دیکھا کہ ایک لومڑی بڑی گھبرائی ہوئی بھاگی جارہی ہے۔ لوگوں نے اسے روکا اور اس کی پریشانی کی وجہ پوچھی کہ تم پر ایسی کیا آفت آپڑی ہے جو اس طرح بھاگ رہی ہے۔ لومڑی نے کہا کہ بادشاہ نے اعلان کیا ہے کہ تمام اونٹوں کو بیگار کیلئے پکڑ لیا جائے اس لئے میں بادشاہ کے خوف سے بھاگ رہی ہوں، مجھے ڈر ہے کہ میں بھی کہیں بیگار کی مصیبت میں نہ پھنس جاؤں۔ لوگ اس کی بات سن کر بڑے حیران ہوئے اور اسے کہا کہ تم بھی عجیب چیز ہو تمہیں اونٹ سے کیا نسبت۔ تمہاری تو اس سے کوئی مشابہت بھی نہیں ہے، تمہار اس طرح بھاگنا تو بہت بڑی نادانی ہے۔ لومڑی نے انہیں کہا کہ لوگو حاسدوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا چاہئے۔ اگر کسی حاسد نے بادشاہ کو یہ کہہ دیا کہ میں اونٹ کا بچہ ہوں تو مجھے بیگار میں پکڑ لیا جائے گا۔ بھلا کس میں اتنی جرأت ہے کہ بادشاہ سے کہے کہ ذرا تحقیق کرلیں اور اگر تحقیق شروع بھی ہوگئی تو جب تک فیصلہ ہوگا میں ختم ہو چکی ہوں گی۔ آج بھی یہی صورتحال ہے تحقیق اتنی طویل ہوجاتی ہے کہ انصاف مانگنے والے قبروں میں اُتر جاتے ہیں۔ ایک پہلوان کشتی کے فن میں ماہر تھا، اسے ہزاروں داؤ پیچ آتے تھے، اس نے کشتی کے بڑے بڑے مقابلے جیتے اور خوب نام کمایا۔ وہ اپنے ایک شاگرد پر بہت زیادہ توجہ دیتا تھا اور خوب داؤ پیچ سکھاتا تاکہ وہ اچھا پہلوان بن سکے۔ جب شاگرد فن کشتی میں خوب ماہر ہوگیا تو ایک دن بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت استاد اب بوڑھا ہوگیا ہے میں کشتی کے فن میں اب طاق ہوگیا ہوں اور استاد اب میرا مقابلہ نہیں کرسکتا، میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں۔ بادشاہ نے اصل حقیقت جاننے کیلئے استاد اور شاگرد کی کشتی کرانے کا فیصلہ کیا تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے۔ یہ کشتی دیکھنے کیلئے سب وزراء وامراء تشریف لائے۔ استاد شاگرد کے مقابلے میں بہت کمزور ہوچکا تھا مگر وہ پھر بھی استاد تھا اس نے اپنے شاگرد کو ہرانے کیلئے ایک ایسا داؤ استعمال کیا کہ وہ چاروں شانے چت ہوگیا۔ بادشاہ نے استاد کو انعام واکرام سے نوازا اور شاگرد کو برا بھلا کہا کہ تمہیں شرم نہیں آتی جس سے فن پہلوانی سیکھا اسی کیساتھ مقابلے کرنے پر تل گئے۔ شاگرد نے کہا بادشاہ سلامت استاد اپنی طاقت کے بل بوتے پر مجھ پر غالب نہیں آیا بلکہ وہ ایک داؤ استعمال کرکے مجھ سے جیت گیا اور اس نے مجھے مغلوب کردیا۔ یہ داؤ استاد نے مجھے نہیں سکھایا تھا ورنہ کبھی بھی مجھ سے نہ جیت سکتا۔ استاد نے شاگرد کی بات سن کر کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو میں نے یہ داؤ جان بوجھ کر تمہیں نہیں سکھایا تھا۔ میں نے یہ داؤ اسی دن کیلئے بچا کر رکھا تھا کیونکہ دانا کہتے ہیں کہ دوست کو اس قدر طاقت نہیں دینی چاہئے کہ دشمن ہو کر تمہیں نقصان پہنچا سکے۔ یہ چند حکایتیں ہم نے گلستان سعدی سے لیکر اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کی ہیں۔ اس کتاب کی ہر حکایت میں اعلیٰ کردار کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں، اخلاقیات کے کتنے اچھے درس ان میں موجود ہیں آج ہم بہت سی خرابیوں میں مبتلا ہیں، یہ سب ہماری بداعمالیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ عجیب وغریب واقعات دیکھنے میں آرہے ہیں۔ پولیس کا ایک شہری پر حالیہ تشدد اس کی بہت بڑی مثال ہے، ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے، کسی کو سزا کا خوف نہیں ہے جب سزا جزا کا عمل کمزور پڑجائے تو اسی قسم کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں۔ آج ہم جس خرابی میں مبتلا ہیں وہ حرام وحلال کی تمیز کا اُٹھ جانا ہے، ہم اپنے گھر اپنے بچوں کیلئے جو رزق لیکر جاتے ہیں اس کے بارے میں ایک لمحے کیلئے بھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ یہ حلال ہے یا حرام؟ ذرا سوچئے اگر ہمارے اندر حرام وحلال کی تمیز پیدا ہو جائے تو ہمارے معاشرے میں موجود تمام خرابیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔