آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گیا

بادشاہ سلامت نے بالآخر ون مین مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیکتے اور ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا’ جا مائی باپ تو جیتا اور میں ہارا’ کہانی بہت پرانی ہے’ صدیوں پرانی’ مگر ٹھہرئیے’ اس سے بھی پہلے اسی قسم کی ایک اور کہانی بھی یاد کرتے ہیں، جب ایک اور بادشاہ کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ خداجانے اس کی رعایا اس سے خوش بھی ہے یا نہیں۔ دونوں کہانیوں کا بظاہر آپس میں کوئی تعلق تو نہیں مگر دونوں میں عقل والوں کیلئے بہت سی نشانیاں بھی موجود ہیں۔ ہاں تو جب دوسری کہانی والے بادشاہ سلامت نے اپنی فکر کا تذکرہ اپنے مشیروں سے کیا تو ایک نابغہ روزگار نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ رعایا پر ٹول ٹیکس عائد کر دیا جائے اور ہر صبح شہر پناہ کے قریب شہر کا احاطہ کرنے والی نہر پر بنے پل پر سے روزمرہ کے کاموں کیلئے آنے جانے والوں پر معمولی سی رقم ادا کرنے کا حکم صادر کر دیا جائے۔ اگر رعایا کو اعتراض ہوگا تو شور مچائیں گے’ احتجاج کرینگے’ خوش ہوئے تو خاموش رہیں گے۔ عوام نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تو کچھ عرصہ بعد ایک اور بزرجمہر کے مشورے پر پل پر سے گزرنے والوں کو ٹول ٹیکس کے علاوہ سر پر ایک جوتی مارنے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔ لوگ اس پر کچھ دن تو خاموش رہے مگر بعد میں ان کے اندر بے چینی کی اطلاعات بادشاہ سلامت تک پہنچیں۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ لمبی قطار میں جوتے کھانے کیلئے انتظار کی وجہ سے لوگوں کا وقت ضائع ہوتا ہے اس لئے جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھائی جائے یعنی نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز، چلیں اب ون مین مافیا کے آگے سرنگوں ہونے والے بادشاہ کا تذکرہ کرتے ہیں’ ہوا یوں کہ اس بادشاہ کے پاس شکایات کا انبار لگ گیا کہ فلاں محکمہ کا ایک کارندہ ان کیلئے مافیا بنا ہوا ہے اور ہر شخص سے بھاری رشوت طلب کرتا ہے’ دوسری صورت میں جائز کام بھی نہیں ہوتا’ بادشاہ نے اپنے خفیہ کارندوں سے جواب مانگا تو تحقیقات سے پتہ چلا کہ الزامات بالکل درست ہیں۔ بادشاہ سلامت نے متعلقہ اہلکار کو دربار میں طلب کیا’ اس نے گڑگڑاتے ہوئے کہا کہ اسے معافی دیدی جائے’ اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ ملازمت سے برخواست ہوگا تو اس کے گھر والے بھوک سے مر جائیں گے۔ بادشاہ نے اس پر رحم کرتے ہوئے صرف اتنی سزا دی کہ کل سے وہ سمندر کے کنارے صبح سے شام تک ساحل پر اُبھرنے والی لہریں گن کر روزانہ دربار میں رپورٹ جمع کرائے گا’ مرتا کیا نہ کرتا’ خود کو کوستے ہوئے اگلی صبح ساحل پر جا بیٹھا اور ہر اُبھرنے والی لہر کا ایک رجسٹر میں اندراج کرنے لگا۔ ظاہر ہے اس کی اوپر والی آمدن تو بند ہوگئی’ بس لہریں گنتے گنتے ہی دن کو رات کرنا ہی مقدر بن گیا’ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ چند روز بعد دور سے ایک بحری جہاز آتا دکھائی دیا’ اس نے فوراً لال جھنڈی لہراتے ہوئے جہاز کو ساحل سے دور ہی کھڑا ہونے کا سگنل دیدیا۔ ایک روز’ دو روز’ جہاز ساحل سے دور ہی کھڑا رہا’ جہاز پر تازہ پھل’ سبزیاں وغیرہ لدا ہوا تھا’ زیادہ انتظار کی صورت میں ان اشیاء کے گل سڑ جانے کا خطرہ تھا جس سے سوداگروں کو مالی نقصان کا خطرہ تھا’ ادھر شہر میں بھی تاجر ان اشیاء کا انتظار کرتے کرتے بے چین ہو رہے تھے۔ انہوں نے ساحل پر پہنچ کر ”ون مین مافیا” سے رابطہ کیا اور کہا کہ اشیاء کے خراب ہونے سے نہ صرف سوداگر کو لاکھوں کا نقصان ہوگا بلکہ شہر میں سپلائی بھی متاثر ہوگی’ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا کہ لہروں کی تعداد میں کمی بیشی سے بادشاہ اسے سزا دے گا۔ جہاز کے سوداگر اور شہر کے تاجروں نے آپس میں مشورہ کیا اور ”مافیا” کی مٹھی گرم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا’ یہ رقم لو اور جہازوں کی آمد ورفت میں رکاوٹ نہ ڈالو’ رہ گئی لہروں کی تعداد تو رجسٹر میں غلط اندراج کرکے رپورٹ کرو’ بادشاہ نے کونسا تصدیق کرنا ہے’ بس جناب اب تو اس کے ”پوبارہ” ہونے لگے اور ہر آنے جانے والے جہاز سے ”معقول” حصہ وصول کئے بغیر ساحل تک آنے جانے کی اجازت نہیں ملتی تھی جبکہ جہازوں کے سوداگروں اور شہر کے تاجروں پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو عوام تک منتقل کرنے سے مہنگائی میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا۔ عوام کے اندر غم وغصہ بڑھنے لگا تو بادشاہ سلامت تک رپورٹیں پہنچ گئیں۔ متعلقہ ”ون مین مافیا” کو بلوا کر سرزنش کی گئی’ ملازمت سے خارج کرنے کی دھمکی سے وہ پھر منت ترلے کرنے لگا’ آئندہ توبہ تائب ہونے کا پکا وعدہ کیا’ اسی طرح اسے کئی مرتبہ مختلف محکموں جن میں بظاہر اوپر کی آمدنی کی کوئی اُمید نہیں ہوتی تھی’ میں تعینات کیاگیا’ مگر ہر جگہ کسی نہ کسی طریقے سے اس کی ”پذیرائی” کا راستہ کھل جاتا۔ بالآخر بادشاہ سلامت نے زچ ہو کر اسے اپنے محل میں ڈیوٹی پر لگا دیا’ بادشاہ کی کئی ملکائیں تھیں اور وہ رات کو ہر ملکہ کیساتھ ایک خاص وقت تک اس کے کمرے میں موجود رہتا۔ ”ون مین مافیا” کی ڈیوٹی یہ تھی کہ مقررہ وقت کے بعد گھنٹی بجا کر بادشاہ کو اطلاع کرنا ہوتی تاکہ وہ دوسری ملکہ کے کمرے میں جائے۔
(باقی صفحہ 7)