تابندۂ مہتاب

قحط الرجال کی اس دنیا میں ایک تابندہ مہتاب کا اس دھرتی پر نورانی کرنیں مدھم پڑگئیں، گزشتہ جمعہ کو یہ درد بھر خبر آئی کہ اصولو ں پر مستحکم اور حق سچ بات کے بنیان مرصوص ثابت ہونے والا انسان بھی آخر فانی دنیا سے چل بسا۔ سید منورحسن سے اہل ایمان نے بس ایک بات سیکھی کہ حق سچ کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن جاؤ کوئی تمہارے قدم نہیں لڑکھڑا پائے گا۔ وہ ایک نستعلیق شخصیت کے مالک تھے، ان کا لہجہ، ڈیل ڈول بھی نستعلیق، طبیعت بھی نستعلیق پائی۔ سید منور حسن نے عملی سیاست کا آغاز برائے نام ترقی پسند تنظیم طلباء نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے کیا تھا جس کے کرتا دھرتاؤں میں معراج محمد خان مرحوم کا نام بھی آتا ہے لیکن جو کہتے ہیں کہ جب اللہ کسی سے راضی ہوتا ہے تو اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے، ایسا ہی سید منور حسن کیساتھ ہوا چنانچہ اللہ کی رضا ان کو دین کے قریب لے گئے اور پھر ایسا ہوا کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی اسلامی نظام کی بقاء کیلئے تج دی۔ حق بات کہنے میں ان کو نہ صرف ملکہ تھا بلکہ کوئی باک بھی نہ تھا، اکل کھرے انسان تھے اور اللہ تعالیٰ نے زبان بھی کھری دے رکھی تھی، اسی بناء پر انہیں بچوں، جوانوں اور بوڑھوں میں یکساں پذیرائی حاصل رہی، سید منور حسن نے راہ صداقت و بے باکی میں سینکڑوں صعوبتیں برداشت کیں لیکن اپنے مقاصد کی جدوجہد میں ایک گرہ بھی پس قدمی نہیں کی، یہی وجہ رہی کہ وہ سید مودودی، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد کے انتہائی معتمد ساتھی قرار پائے۔ جب قاضی حسین احمد امیر جماعت اسلامی منتخب ہوئے تو انہوں جماعت کو ایک فعال اور متحرک تنظیم کی طرح جلوہ گر ہونے کی خواہش پر سید منور حسن کو پارٹی کا سیکرٹری جنرل چنا اور جب تک وہ امیر جماعت اسلامی منتخب ہوتے رہے اس وقت تک سید منورحسن بھی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے، حتٰی کہ جب قاضی حسین احمد نے ناسازی طبیعت کی بناء پر امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے کام کرنے کیلئے معذرت کرلی تو سید منور حسن کو شوریٰ جماعت نے قاضی حسین احمد کے معتمد سیکرٹری جنرل پر ان کی کارکردگی کی بنیاد پر امیر جماعت اسلامی چن لیا، جب کچھ اداروں کی جانب سے طالبان کے ہاتھوں جان بحق ہونے والوں کو شہید کا رتبہ دینے کا اعلان کیا گیا تو پورے پاکستان میں ایک ہی شخص تھا جس نے لگی لپٹے بغیر اس فیصلے کو ماننے سے صاف انکار کر دیا، جس پر امریکی حلیف گروہ کی جانب سے بڑا غوغا کیا گیا مگر سید منور حسن اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔ جماعت کی شوریٰ نے ان کیساتھ ایک ذیادتی کی کہ جب انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ وہ آئندہ مدت کیلئے امیر جماعت کے فرائض دینے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کی صحت اجازت نہیں دے رہی ہے، اس کے باوجود ان کا نام جماعت کے امیر کے اُمیدواروں میں شامل کر دیا گیا، اس انتخاب میں قرعہ فال امارت سراج الحق کے نام نکلا، جس کو ناقدین نے مطلب براری کیلئے خوب اُچھالا، یہ مودودی فکر وتربیت کا اخذ تھا کہ انتخاب ہار جانے کے بعد بھی سید منور حسن کے پائے عزم میں رتی بھر بھی لرزش پیدا نہ ہوئی بلکہ وہ پہلے سے زیادہ متحرک ہو کر جماعت کیلئے خدمات انجام دیتے رہے۔ سید منور حسن تعلیم سے فارغ ہو کر اسلامی ریسرچ اکیڈمی کراچی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے شامل ہوئے اور اکیڈمی کے چیئرمین کے عہدے تک فائز رہے، ان کی زیرنگرانی اکیڈمی نے ستر کے لگ بھگ کتابیں شائع کیں، سید منور حسن1967 سے باقاعدہ جماعت اسلامی میں شامل ہوئے۔ 1977میں کراچی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے، سید منور حسن کا نظریہ یہ تھا کہ خطے میں مسائل کی جڑ امریکا کا یہاں موجود پایا جانا ہے چنانچہ انہوں نے گو امریکا گو کے حوالے سے امریکی اخراج کیلئے بھرپور مہم بھی چلائی۔ سید منور حسن نابغہ روزگار شخصیت تھے ان کو کلاسیکل ادب، شعر وشاعری اور عمدہ نثر سے گہرا لگاؤ تھا۔ جب وہ تقریر فرماتے تو یوں محسوس ہوتا کہ وہ نثر میں تقریر نہیں کر رہے ہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی شاعری کر رہے ہیں۔ پشاور میں ایک مرتبہ ممتاز صحافی شریف فاروق مرحوم نے ایک تقریب منعقد کی تھی جس میں پاکستان کے چوٹی کے سیاستدانوں اور دانشوروں نے شرکت کی تھی۔ سید منور حسن مرحوم بھی بنفس نفیس شرکت کیلئے تشریف لائے۔ اس موقع پر اے این پی کے ممتاز رہنماء حاجی غلام احمد بلور نے سید منور حسن سے پرتپا ک انداز میں ملنے کیساتھ ہی یہ کہا کہ ہم تو کچھ نہیں کہنے آئے ہیں دراصل ہمیں آپ کی نستعلیق اُردو سننے کا شوق کھینچ لے آیا ہے۔ منور حسن درویشانہ زندگی گزار کر گئے ہیں، وہ اسلاف کی مکمل نشانی تھے، زندگی بھر جہد مسلسل پر کاربند رہے، قناعت کا یہ عالم تھا کہ منصورہ میں امیر جماعت اسلامی کی رہائش کیلئے جو فلیٹ مختص تھا جس میں میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد اپنی فیملی کیساتھ رہائش پذیر رہے، منور حسن نے اس حق کو استعمال رضاکارانہ طور پر نہیں کیا بلکہ جماعت کے مہمان خانے کے ایک کمرہ میں رہائش اختیار کی۔ سید منور حسن اصولوں کے ایسے پابند تھے کے جس کی مثال ملنا مشکل ہے، جب امارت سے فارغل ہوکر واپس کراچی لوٹے تو ان کا کل سامان صرف ایک درمیانے درجے کے بیگ میں آگیا۔ قول وفعل کردار وعمل کے مقابلے میں اس سے زیادہ کھرا کون ہو سکتا ہے۔