جنوبی ایشیاء اور کووڈ19

نوول کرونا وائرس کی وبا نے دنیا کے ہر خطے کو ہی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس وبا کے اثرات ہمیں آنے والے کئی سالوں تک محسوس ہوتے رہیں گے۔ ایشائی ترقیاتی بینک کے اندازے کے مطابق اس وبا سے پوری دنیا کو تقریباً چار ٹرلین ڈالر کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ اس عالمی وبا کے پیش نظر تمام ہی ممالک حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں۔ سرحدیں بند کی جا چکی ہیں، شہری تالہ بندیوں کا شکار ہیں اور عالمی اداروں کو اپنے اثر ورسوخ، باہمی تعاون اور تعلقات کے حوالے سے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ ہمیں اس وقت دنیا بھرمیں امان پرستی، مفاخرانہ نسلی تقابل وامتیاز اور عدم مساوات کے رجحانات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہم عدم مساوات اور امتیازی رویوں کی ایک نئی قسم کو اُبھرتے دیکھ رہے ہیں جہاں چند مخصوص شہریت کے حامل افراد پر شدید سفری پابندیوں کا اطلاق کیا جانے لگا ہے۔ مزید برآں ہم اس وقت صحت سے متعلقہ نئے مسائل اور عالمی سطح پر الزام تراشی میں اضافہ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ دنیا میں ایک نئی طرح کے نسلی امتیاز کو فروغ دیا جا رہا ہے جو پہلے سے ہی پنپتی نفرتوں کو مزید ہوا دینے کا سبب بنے گا۔ یہ کبھی نہ تھمنے والی الزام تراشی کی روش اختلافات کے نئے بیج بونے کا سبب بنے گی۔ دنیا بھر میں پھیلے سپلائی کے نظام کو بھی ان پالیسیوں نے شدید متاثر کیا ہے ۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے وبا کے خوف اور اضطراب کے سبب ممالک باہمی تعاون و تبادلے کے تصور سے پھرکر وسائل کو صرف اپنے ہی شہریوں کیلئے محدود رکھنے کی طرف مائل ہونے لگیں گے۔ یوول نوحا حریری کے مطابق کووڈ19کے بعد ہمیں یہ نظام دنیا وبا سے شدید متاثرہ اور بری طرح متاثرہ ممالک، ڈیجیٹل طور پر کام کاروبار کرنے اور نہ کرنے والے اور ہنر مند اور غیر ہنر مند کارکنوں کے درمیان عدم مساوات کی بنیاد پر بٹا ہو انظر آئے گا۔ اس دینا کا کوئی بھی خطہ باقیوں سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ کسی بھی خطے میں اُٹھنے والی مصیبت کی لہر دنیا کے تمام حصوں میں محسوس کی جا سکتی ہے اور بدقسمتی سے جنوبی ایشیاء کا خطہ صحت عامہ کی تباہی کا گڑھ بن چکا ہے۔ یہ خطہ معاشی طور پر کمزور، سیاسی طور پر غیرمستحکم، نااہل حکومتوں کے زیرانصرام، دہشتگردی اور مسلسل جاری رہنے والی کشیدگیوں سے متاثر ہے۔ کووڈ19 کا اس خطے کے معاشی اور سماجی ماحول پر منفی اثرات مرتب کرنے کا خطرہ مسلسل منڈلا رہا ہے۔ یہ خطہ گنجان آباد ہونے کیساتھ ساتھ فرسودہ نظام صحت کا حامل بھی ہے۔ یہ ان چند ممالک کے نہایت قریب ہے جو اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ حکومتوں کی جانب سے اقدامات کے باوجود اس خطے میں کرونا کیسز میں آئے دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ بطور مجموعی، جنوبی ایشیاء سب سے زیادہ اور گنجان شہری آبادیوں کا حامل خطہ ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے دس ممالک میں سے پانچ یہاں پائے جاتے ہیں۔ اس دنیا کی کل آبادی میں سے ایک بڑا حصہ یہاں رہتا ہے اور یہ مجموعی طور پر عالمی معاشی پیداوار میں پندرہ فیصد سے زیادہ کا حصہ دار ہے۔ اس خطے کی گنجان آبادی کے سبب یہاں وبا کے اثرات بھی شدید ہوں گے۔ اس بیماری کے تدارک کیلئے کسی ویکسین کے دستیاب نہ ہونے تک حکومتوں کے پاس اس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے تالہ بندیوں اور سماجی فاصلوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا ہی واحد راستہ بچا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق وبا کے سبب 7 سے10 کروڑ انسان شدید
غربت میں گھر جائیں گے، اس بحران کے سبب سال2020 میں جنوبی ایشیاء کی معیشت میں 2.7فیصد کی کمی دیکھنے میں آئے گی۔ اس کمی کی بڑی وجوہات میں تالہ بندیاں، کاروباری پابندیاں، غیریقینی صورتحال اور نجی سرمایہ کاری میں کمی شامل ہیں۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2018 میںجنوبی ایشیائی ممالک میں فی کس اوسط آمدن1900 ڈالر تھی جبکہ اس کے مقابلے میںایشیاء کے باقی خطوں میںیہ آمدن 4500 ڈالر اور بالخصوص چین میں 9700ڈالر تھی۔ پاکستان میں جب یہ وبا پھوٹی، اس وقت ہم آئی ایم ایف کیساتھ طے کردہ قرض معاہدے کے پہلے سال میں تھے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی فراہمی کیلئے عائد کردہ شرائط نے ہماری شرح نمو کو پہلے ہی ساکت کر رکھا تھا اور موجودہ صورتحال کے بعد تو یہ اور بھی بدتر ہونے کا خطرہ ہے۔ ملک کی معاشی بہتری کیلئے ضروری ہے کہ ہمارے ہاں برآمدات کا سلسلہ پھر سے شروع ہو مگر پاکستان میں تالہ بندیوں کے سبب پیداوار میں کمی اور ہمارے گاہک ممالک کا اس بیماری کے سبب بند پڑ جانا ہمیں اور بھی مشکل میں دھکیل رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں فوری بنیادوں پر معیشت کی بحالی ایک خواب ہی نظر آتی ہے۔
(باقی صفحہ 7)