مہنگائی کے سیلاب بلا کو روکا کیسے جائے گا؟

امر واقعہ یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوئے حالیہ اضافے کے حوالے سے وفاقی وزارت پیٹرولیم’ اوگرا اور خود وفاقی حکومت کے ذمہ داران کا موقف شہریوں کو مطمئن نہیں کر پایا۔ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ فی لیٹر پیٹرول کی قیمت بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلہ میں کم ہے۔ کرنسی کے شرح تبادلے کو بنیاد بنا کر اعداد و شمار پیش کرتے وقت دیگر متعلقہ معاملات نظر انداز کردئیے گئے۔ حکومتی رہنمائوں اور ترجمانوں کے پاس اس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں ہے کہ جب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دو مرحلوں میں کم کیں تو مارکیٹ سے یہ مصنوعات نایاب کیوں ہوگئیں اور جونہی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو فوری طور پر ان پیٹرول پمپوں پر مصنوعات کی فروخت شروع ہوگئی جو لگ بھگ دو ہفتے سے بند تھے؟ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے صدمے سے ابھی شہری سنبھل نہیں پائے تھے کہ ایل پی جی کی قیمت میں ہفتہ کے روز 5روپے فی کلو کا اضافہ ہوگیا۔ اوگرا کے حکام ایسے کسی اضافے کی تردید کرتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن لگتاہے کہ وہ مارکیٹ میں قیمتوں کے اُتار چڑھائو سے قطعی طور پر لا علم ہیں، ثانیاً یہ بھی حقیقت ہے کہ اضافہ محض پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نہیں ہوا بلکہ اس کیساتھ ہی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوگیا۔ زرعی شعبہ میں ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویلوں پر کسانوں کے اخراجات بڑھنے سے زیر کاشت فصلوں پر فی ایکڑ اخراجات میں اضافہ ہوگا اس طور جب یہ فصلیں مارکیٹ میں آئیں گی تو اخراجات اور مقرر کردہ قیمتوں میں عدم توازن سے نیا بحران جنم لے گا۔ کورونا وبا سے پیدا شدہ حالات میں آمدنی اور اخراجات کا عدم توازن سب کے سامنے ہے، اسی دوران بعض حکومتی اقدامات کے باوجود روزمرہ ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں کو اعتدال پر نہ رکھا جا سکا جس کے نتیجے میں برپا مہنگائی کے سیلاب نے سفید پوش اور کمزور طبقات کی زندگی اجیرن کردی۔ پیٹرولیم مصنوعات میں ہوئے حالیہ اضافے کے اثرات مجموعی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت پر لگ بھگ 47روپے ٹیکس وصول کرتی ہے۔ قیمتیں بڑھانا اس قدرہی نا گزیر تھاتو حکومت اور پیٹرولیم کمپنیاں مل بیٹھ کر صارفین کو ریلیف دینے کیلئے اقدام کرتے، دونوں اپنے خالص شرح منافع میں ہی اگر تناسب کے اعتبار سے کچھ کمی کرلینے پر آمادہ ہو جاتے تو مناسب ہوتا۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ مارچ کے وسط سے جب پیٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی منڈی میں قیمتیں کم ہونا شروع ہوئیں اس وقت سے 25جون کے درمیان پیٹرولیم کمپنیوں نے عالمی منڈی سے پیٹرولیم مصنوعات کے جو سودے کئے وہ روزبروز کم ہوتے نرخوں پر تھے مگر مقابلتاً پاکستان میں فی لیٹر قیمت فروخت عالمی مارکیٹ میں گرتی ہوئی قیمتوں کے مقابلہ میں زیادہ تھی۔ گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا، اس سے ایک اندازہ کے مطابق پیٹرولیم کمپنیوں کو راتوں رات 6ارب روپے اور پیٹرول پمپ مالکان کو 3ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔ غور طلب امر یہ ہے کہ 9ارب روپے کا یہ فائدہ محض ایک فیصلے کا مرہون منت ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے دوران ہوئے سودوں کی بدولت منافع کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہے۔ تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں پچھلے برس ہوئے 200فیصد اضافے’ بعد ازاں چینی اور گندم و آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی لہر اور مجموعی طورپر ایک سال کے دوران بڑھنے والی مہنگائی ان سب کو کورونا سے پیدا حالات سے جوڑ کر نہیں پیش کیاجاسکتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ گندم کی حالیہ مارکیٹ میں آئے محض دو ماہ ہوئے ہیں لیکن فی من گندم کی کھلی مارکیٹ میں قیمت 2ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ وفاقی حکومت صورتحال سے نمٹنے کیلئے بیرون ملک سے گندم منگوانے کی منظوری دے چکی لیکن اس سوال کاجواب دینے سے گریز کیا جا رہا ہے کہ مہنگی گندم بیرون ملک سے منگوانے کی بجائے مقامی کاشتکار کی داد رسی سے اجتناب کیوں برتا گیا؟ ہم اگر رواں مالی سال ( جس کے اختتام میں فقط ایک دن باقی ہے) کے دوران مہنگائی میں خوفناک اضافے کی بنیادی وجوہات پر غور کریں تو فقط ایک بات واضح ہو تی ہے وہ یہ کہ کسی بھی مرحلہ پر عام آدمی کے مفاد اور اس کی حالت زار کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر وزیر اعظم کے مشیر پیٹرولیم کا جو موقف سامنے آیا وہ حکومتی ترجمان سے زیادہ پیٹرولیم کمپنیوں کا مؤقف قرار پائے گا۔ اسی طرح یہ امر بھی قابل غور ہے کہ مختلف شعبوںمیں ذاتی اور خاندانی کاروباری مفادات کے حامل حکومتی مشیران عوام کیلئے بہتر حالات کی حکمت عملی وضع کرنے کی بجائے اپنے کاروباری مفادات کو اولیت دیتے ہیں۔ اندریں حالات تو نرم سے نرم الفاظ میں یہی کہاجاسکتا ہے کہ حکومت مختلف شعبوں کے مافیاز کے مقابلہ میں بے بس ہے کیونکہ مافیاز کے مفادات کا تحفظ کرنے والے حکومت میں بیٹھے ہیں۔