کورونا وبا اور شہریوں کی ذمہ داری

چار ہزار سے زائد اموات اور دو لاکھ سے تجاوز کر گئے کورونا مریضوں کے باوجود ملک میں اس حوالے سے جو عمومی رویہ اور سوچ ہے اس میں تبدیلی محسوس نہیں ہو رہی، اس پر ستم یہ ہے کہ صوبوں نے 25جون سے کورونا ٹیسٹوں کی روزانہ تعداد میں کمی کردی ہے۔ کیوں؟ اس سوال کاجواب بہرطور وفاقی و صوبائی وزارت صحت اور این ڈی ایم اے کے ذمہ داروں کو دینا چاہئے۔ این سی او سی کے بقول ڈیمانڈ ٹیسٹنگ میں کمی آئی ہے؟ ایسا ہے تو پھر ملک کے 20بڑے شہروں میں سمارٹ لاک ڈائون والے علاقوں میں اضافہ کیوں کیا جا رہا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں سمارٹ لاک ڈائون کی حکمت عملی اپنائی گئی وہاں لاک ڈائون والے علاقوں کے مکینوں کے ٹیسٹوں کو اولیت دی گئی، ہمارے یہاں ان علاقوں میں ٹیسٹ توکیا ہوتے لاک ڈائون کیلئے وضع کردہ اصولوں پر ہی عمل نہیں کروایا جا رہا۔ بنیادی طورپر یہ دیکھنا حکومت کاکام ہے کہ متعلقہ قوانین اور وضع کردہ ضوابط پر سختی سے عمل ثانیاً یہ کہ ہسپتالوں میں دستیاب سہولتوں کے حوالے سے متعلقہ حکام کے دعوئوں اور زمینی صورتحال میں یکسانیت نہیں ہے حکومت اس پر بھی توجہ دے اور خود شہریوں کو بھی وبا سے نمٹنے کیلئے حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔
اتحادیوں کی شکایات دور کرنا از بس ضروری ہے
وفاقی حکومت کے اتحادیوں میں بڑھتی ہوئی دوریوں کانوٹس لیتے ہوئے وزیر اعظم نے اگلے روز ہدایت کی ہے کہ اتحادیوں سے کئے جانے والے معاہدوں پر عمل در آمد بالخصوص اب تک کی پیش رفت سے انہیں آگاہ کیا جائے، نیز اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ معاہدوں کی پاسداری ہو۔ وزیر اعظم کا اس مسئلہ پر متوجہ ہونا خوش آئند بات ہے۔ حکومتوں کی تشکیل کیلئے سیاسی اتحادوں کا بننا اور ان کے درمیان مسائل کے حل کیلئے عہد و پیمان سیاسی عمل کاحصہ ہے۔ اخلاقی طورپر اتحاد کے بڑے فریق (بڑی جماعت) کی ہی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ اتحادیوں کیساتھ جو معاملات طے پائے ہیں ان سے صرف نظر نہ ہو، مثال کے طور پر وفاقی حکومت کے بلوچ اتحادیوں کے تین اہم مسائل ہیں اولاً مسنگ پرسنز کا معاملہ’ ثانیاً وفاقی محکموں اور اداروں میں بلوچستان کا جائز قانونی حصہ اور ثالثاً بلوچستان کے جعلی ڈومیسائل پر وفاقی اداروں میں ملازمتیں حاصل کرنے والے۔ پچھلے دو سالوں کے دوران اگر حکومت نے ان تین مسائل کے حل میں دلچسپی لی ہوتی تو اس کے بلوچ اتحادیوں کو ناراض ہونے کا موقع نہ ملتا، بہر طور وزیر اعظم کی حالیہ ہدایت کے بعد یہ توقع کی جانی چاہئے کہ معاملات بہتری کی طرف بڑھیں گے، چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے اتحادیوں کی جائز شکایات کا کم سے کم وقت میں حل تلاش کرلیا جائے گا تاکہ کوئی سیاسی و پارلیمانی بحران نہ پیدا ہونے پائے۔
پی ٹی ایم کا مثبت جواب
وفاقی حکومت کی جانب سے پشتون تحفظ مومنٹ کو مسائل و شکایات کے حل کیلئے مذاکرات کی دعوت دئیے جانے کے بعد گزشتہ روز پی ٹی ایم کی قیادت نے حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادگی ظاہر کردی۔ پی ٹی ایم کا یہ فیصلہ معروضی حالات اور درپیش مسائل کے تناظر میں خوش آئند ہے اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ مذاکرات کیلئے ساز گار ماحول قائم کرنے کیلئے مؤثر اقدامات حکومت کی ذمہ داری ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ پی ٹی ایم کی جانب سے مذاکرات کی حکومتی دعوت قبول کئے جانے کے بعد حکومت کسی تاخیر کے بغیر ان شکایات و مسائل کے حل کیلئے بھرپور اقدامات کرے گی جن سے اعتماد سازی میں اضافہ ہو اورخوشگوار ماحول میں مذاکرات شروع ہوں تاکہ ملک اور امن و ترقی کے دشمن حکومت اور پی ٹی ایم کی دوریوں سے فائدہ نہ اُٹھا سکیں۔ اس مرحلہ پر یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ اگر حکومت پچھلے دنوں درج ہوئے چند مقدمات پر نظرثانی کرلے تو اس سے بھی مثبت نتائج حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔