آدمی بلبلہ ہے پانی کا

حالات جیسے بھی ہوں زندگی کا سفر جاری رہتا ہے، یہ ہمیشہ آگے بڑھتی رہتی ہے، کرونا وائرس نے کھیل کے میدان بند کر دئیے، بازار بند ہوگئے، ٹرانسپورٹ رک گئی، لوگوں نے اسی میں بہتری سمجھی کہ گھر وں میں اپنے آپ کو مقید کرلیں لیکن اس وبا کیخلاف انسان لڑتا رہا جنگ جاری رہی، کورونا وائرس کیخلاف اگلے مورچوں میں لڑنے والے مسیحا جہاں لوگوں کی جانیں بچاتے رہے وہاں اپنی جان کی بازی بھی ہارتے رہے۔ اس وقت تک وطن عزیزمیں 89ڈاکٹرز اس وائرس سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اس وبا کے کچھ پہلو ایسے بھی ہیں جن پر بہت کم غور کیا جاتا ہے۔ اس نے لوگوں کو اپنے ساتھ بات کرنے اپنے گریباں میں جھانکنے کا موقع فراہم کیا، تنہائی میں بیٹھ کر سوچنے کا موقع دیا، اپنے اعمال پر ازسرنو غورکرنے کی دعوت دی۔ فی الحا ل ہم اس پر بات نہیں کرتے کہ یار لوگوں نے اپنی اصلاح کس حد تک کی؟ ٹرانسپورٹ رک گئی، لوگوں نے گھر بیٹھنے کو ترجیح دی تو ماحول کی آلودگی کافی حد تک کم ہوگئی۔ وائرس نے ہمیں یہ بھی سکھا دیا کہ بہت سے کام بہت سی چیزوں کے بغیر بھی کئے جاسکتے ہیں جنہیں ہم زندگی کا اٹوٹ انگ سمجھتے رہے ہیں۔ وہ ہماری زندگی کیلئے ناگزیر نہیں ہیں ان کے بغیر بھی زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ جب سے وطن عزیز میں شادی ہال کلچر متعارف ہوا ہے ہم اس کے بغیر شادی کرنے کا تصور ہی نہیں کرسکتے، ہم نے کبھی اس پر سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ شادی ہال مالکان صرف 2دنوں کے ہم سے لاکھوں روپے شادی ہال کے کرائے کی مد میں وصول کرلیتے ہیں۔ یہ رقم کہیں اور بھی تو خرچ کی جاسکتی ہے؟ وبا کے دنوں سے پہلے کی بات ہے، ہمارے ایک دوست نے شادی کی تو ولیمہ انتہائی سادہ اور مختصر تھا جب ہم نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا، یار تھوڑی دیر کی بات ہے لوگ آتے ہیں اور کھانا کھا کر چلے جاتے ہیں، خوش پھر بھی کوئی نہیں ہوتا کسی کا کہنا ہوتا ہے کہ قورمے کا ایک پیالہ مانگا جو ہمیں نہیں ملا! کوئی کہتا ہے یار چاول ٹھنڈے تھے! کوئی یہ فریاد کرتا نظر آتا ہے کہ چکن اچھی طرح روسٹ نہیں کیا گیا تھا! میں نے سوچا ہم نے ویسے ہی نام ونمود کیلئے اس قسم کے جھنجھٹ پال رکھے ہیں، ولیمے پر اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کی بجائے اگر اس رقم کو محفوظ کردیا جائے تو کل یہی پیسے اپنے بچوں کی تعلیم پر لگائے جاسکتے ہیں، آخر اتنے بڑے ولیمے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا مختصر ولیمہ نہیں دیا جاسکتا؟ ہمارے پیارے دین میں تو فضول خرچ کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے تو پھر کیوں ہم اپنے کھلے دشمن کے بھائی بننے پر تلے ہوئے ہیں؟ ہمیں اس وقت بھی اپنے دوست کی باتوں میں بڑا وزن محسوس ہوا تھا اورآج بھی ہمارا یہی خیال ہے کہ سادگی بہت بڑی نعمت ہے، انسان بہت سی مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچ جاتا ہے۔ اس قسم کے موضوعات پر ہم کالم بھی لکھتے رہے اور زبانی کلامی بھی دوستوں کو سمجھاتے رہے لیکن نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے، جو کام ہم نہیں کرسکے وہ کورونا نے کردیا۔ صرف پشاور شہر میں وبا کے ان دنوں میں دو ہزار جوڑوں کی شادی بڑی سادگی سے ہوگئی۔ یہ کتنی خوشی کی بات ہے اور کتنی بڑی خبر ہے۔ شادی ہالوں کی بندش کی وجہ سے لوگ اپنے پرانے طریقے کی طرف لوٹ آئے، پہلے جس طرح گھروں میں شادیاں ہوا کرتی تھیں اپنے گھر سے بچی کی ڈولی اُٹھنے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ پڑوسی اپنے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیا کرتے تھے، اپنی گلی کو سجایا جاتام سب پڑوسی مل جل کر کام کرتے، محبت تھی اتفاق تھا کوئی اونچ نیچ نہیں تھی، محلے کی بیٹی سب کی بیٹی ہوا کرتی تھی۔ اب ہمیں کورونا وائرس نے پرانی روایات کی طرف لوٹنے پر مجبور کردیا ہے۔ شادی ہالوں کی بندش اور حکومت کی جانب سے سماجی تقاریب پر پابندی کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہماری نوجوان نسل کو بھی پتہ چل گیا کہ ان کے ماں باپ کی شادیاں کس طرح ہوا کرتی تھیں۔
جن لوگوں نے سادگی سے شادیاں کی ہیں ان کا کہنا ہے کہ صرف پچاس ساٹھ ہزار روپے میں شادی ہوگئی، لاکھوں روپے خرچ ہونے سے بچ گئے، اب اس رقم کو دوسرے تعمیری کاموں میں خرچ کیا جاسکتا ہے، کبھی یہ خیال آتا ہے تو دل میں ایک ہوک سی اُٹھتی ہے کہ اے کاش ہم نے کورونا وائرس سے اور بھی بہت کچھ سیکھا ہوتا۔ ہمیں حقیقی معنوں میں زندگی کی بے ثباتی کو دیکھنے کا موقع ملا، ہمیں اس بات پر یقین کامل ہوگیا کہ
کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
آدمی بلبلہ ہے پانی کا
لیکن ہم کچھ نہیں سیکھ پائے، ہم چند ٹکوں کی خاطر ذخیرہ اندوزی کرتے رہے، گھروں میں سینیٹائزر بنا کر بیچتے رہے، ڈیٹول کی مانگ بڑھتے ہی ڈیٹول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور ڈیٹول گھروں میں تیار کی جانے لگی۔ ایک عام سی جڑی بوٹی ثنا مکی کی قیمت ہزاروں روپے ہوگئی، اس وبا کے دوران ہم نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ ہم اس سے عبرت حاصل نہیں کرپائے، ہم نے کتنے خوبصورت اور محبت کرنے والے لوگ کھو دئیے مگر ہم نے اپنی بے ڈھنگی چال نہیں بدلی، ہم اپنے کردار کو نہیں سنوار سکے۔