اُسامہ شہید یا ہلاک؟

سردجنگ کے خاتمے کے نتیجے میں تشکیل پانے والی یونی پولر دنیا کی عمر تیس سال ہو چکی ہے مگر ان تیس برسوں سے دنیا کے سٹیج پر دہشتگردی کیخلاف جنگ کے نام سے ایک ڈرامہ جاری ہے اور ڈرامے میں ہیرو کا کردار سکرپٹ رائٹر نے امریکہ کو دیا اور اس میں ولن کے ایک اہم کردار کا نام اُسامہ بن لادن ہے، یہ تو امریکہ کی تقسیم اور فیصلہ ہے۔ اُسامہ ہیرو یا ولن، شہید یا ہلاک اس بارے تاریخ کا فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔ نائن الیون کو دوعشرے ہونے کو ہیں مگر ابھی جڑواں میناروں کے ملبے سے اُٹھنے والا گرد وغبار فضا میں موجود ہے۔ دنیا نائن الیون کے اثرات سے پوری طرح باہر نہیں آئی۔ نائن الیون کے بعد اپنائی جانے والی اصطلاحات اور محاورے ابھی پوری طرح مستعمل ہیں۔ اس گرد وغبار میں بہت سے چہرے اور کردار ابھی دھندلے ہیں، اُسامہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔ ابھی اُسامہ کے بارے میں تاریخ کا بڑا فیصلہ آنا باقی ہے اور یہی اسامہ کے مقام کا تعین کرے گا۔ یہ ماننا پڑے گا کہ یک قطبی دنیا کی واحد طاقت نے دنیا پر ایک سحرطاری کر رکھا تھا۔ بڑے بڑے ملک اور کردار اس جادوئی اثر کی زد میں تھے۔ یک قطبی نظام کو بدلنے اور توازن قائم کرنے کی خواہش اگر کسی طاقت کے دل میں موجود بھی تھی تو اس کی مثال حالات کے خاکستر میں دبی ہوئی چنگاری سے زیادہ نہیں تھی۔ یہ عرب کا متمول شخص بن لادن تھا جس نے اس یک رنگی اور یک رُخی دنیا کو بدل ڈالنے کا اور زمانے کی لہروںکے اُلٹے رخ چلنے کا مشکل فیصلہ کیا۔ امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم امن کی کوششوں کے پیچھے مسائل کو غیرمنصفانہ انداز میں ٹھکانے لگانے کی خواہشات کے آگے بندھ باندھنے والا کوئی باقی نہیں رہا تو ایک شخص اُٹھ کھڑا ہوا۔ شاید یہ اصول فطرت کے ہی خلاف تھا کہ دنیا میں صرف ایک طاقت کی کارفرمائی اور ایک طاقت کی حکمرانی ہو۔ ردعمل اور مخالفت کے بغیر دنیا کی تصویر مکمل ہی نہیں ہوتی اور جب چین اور روس جیسے ملک بھی ردعمل پر قادر نہ تھے تو اُسامہ بن لادن نے یک قطبی عالمی نظام کو چیلنج کیا۔ یہ بھی صرف امریکہ کی بیان کردہ کہانی اور پیش کردہ تصویر کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے۔ ابھی اس ضمن میں بہت سے حقائق سامنے آنا باقی ہیں۔ امریکہ نے اُسامہ کی تلاش کے پورے دور میں یہ دعویٰ کیا کہ وہ اُسامہ کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ مغربی اصطلاح یہی ہے کہ وہ کبھی ملزم کو سزا دینے کی بات نہیں کرتے، ان کے ہاں ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا محاورہ عام ہے۔ مدتوں امریکی اُسامہ بن لادن کو افغانستان کے پہاڑوں اور پاکستان کے میدانوں میں تلاش کرتے رہے، جب اسے ڈھونڈ لیا تو وہ انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا اپنا وعدہ فراموش کر بیٹھے اور اُسامہ بن لادن کو کسی عدالتی نظام سے گزارنے کی بجائے موقع پر قتل کر دیا۔ یہی نہیں اُسامہ افسانے کا انجام بھی کچھ اس قدر حتمی تھا کہ ان کا جسد خاکی بھی سمندر برد کر دیا گیا۔ یوں ایک کہانی ختم ہو گئی اور ایک نئی کہانی لکھنے کا آغاز ہوگیا۔ اب وقت ثابت کر رہا ہے کہ جو آنکھ مچولی کھیلی گئی وہ آج پوری طرح کھل کر سامنے آرہی ہے۔ جب ایک نئی سرد جنگ کے خدوخال پوری طرح نکھر کر سامنے آرہے ہیں، جنوبی چین کے سمندروں میں ایک بڑی فوجی سرگرمی بتا رہی ہے کہ سوویت یونین کے بعد چین کے گھیراؤ کا ہدف مقرر کر لیا تھا، باقی سب سرگرمیاں اس منزل تک پہنچنے کی کوشش تھی۔ ایسے میں وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اُسامہ بن لادن کیلئے شہید کے الفاظ استعمال کئے۔ یہ زبان کی پھسلن نہیں تھی کیونکہ انہوں نے ہلاک کا لفظ ادا کرنے کے بعد دوبارہ شہید کا لفظ استعمال کیا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کی طرف سے اُسامہ کو شہید کہنے کی بات کی وضاحت سے گریز کیا۔ تردید ہو بھی کیسے؟ وزیراعظم نے صرف شہید ہی نہیں بلکہ انہوں نے امریکہ کی اصطلاح ”دہشت گردی کیخلاف جنگ” کو نہایت بیزاری سے امریکہ کی جنگ کہا۔ عمران خان اس جنگ کو امریکہ کی جنگ کہہ کر اس کا ڈاؤن پلے کر رہے ہیں تو اس جنگ کے امریکی تراشیدہ ولن کیلئے شہید کے الفاظ کہنا چنداں حیرت انگیز نہیں۔ اس پر اپوزیشن کا شور وغل محض اختلاف کی روایتی رسم ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ اور پاکستان اس جنگ میں دوالگ سمتوں میں چلتے رہے، امریکہ نے دبوچ کر پاکستان کو اس جنگ میں اپنے ساتھ کھڑا کیا وگرنہ یہ دو متصادم اور دو متضاد مفادات اور نظریات کا معاملہ تھا۔ امریکہ آج کے اُبھرتے ہوئے نقشے میں پاکستان کے اس مقام کا تعین چاہتا تھا جہاں آج پاکستان موجود نہیں اور پاکستان وہیں کھڑا ہونا چاہتا تھا جہاں وہ آج کھڑا ہے۔ امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی دہشتگردی کے بارے میں حالیہ رپورٹ میں پاکستان کے کردار پر سوالیہ نشان کھڑا کرنا اور دوسرے ہی دن عمران خان کا اُسامہ کو شہید کہنا بتا رہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تضادات کی خلیج نہ صرف آج بھی قائم ہے بلکہ اس میں مزید وسعت آگئی ہے۔