متبادل کی تلاش

پاکستان کے عوام نے پی ٹی آئی کو مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے متبادل اور بہتر آپشن کے طور پر قبول کیا اور حکومت سازی سے لیکر معاملات کو چلانے کیلئے وقت بھی دیا لیکن کارکردگی محتاج بیان نہیں ہے اب جبکہ یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ جن لوگوں پہ ہم نے اعتماد کیا تھا ان میں قابلیت نام کی کوئی چیز ہے اور نہ ہی وہ متبادل یا بہتر آپشن کے طور پر کام آسکتے ہیں تو ہمیں ایسے لوگوں سے برات کا اعلان کرتے ہوئے دیر نہیں لگانی چاہئے جس طرح کہ ہم نے مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی کو مسترد کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی اور انہیں احساس دلایا کہ عوام ان کی جگہ کسی دوسری جماعت کی حمایت بھی کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے خود ایک بار پھر اپنی کابینہ کو ”کارکردگی” بہتر بنانے کیلئے چھ ماہ کا ”الٹی میٹم ”دیا ہے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے وزراء کو اس طرح کے الٹی میٹم پہلے بھی دئیے جاتے رہے ہیں جس کی بنیاد پر محض وزراء کے قلمدان تبدیل ہوتے آئے ہیں جبکہ وزرائ، مشیران اور معاون خصوصی کسی نہ کسی صورت میں کابینہ کیساتھ جڑے رہے ہیں۔ بہرکیف اس بار الٹی میٹم کے حوالے سے معاملہ کچھ زیادہ سنگین معلوم ہوتا ہے کیونکہ میڈیا نے یہاں تک رپورٹ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے اگر وزراء نے اگلے چھ مہینوں میں اپنی کارکردگی کو بہتر نہیں بنایا تو ”معاملات” ان کی گرفت سے باہر ہوجائیںگے جس سے حکومت کمزور اور اپوزیشن مضبوط ہو جائے گی۔ دوسری جانب کابینہ کے حالیہ اجلاس کی اندر کی کہانی ہے جس نے پی ٹی آئی کی سیاسی سنجیدگی اور قومی خدمت کے جذبے کی نہ صرف قلعی کھول کر رکھ دی ہے بلکہ وزیراعظم عمران خان اور اس کی پارٹی کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ بات اب راز نہیں رہی کہ پی ٹی آئی کی حکومت اب تک عوام کو کسی بھی شعبے میں ریلیف نہیں دے سکی ہے اور جہاں تک اداروں میں کرپشن کے خاتمے کی بات ہے تو حکومت اب تک کوالٹی اور پرائس کنٹرول جیسے شعبوں پر بھی اپنی گرفت قائم نہیں کرسکی ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت اس وقت کہاں کھڑی ہے۔ لہٰذا سرکاری اداروں میں کرپشن کے خاتمے یا کمی کی باتیںمحض ہوائی ثابت ہوئی ہیں۔ دوسری جانب حکومتی نااہلی اور ناقص کارکردگی پر اپوزیشن کی خاموشی ہے جو حکومت کیخلاف عملی مزاحمت کرنے یا اس سلسلے میں اس کی صحیح سمت میں رہنمائی کرنے کی بجائے تماشہ دیکھ رہی ہے۔ جہاں تک حکومت کی غیرتسلی بخش کارکردگی بلکہ ناقص گورننس کا معاملہ ہے تو یہ پہلے دن سے ہی واضح ہو چلا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت بغیر کسی ہوم ورک کے محض جنون کی آمیزش کیساتھ حکومت میں آگئی ہے یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کی تشکیل اور قلمدان کی تقسیم کے معاملے میں میرٹ اور مہارت دونوں کو ہی نظرانداز کیا گیا۔ آج ملکی خارجہ پالیسی بھارتی خارجہ پالیسی کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے اور مسئلہ کشمیر سے لیکر سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت تک کے معاملے میں ہمیں پسپائی ہوئی ہے۔ اسی طرح اسد عمر کو نہ صرف وزیرخزانہ لگایا گیا بلکہ انتخابات سے پہلے اسے معاشی فلسفی کے طور پر بھی پیش کیا گیا لیکن وہ بھی اس شعبے میں ناکامی سے دوچار ہوئے اور اس کی جگہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ لے آئے اگر عالمی اداروں کے تنخواہ داروں سے ہی خزانہ امور چلانا مقصود تھا تو پھر کابینہ میں شامل وفاقی وزیر محمد میاں سومرو بہترین آپشن ہو سکتے تھے۔ قلمدان کی تقسیم کے معاملے میں عجلت کا یہی مظاہرہ وزارت اطلاعات ونشریات، ریلوے، موسمیاتی تبدیلی، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، مواصلات، تعلیم، صحت عامہ، قومی تحفظ خوراک اور صنعت وپیداوار جیسی اہم وزارتوں اور قلمدانوں میں بھی کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان کا تبدیلی کا نعرہ اور اداروں سے کرپشن کے خاتمے کے دعوے محض نعرے ثابت ہوئے ہیں اور اب یہ نعرے بھی دم توڑ رہے ہیں کیونکہ ملکی معیشت تیزی سے ابتری کی طرف بڑھ رہی ہے اور رہی سہی کسر کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے مسائل نے پوری کردی ہے۔ اب ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے وزراء کو کارکردگی بہتر بنانے کیلئے چھ ماہ کا الٹی میٹم دیا جانا اس امر کا اعتراف ہے کہ حکومت کو ناقص کارکردگی کا عارضہ لاحق ہے اور اس کے علاج کیلئے جوں جوں دوا کی جارہی ہے یہ عارضہ مزید بگڑتا جارہا ہے اور نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ حکومت مصنوئی سانس لے رہی ہے۔ یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ملک وقوم کی تقدیر سنوارنے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو آخری آپشن کے طور پر پیش کرنے والی طاقتور اشرافیہ اس وقت کیا سوچ رہی ہے اور وہ ”متبادل” کے طور پر کہاں نظریں جماکر بیٹھی ہیں۔ حالات سے معلوم ہو رہا ہے کہ ایک بار پھرملکی سیاست کو بند گلی کی طرف دھکیلا جارہا ہے بلکہ دھکیل دیا گیا ہے۔ ایسے میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو ایک بار پھر ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کو ”میثاق جمہوریت”جیسے فارمولے کی طرف لانا چاہئے جس میں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قوم پرستوں کو خصوصی طور پر شامل کیا جائے۔ جمہوریت کے بہتر مستقبل کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی قوتیںکھلی فضاء میںسانس لیں نہ کہ خود کو گھٹن زدہ ماحول کا اسیر بنا لیں۔