کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے چند تجاویز

کرونا وائرس آیا اور پوری دنیا میں ایسی بڑی تبدیلی لایا کہ دنیا کے کئی حکمران باوجود بڑے برے دعوؤں کے وہ کچھ نہیں کر سکے نہ کر سکتے تھے جو اس وباء نے کیا۔ وہ دنیا جو بڑے بڑے منصوبوں میں گم تھی نہ انسانی جان کی اہمیت تھی، نہ صحت کی وہی دنیا بلبلا اُٹھی اور تمام منصوبوں کو چھوڑ کر اسی ایک منصوبے پر توجہ مرکوز ہوگئی اگرچہ نقصان کو روکا تو نہیں جا سکا لیکن کم کرنے کی کوشش ضرور کی گئی جس کیلئے مختلف ایس او پیز بنائی گئیں۔ پاکستان بھی پوری دنیا کی طرح اس کی زد میں آگیا اگرچہ دیر سے آیا لیکن وقت کیساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی روک تھام کیلئے قابل عمل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس بیماری کے جسمانی اثرات کیساتھ ساتھ نفسیاتی اثرات بھی بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے متعلق سہولیات بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوں تو اُس کے زیادہ متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان انتہائی تشویشناک اور افسوسناک حالات میں بھی منافع حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ سب سے پہلے مختلف قسم کے ماسک اپنی اصل قیمت سے کئی کئی گنا زیادہ قیمت میں بکنے لگے، ناقص قسم کے ماسک بھی تیار ہونے لگے، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں یہ بھی نظر آیا کہ سڑیٹ ہاکر بچہ سڑک کے کنارے سے ماسک اُٹھا رہا ہے۔ بڑی بڑی دکانوں نے بھی ماسک مہنگے داموں بیچنے شروع کئے۔ اس کے بعد ٹیسٹوں کا معاملہ آیا تو ایک ٹیسٹ آٹھ دس ہزار روپے میں کیا جانے لگا۔ پرائیویٹ ہسپتالوں نے ایک مریض کے علاج کے لاکھوں روپے لئے اور لے رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ روزانہ تقریباً ایک لاکھ تک بن جاتے ہیں جس کا دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں جبکہ دوسری طرف کرونا ایسا وبائی مرض ہے کہ گھر میں ایک کو لگ جائے تو دوسروں کو لگنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور یوں ایک گھر میں کئی کئی مریض ہو سکتے ہیں جن کا پرا ئیویٹ ہسپتالوں میں علاج ایک عام پاکستانی کیلئے کسی طرح ممکن نہیں لہٰذا اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ان پرائیویٹ ہسپتالوں کو من مانے ریٹ لگانے سے روکا جائے اور ایک معیار مقرر کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا علاج ممکن بنایا جاسکے۔ اسی طرح کئی جگہوں سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ہسپتالوں میں آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری کے مریضوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یہ آکسیجن یا تو ہوتی نہیں ہے یا مہنگے داموں فراہم کرنے کیلئے پہلے سے ہی کہہ دیا جاتا ہے کہ ”نہیں ہے”۔ ہسپتالوں کو کافی آکسیجن فراہم کرنے کے احکامات دئیے جائیں تاکہ اگر وینٹیلیٹر کی سہولت میسر نہ بھی کی جاسکے تو کم ازکم آکسیجن کی فراہمی تو یقنی بنائی جائے۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق اگرچہ وینٹیلیٹرز کی ابھی تک کمی نہیں آئی لیکن حقیقت میں کئی مریض وینٹیلیٹر نہ ملنے کے باعث بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں تو اگر کمی نہیں ہے تو ضرور تحقیق کی جائے کہ کیوں کسی مریض کو اسے فراہم نہیں کیا گیا۔ سرکاری ہسپتالوں کے حالات بہتر بنانے اور وسائل بڑھانے کی انتہائی ضرورت ہے کیونکہ پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کرنا ایک دوفیصد کے علاوہ لوگوں کیلئے ممکن نہیں اور پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان کیلئے بھی درآمدی پالیسی کو آسان بنایا جائے تاکہ وہ دواؤں اور دیگر ضروریات کو باآسانی اور بہتر نرخوں پر منگوا سکیں اور پھر حکومت ان ہسپتالوں کو اپنے چارجز عام آدمی کی پہنچ تک لانے کا پابند کرے۔ یہ تو ہسپتالوں کے اندر انتظامات کیلئے کچھ تجاویز ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری مرض کا پھیلاؤ روکنا ہے لہٰذا اس کیلئے بھی منصوبہ بندی انتہائی ضروری ہے جیسا کہ سلیکٹڈ لاک ڈاؤن سے کرونا پازیٹو کیسز میں کمی آئی ہے لیکن اس معاملے پر مزید کام کرنیکی ضرورت ہے اور صوبائی حکومتوں کو ضلعی انتظامیہ کو یہ ذمہ داری دینی چاہئے کہ ایسے مقامات کی تلاش کرے جہاں جہاں اس مرض کے زیادہ کیسز ہیں تاکہ وہاں لاک ڈاؤن کیا جاسکے۔ ہم عوام کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے اور وہ ہے تمام حفاظتی اقدامات کو بروئے کار لانا اور ایس او پینر پر عمل کرنا، کم سے کم گھروں سے نکلنا اور زیادہ سے زیادہ ہجوم سے اجتناب کرنا تو اگر اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال رہی تو اُمید ہے کہ اس کے پھیلاؤ کو قابو میں رکھ کر معاملات کو کم سے کم نقصان تک محدود رکھا جا سکتا ہے، منصوبہ بندی حکومتی سطح سے لیکر شخصی سطح تک ہونی چاہئے اور پھر اس منصوبہ بندی پر سختی سے عمل درآمد ہمارے اس بیماری سے بچاؤ میں بہت حد تک ممد ومعاون ثابت ہو سکتا ہے۔