محکمہ بلدیات نے بکرا منڈیوں کے حوالے سے احکامات جاری کر دیئے – کامران بنگش

پشاور:محکمہ بلدیات نے بکرا منڈیوں کے حوالے سے احکامات جاری کر دیئے،تمام متعلقہ حکام کو اعلامیہ جاری کر دیا گیا، اعلامیہ کے مطابق میونسپل انتظامیہ کی حدود سے باہر تمام بکرا منڈیاں بنائے جائیں گے،شہر کی حدود میں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی کو یقینی بنایا جائے گا،

کامران بنگش نے کہا کہ ترجیحاً ذی الحجہ کے آغاز پر جتنا جلد ممکن ہو سکے بکرا منڈیوں کا قیام عمل میں لا رہے ہیں،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بکرا منڈی کا معائنہ اور تصدیق نامہ جاری کرنا ضروری ہوگا،تمام غیر رجسٹرڈ بازار/منڈی لگانے پر پابندی ہوگی،پبلک، نجی اور کمیونٹی تنظیموں کی جانب سے اجتماعی قربانی کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی،

بھیڑ سے بچنے کے لئے ایک بڑی منڈی رکھنے کی بجائے بکرا منڈیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا،بھیڑ سے بچنے کے لئے بکرا منڈیوں کو چوبیس گھنٹے فنکشنل رکھا جائے گا،بکرا منڈی کے لئے ایک معیاری ترتیب کو اپنا رہے ہیں،کام کے بوجھ سے بچنے کے لئے قربانی کے لئے عید کے تینوں دن کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی،

عید کے دنوں میں پانی کی فراہمی، حفظان صحت/ صفائی ستھرائی کے انتظامات مکمل کرنے کی احکامات جاری کیے ہیں،جانوروں کے باقیات ٹھکانے لگانے کے لیے خصوصی تحلیل شدہ بیگ تقسیم کیے جائیں گے،قربانی کے جانوروں کو فروخت اور خریداری کے مقاصد کے لئے شہروں تک محدود رکھنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں،ایس او پیز کے کوآرڈینیشن اور عملدرآمد کے لئے بکرا منڈیوں کے ٹھیکیداروں / مینیجرز اور مختلف مذہبی مدارس اور دیگر تنظیموں کے ساتھ ضلعی سطح پر میٹنگ ہوگی،

بکرا منڈی کے قریب اور عید کے دنوں میں ٹریفک جام اور سڑکوں کی رکاوٹوں سے بچنے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ٹریفک مینجمنٹ کے جامع پلان کی تیار کر رہے ہیں،”نو ماسک نو سروس” کو منڈی کے اندر سب کے لئے بنیادی اصول کے طور پر اپنانا ہوگا،منڈی کے اندر بچے اور 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی،

داخلے کے تمام مقامات پر ہاتھ صاف کرنے اور ہاتھ دھونے کے انتظامات یقینی بنائیں گے،جراثیم کش پانی کے ذریعہ سے منڈی حدود کی باقاعدہ ڈس انفیکشن ہوگی،منڈی کے تمام داخلی مقامات پر تھرموگن کا استعمال ہوگا،متعلقہ انتظامیہ صفائی ستھرائی کے حوالے سے خصوصی مہم بھی چلائیں گے،کورونا کے پیش نظر خصوصی احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔