ملک کی 72 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے – اجمل وزیر

پشاور: مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا اجمل وزیر نے کہا کہ ملک کی 72 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے، قبائلی اضلاع انضمام  مشکل کام تھا لیکن وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ہم نے اسے مکمل کیا، ہماری حکومت نے 5 سال کا کام 15 ماہ میں کیا ، پہلی مرتبہ نئے ضم اضلاع میں شفاف انتخابات کروائے گئے،

قبائلی اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کے ذریعے لوگوں کو  صحت کی سہولت دے رہے ہیں، خاصہ دار فورس کو پولیس میں ضم کیا, کسی کو بے روزگار نہیں ہونے دیا، ہم  موجودہ اداروں کو مزید فعال اور مضبوط بنا رہے ہیں، ملک کی تاریخ میں پہلی بار قبائلی عوام کو وکیل، دلیل اور اپیل کا حق ملا ہے، وزیراعظم عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جو قبائلی عوام کے پاس خود گئے،

سندھ ضم اضلاع کی ترقی کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 3 فیصد حصہ نہیں دے رہا، ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے خیبر پختونخوا تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے، خیبر پختونخوا میں کورونا کے سدباب کے لیے حکومتی اقدامات جاری ہیں، اسوقت صوبے کے مختلف اضلاع میں کل 214 متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون لگایاگیا ہے، ان متاثرہ علاقوں میں متاثرہ افراد کی تعداد 2ہزار 410 ریکارڈ کی گئی ہے ،

اسی طرح سمارٹ لاک ڈاون کی وجہ سے 8لاکھ 5ہزار877 افراد گھروں تک محدود ہیں، وزیراعلیٰ پختونخوا کی ہدایات پر چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ان سمارٹ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں انتظامات کی نگرانی کررہے ہیں، سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آرہے ہیں، سمارٹ لاک ڈاؤن کیوجہ سے کسی کا روزگار یا کاروبار زندگی متاثر نہیں ہورہا کیونکہ یہ مخصوص علاقے تک محدود ہے، صوبے کے ساتوں ڈویژن میں کیسز کی شرح کو مانیٹر کرکے سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جارہا ہے،

جون کے وسط میں لگائے گئے لاک ڈاؤن کی مدت پوری ہونے پر بہت سے علاقوں سے ہٹادیا گیا ہے،کل تک مختلف اضلاع کے 89 علاقوں سے سمارٹ لاک ڈاؤن ہٹا دیا گیا ہے، ان علاقوں میں 677 افراد کورونا سے متاثر تھے، ان علاقوں میں 35ہزار 752افراد کی نقل و حرکت محدود کی گئی تھی، جن علاقوں سے لاک ڈاؤن ہٹایا گیا ہے ان میں ضلع نوشہرہ کے ٹوٹل 15 علاقے، باجوڑ کے 12 علاقے، ایبٹ آباد کے 8 علاقےشامل ہیں، بنوں کے 2 علاقے، بونیر کے 4 علاقے، چارسدہ کے 4 علاقے، چترال اپر کے 2 ، مرادن کے 5 علاقے اور پشاور کے 4 علاقوں سے اب تک سمارٹ لاک ڈاؤن ہٹایا گیا ہے، اسی طرح جنوبی وزیرستان کا ایک علاقہ اور سوات کے تین علاقوں سے بھی سمارٹ لاک ڈاؤن ہٹایا گیا ہے۔