وفاقی دارالحکومت ، صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخواہ ماسٹر پلانز کو ازسر نو ترتیب دینے میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کیا جائے- وزیرِ اعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی دارالحکومت ، صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخواہ کے بڑے شہروں کے ماسٹر پلان کو ازسر نو ترتیب دینے کے حوالے سے جائزہ اجلاس

اجلاس میں مشیر ماحولیات ملک امین اسلم، ممبر قومی اسمبلی و ماہر ٹاؤن پلاننگ خیال زمان، چئیرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی ، سیکرٹری ہاؤسنگ و دیگر سینئر افسران شریک جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب سمیت صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے اعلیٰ حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

وزیرِ اعظم کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے بڑے شہروں کے ماسٹر پلانز کو دورِ حاضر کی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ کرنے اور ازسرِ نو مرتب کرنے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چند سالوں میں بڑے شہرو ں میں بغیر کسی منصوبہ بندی پھیلاؤ کی وجہ سے نہ صرف ماحولیات کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں بلکہ اس پھیلاؤ کی وجہ سے شہری سہولتوں کے حوالے سے پیچیدہ مسائل ، شہر وں میں واقع سر سبز علاقے محدود اور ملحقہ زرعی زمینوں کے رقبے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے فوڈسیکیورٹی کو بھی مستقبل میں شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہر شہر کے محرکات اور سماجی و معاشی سرگرمیوں کو مدنظر رکھ کر ماسٹر پلان میں ترامیم و اپ گریڈیشن کا عمل آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان کو از سر نو ترتیب دیتے ہوئے اس امر پر خصوصی توجہ دی جائے کہ شہری علاقے ملکی معیشت کے لئے انجن آف گروتھ کا کام سر انجام دیں اور اس سے نوجوانوں کے لئے نوکریوں اور معاشی سرگرمیوں کے بہتر مواقع پیدا ہوں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے میں بھی حکومت کی طرف سے مراعات کا مقصد شعبے کے فروغ و جدت کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

وزیرِ اعظم نے صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ شہروں کے ماسٹر پلانز کو ازسر نو ترتیب دینے میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کیا جائے تاکہ یہ کام جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ماسٹر پلانز کو حتمی شکل دینے کے روڈ میپ اور اس عمل کی تکمیل کے دوران عبوری لائحہ عمل پر مشتمل رپورٹ آئندہ ایک ہفتے تک مکمل کی جائے۔