تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات

میرے سامنے ایک دفتری حکمانہ پڑا ہے جو گومل یونیورسٹی کے رجسٹرار افس سے 24جون 2020کو جاری ہوا ہے۔ اس حکمانے میں مذکورہ یونیورسٹی میں تعینات سابق سربراہ شعبہ اسلامیات وعربی علوم کے پروفیسر صلاح الدین کی 24فروری 2020 سے نوکری سے برطرفی کے احکامات درج ہیں۔ حکمانے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ پروفیسر کی ملازمت سے برخاستگی جنسی ہراسانی کے الزامات سچ ثابت ہونے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ یاد رہے اس پروفیسر پر کئی سالوں سے یہ الزامات لگتے رہے لیکن علاقے کے بارسوخ لوگوں سے تعلق کی وجہ سے ہر بار بچتے رہے بلکہ ترقی بھی کرتے رہے۔ سوال لیکن یہ ہے کہ جب سال بھر کی تحقیقات میں یہ بات ثابت بھی ہوگئی کہ پروفیسر صاحب ان کاموں میں قصوروار رہے تو پھر ان جرموں کی سزا صرف ملازمت سے برخاستگی بنتی ہے یا آئین پاکستان کے مطابق کچھ اور؟ موصوف کی برخاستگی سے متاثرہ طالبات کی زندگیوں میں کیا بہتری آئے گی؟ اسی طرح گزشتہ ہفتے لاہور بیسڈ ایک مشہور نجی سکولز کے ایک اُستاد اور اس کے دو معاونین کی ملازمت سے برخاستگی ہوئی۔ وجہ میٹرک اور فرسٹ ایئر کے طالبات کو جنسی مواد پر مشتمل میسجز اور تصاویر ارسال کرنا تھا۔ متاثرہ طالبات نے سوشل میڈیا پر آوزا اُٹھائی تو سکولز انتظامیہ کی حرکت اور جرأت صرف ملازمین کی ملازمت سے برخاستگی تک رہی۔ علاوہ ازیں آئین، قانون، روایات اور تمام تقاضے رہے صرف کتابوں میں؟ کیا ملازمت سے برخاستگی سے متاثرہ طالبات کی مداوا ہوسکی گی؟ دیگر نجی سکولز کے مالکان اس واقعے کا نوٹس لیں گے؟ حکومت اس حوالے سے کچھ عملی اقدامات کر پائے گی؟ یا یہاں بھی مافیا کا دباؤ کا کام آئے گا؟ یہ تحریر لکھتے ہوئے یہ خبر بھی آپہنچی کہ بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے کی جرم میں ایک نیچے درجے کے اہلکارکو فارغ کیا گیا ہے جبکہ دیگر کیخلاف انکوائری رپورٹ پر عمل درآمد کی رپورٹ محترم چیف جسٹس نے طلب کیا ہوا ہے۔ یاد رہے مذکورہ یونیورسٹی میں سیکورٹی کیلئے لگے کیمروں کے ذریعے طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات پیش آئے تھے۔ سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا لیکن معاملہ ابھی لاینحل ہے ایسے میں متاثرہ طالبات اور ان کے والدین کے احساسات کیا ہوں گے؟ یہ سمجھنے کیلئے صرف احساس ہونا چاہئے لیکن اس معاشرے میں احساس کی نایابی نہیں تو کمیابی ضرور ہے۔ سندھ کیوں پیچھے رہے، جامعہ کراچی میں تعینات ایک اسسٹنٹ پروفیسر پر بھی ایسے الزامات لگے، سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا۔ تصفیہ نہ ہوسکا جوکہ بہت لازمی ہے کیونکہ اگر اُستاد قصوروار ہے تو سزا ملنی چاہئے لیکن اگر صرف الزامات ہیں تو الزام لگانے والوں کو سزا ملنی چاہئے تاکہ اُستاد کا اعلی مقام بچا رہے اور تعلیم گاہ کی تقدس محفوظ رہے۔
ایسے واقعات میں عموماً سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر بھی پیش کیا جا رہا ہے یوں کہئے کہ میڈیا ہینڈلنگ کا مسئلہ بھی ہو جاتا ہے، دوسری طرف عدالتوں اور جامعات کی سطح پر ذمہ دار اداروں یعنی سنڈیکیٹ وغیرہ کی طرف سے فیصلوں میں تاخیر سے بھی کشمکش بڑھتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسی روئیے سے عموماً اُستاد ہی کو بدنام کیا جاتا ہے اگرچہ یہ بھی تو ہوتا ہے کہ کچھ سٹوڈنٹس پاس ہونے یا اعلی گریڈ حاصل کرنے کیلئے اُستاد پر دباؤ ڈالتے ہیں لیکن جب اُستاد انکار کرے تو پھر یہ حربہ آزمایا جاتا ہے۔
درج بالا چند واقعات مشت ازنمونہ خروارے کی مصداق ہے وگرنہ رپورٹڈ اور ان رپورٹڈ واقعات کی تعداد کئی زیادہ ہے۔ ایسے میں ذمہ دار اداروں کا فرض ہے کہ تعلیم جیسے مقدس پیشے کو کالی بھیڑیوں سے صاف کرلیں تاکہ تعلیم گاہوں کی تقدس برقرار رہے۔ میڈیا سے بھی گزارش ہے کہ بہت ہوگئی یہ سیاست، کچھ وقت ان سنجیدہ موضوعات کیلئے بھی وقف کر دیں کہ یہ نسلوں کا مسئلہ ہے اور نسلوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا ہے ناکہ ان کے نصبوں اور عزتوں کو داغدار بنانا؟ آخری بات یہ کہ ان معاملات میں سارے صوبے ایک صفحہ پر ہیں یعنی تمام صوبوں میں ایسے ناپسندیدہ واقعات جنم لیتے رہتے ہیں۔