مشرقیات

سیدنا ابن مسعود بستر وفات پر تھے کہ امیرالمؤمنین سیدنا عثمان عیادت کیلئے آئے اور پوچھا: کیا تکلیف محسوس کر رہے ہیں؟ کہا! اپنے گناہوں کا درد ہو رہا ہے۔ سیدنا عثمان نے سوال کیا: کیا آرزو ہے؟ فرمایا! اپنے رب کی رحمت کی تمنا ہے۔ انہوں نے کہا: میںآپ کیلئے طبیب کا بندوبست کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ جواب ملا! طبیب ہی نے مجھے بیمار کیا ہے۔ پھر انہوں نے کچھ مال ودولت عطیہ کرنے کی پیشکش کی تو ابن مسعود نے کہا! مجھے اس کی حاجت نہیں، سیدنا عثمان نے کہا! یہ آپ کی بیٹیوں کے کام آئے گا۔ جواب دیا! کیا آپ میری بیٹیوں پر غربت آنے کا اندیشہ رکھتے ہیں؟ میں نے انہیں نصیحت کر رکھی ہے کہ ہر رات کو سورۂ واقعہ کی تلاوت کریں۔ میں نے رسول اقدسۖ کو فرماتے سنا ہے ”جو ہر شب سورۂ واقعہ کی تلاوت کرے گا اس پر کبھی فاقہ نہ آئے گا”۔ حضرت عثمان نے یہ بات اس لئے کی، کیونکہ انہوں نے دوسال سے ان کا وظیفہ بند کر رکھا تھا۔ ان کی وفات کے بعد حضرت زبیر بن عوام سیدنا عثمان کے پاس آے اور کہا! ابن مسعود کے وارث وظیفے کی رقم پر زیادہ حق رکھتے ہیں۔ تب سیدنا عثمان نے پندرہ ہزار درہم دئیے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خلیفہ دوم سیدنا عمر کی شہادت کے بعد حضرت ابن مسعود اور کوفہ کے کئی مالداروں نے سرکاری وظیفہ لینا ازخود بند کر دیا تھا۔ سیدنا ابن مسعود بغداد کے نواح میں واقع راذان کی جائیداد پر گزارہ کرتے رہے۔ وفات کے وقت ان کے پاس نوے ہزار مشقال سونا تھا، گھریلو سامان، غلام اور مویشی ان کے علاوہ تھے۔ حضرت ابن مسعود کی نماز جنازہ سیدنا عثمان نے پڑھائی۔ آخری آرام گاہ جنت البقیع میں ہے۔ عمر چھیاسٹھ برس، ایک شاذ روایت کے مطابق انتقال کوفہ میں ہوا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق نماز جنازہ حضرت زبیر بن عوام نے پڑھائی اور تدفین ان کی وصیت کے مطابق رات کے وقت جنت البقیع میں ادا کی گئی۔ سیدنا عثمان کو تدفین کا علم نہ ہوسکا تو وہ حضرت زبیر پر ناراض ہوئے۔ حضرت ابن مسعود نے وصیت لکھنا شروع کی، حضرت زبیر بن عوام اور حضرت ابن زبیر کو اپنا وصی بنایا اور کہا: یہ دونوں میرے ترکہ کے بارے میں جو فیصلہ کریں گے، روا ہوگا۔ میری بیٹیاں ان کی مرضی ہی سے نکاح کر سکیں گی، میری بیوہ زینب کو نہ روکا جائے۔
(مستدرک حاکم)