ہندوستان اور پاکستان کے حکمران

پاکستان کے حکمرانوں کو نہ ہندوستان سے دشمنی کرنی آئی نہ دوستی کرنی آئی۔ پاکستان کے حکمران ان دونوں دائروں میں ناکام ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں کی دشمنی میں دوستی پوشیدہ ہوتی ہے اور دوستی میں دشمنی چھپی ہوتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ اس وقت پاک بھارت تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ بھارت کو سلامتی کونسل کا بلامقابلہ رکن منتخب کرانے میں پاکستان کی حمایت بھی شامل تھی۔ ہندوستان سے تعلق کے تقاضوں کو ہمارا صرف ایک رہنما سمجھا۔ قائد اعظم۔ ہندوستان نے کشمیر میں فوج داخل کی تو اس وقت پاکستان کا خزانہ خالی تھا۔ پاکستان کی فوج، فوج نہ تھی۔ لیکن اس کے باوجود قائد اعظم نے جنرل گریسی کوفوجی اقدام کا حکم دیا۔ یہ اور بات کہ جنرل گریسی نے حکم عدولی کی۔ قائد ظاہری معنوں میں ایک کمزور پاکستان کے رہنما تھے مگر ان کے عزم کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے صاف کہا کہ اگر بھارت نے مسلم اقلیت کے ساتھ برا سلوک کیا تو پاکستان بھارت میں مداخلت کریگا۔ یہ بات کوئی کمزور رہنما نہیں کہہ سکتا تھا۔ کہنا تو دور کی بات کمزور رہنما یہ بات سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
جنرل ایوب ہمارے پہلے فوجی آمر اور جیسا کہ مشہور کیا گیا ہمارے پہلے مرد آہن تھے۔ اس مرد آہن کو 1962 میں ہندوستان کی گردن دبوچنے کا ایک نادر موقع ملا۔ 1962 میں چین بھارت جنگ ہوگئی اس جنگ سے پہلے چین کی قیادت نے جنرل ایوب کو پیغام دیا کہ بھارت اپنی ساری عسکری طاقت چین کی سرحد پر لے آیا ہے۔ پاکستان کیلئے موقع ہے کہ وہ آگے بڑھے اور ہندوستان سے اپنا کشمیر چھین لے۔ یہ ایسا موقع تھا کہ قوموں کو صدیوں میں ملتا ہے۔ دنیا کا اصول ہے کہ دعوی جھوٹا اور قبضہ سچا ہوتا ہے۔ پاکستان کشمیر پر قبضہ کرلیتا تو دنیا کی کوئی طاقت اس سے یہ قبضہ چھڑا نہیں سکتی تھی۔ مگر ہمارے مردِ آہن نے یہ موقع ضائع کردیا۔ ہمارا مرد آہن امریکا کے دبائو میں آگیا۔ امریکا نے چین کا پیغام اچک لیا اور اس نے جنرل ایوب سے کہا کہ آپ کشمیر پر قبضے کی کوشش نہ کریں۔ چین بھارت جنگ ختم ہونے دیں ہم مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرادیں گے، بدقسمتی سے جنرل ایوب نے امریکا کی بات پر اعتبار کرلیا۔ انہوں نے چین بھارت جنگ کے دوران کشمیر حاصل کرنے کی رتی برابر بھی کوشش نہ کی۔ اسکے برعکس 1970 کے انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان میں سیاسی بحران پیدا ہوا تو بھارت نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور مشرقی پاکستان کو بنگلادیش بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کو کہتے ہیں دشمنی۔ اس کو کہتے ہیں موقع شناسی۔
پاکستان کا حکمران طبقہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حوالے سے اس خیال کو نمایاں کرتا ہے کہ بھارت نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے سلسلے میں مشرقی پاکستان کی ہندو آبادی کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا۔ اگر ہمیں ٹھیک یاد ہے تو مشرقی پاکستان کی ہندو آبادی مجموعی آبادی کا 8 سے 10فیصد تھی۔ بھارت نے8سے 10 فیصد آبادی کو پاکستان کے خلاف کامیابی سے استعمال کرلیا مگر پاکستان ہندوستان میں موجود 25کروڑ مسلمانوں کو کبھی بھارت کیخلاف استعمال نہ کرسکا۔ حالانکہ مسلمان ہندوستان کی مجموعی آبادی کا20سے25فیصد ہیں، یہ اور بات کہ سرکاری اعداد و شمار میں انہیں15سے 17فیصد دکھایا جاتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر موجودہ پاکستان میں ہندو آبادی کا20سے 25فیصد ہوتے تو بھارت ان ہندوئوں کو بھی کامیابی کیساتھ پاکستان کیخلاف استعمال کرتا۔
پاکستان کا حکمران طبقہ حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ کے مسائل کو زندہ رکھنے اور ان کے حوالے سے بھارت پر دبائو ڈالنے میں ناکام رہا۔ حالانکہ بھارت کے ممتاز صحافی نے اپنے ایک حالیہ کالم میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت کے مرد آہن سردار پٹیل ایک موقع پر اس بات کیلئے تیار تھے کہ پاکستان کشمیر لے لے اور حیدر آباد دکن کو پرامن طریقے سے بھارت میں شامل ہونے دے۔ بھارت میں آزادی کی آٹھ دس بڑی تحریکیں موجود ہیں۔ ان میں نکسل باڑی تحریک سرفہرست ہے۔ اس تحریک کا اثر بھارت کی ایک درجن ریاستوں میں ہے اور بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ اس تحریک کو بھارت کی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ بھارت ہزار کوشش کے باوجود اس تحریک کو کچل نہیں سکا۔ اس لئے کہ یہ تحریک سماجی اور معاشی عدم مساوات کی بنیاد پر کام کررہی ہے اور بھارت سے زیادہ سماجی اور معاشی عدم مساوات شاید ہی دنیا میں کہیں موجود ہو مگر ہمیں یاد نہیں پڑتا کہ گزشتہ40سال میں کسی پاکستانی حکمران نے حقیقی معنوں میں نکسل باڑی تحریک پر نظر التفات ڈالی ہو۔ خاکم بدہن پاکستان میں نکسل باڑی تحریک کا عشر عشیر بھی موجود ہوتا تو بھارت اس کے ذریعے بچے کھچے پاکستان کو بھی تہہ و بالا کرچکا ہوتا۔ کیا بھارت کراچی اور بلوچستان کے حالات میں ملوث نہیں۔
(باقی صفحہ 7)