ریڈیو،احمد فراز،کچھ یادیں،کچھ باتیں

تومجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
مرزاغالب کا یہ شعر یاد آنے کی ایک معقول وجہ بھی ہے اور وہ یوں کہ گزشتہ روز ریڈیو پاکستان سے کال آئی کہ احمد فراز کی ریڈیو کیلئے خدمات پر مبنی ایک مختصر سا تحریری مسودہ درکار ہے،جبکہ جو موضوع دیا گیا اس میں احمد فراز جیسے نابغئہ روزگار بین الاقوامی شخصیت کا احاطہ تقریباً ناممکن تھا،یعنی ان کی ادبی خدمات کو جن کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ اب وہ تصورات کی سرحدیں پار کر چکا ہے۔کسی احاطے میں لانا ممکنات میں ہے ہی نہیں جبکہ ریڈیو والوں نے ان کی زندگی کے ایک مخصوص گوشے کو چن کر فرمائش کی کہ احمد فراز کی ریڈیو سے وابستگی اور خدمات کو ہی مضمون کا حصہ بنایا جائے،حالانکہ ریڈیو بذات خود ایک ایسا ادارہ ہے جس کے مقاصد پرمحدودیت کی چھاپ پڑ سکتی ہے نہ ہی احمد فراز جیسی شخصیت کی زندگی کے اس حصے کو کسی محدود دائرے میں سمیٹا جا سکتا ہے ریڈیو کے مقاصد میں انفارمیشن،انٹر ٹینمنٹ اور ایجوکیشن کو فروغ دینا شامل ہے اور محولہ تینوں مقاصد کے اندر ایک جہان معنی پوشیدہ ہے یوں اس ادارے سے وابستگی کسی بھی شخص کیلئے اس کے کلچرل(ثقافتی) پس منظر کے بغیر ممکن ہے ہی نہیں،مختصراً یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ احمد فراز ہو یا کوئی بھی شخص اس کا ریڈیو جیسے ابلاغ کے ادارے کے مقاصد کے ساتھ تعلق ہونے کے بناء وابستگی ممکن ہی نہیں ہے،یعنی اگر کوئی شخص ثقافت اور ادب کے مختلف شعبوں ،موسیقی،ڈرامہ،ادب اور صحافت کے ساتھ تعلق رکھے بناء کسی بھی دوسرے ادارے میں انتظامی امور سے وابستگی اختیار کر سکتا ہے اور عام کلرک سے اعلیٰ عہدے پر خدمات انجام دے سکتا ہے تاہم،ریڈیو،ٹی وی جیسے ابلاغیات کے اداروں سے اس کا بطور پروفیشنل تعلق بنتا ہی نہیں،یوں احمد فراز کا اگر شعر وادب سے تعلق پہلے سے ہی نہ ہوتا تو ریڈیو جیسے ادارے میں ملازمت کا خواب دیکھنا بھی اس کیلئے ناممکن ہوتا،تاہم موضوع کو ذہن میں رکھتے ہوئے اسی دور سے آغاز کر لیتے ہیں جب احمد فراز نے ریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کی اور پشاور کی محدود ادبی فضا سے(جہاں ان کی ادبی پرداخت ہوئی) لامحدودیت کی جانب سفر کا آغاز کیا اور جہاں ادب کو مسخر کرنے لگے،اس ضمن میں فارغ بخاری مرحوم اپنے ایک مضمون میں یوں رقمطراز ہیں،”فراز کی ترقی کا پہلا زینہ ریڈیو کی ملازمت ہے،اس ملازمت کا آغاز اسی بیٹھک سے ہوا( یادرہے ان دنوں پشاور میں دائرہ ادبیہ کے نام سے ایک ادبی تنظیم ایک بیٹھک میں ادبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھی)جہاں ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے(پطرس بخاری کے چھوٹے بھائی اور ان کاآبائی تعلق بھی پشاور سے تھا) اس ہونہار کے چکنے چکنے پات دیکھ کر اسے منتخب کیا اس رات کا چاند اگلی صبح فراز کی خوش بختی کا آفتاب بن کر طلوع ہوا اور وہ کراچی پروازکر گیا جہاں مولانا چراغ حسرت اور بخاری مرحوم کی صحبت وہ کندن بن کر نکلا”۔
مرحوم باسط سلیم صدیقی(ریٹائرڈ پٹی کنٹرولر اور میرے استاد محترم ومربی) کے بقول احمد فراز اور باسط صاحب مرحوم ابتداء میں بطور سکرپٹ رائٹر ریڈیو کی ملازمت میں آئے،تاہم زیڈ اے بخاری انہیں اپنے ساتھ کراچی لے گئے جہاں ان کی مزید تربیت ہوئی تو انہیں سکرپٹ رائٹر سے ترقی دیکر واپس پشاور سٹیشن پر تعینات کیا گیا ،جہاں نہ صرف ان کی پیشہ وارانہ سرگرمیاں بطور ایک براڈ کاسٹر جاری رہیں بلکہ ادبی معرکہ آرائیاں بھی انہتا کو پہنچتی رہیں اور وہ شعری تخلیقات میں اضافہ کرتے رہے اس دوران انہیں اسلامیہ کالج پشاور سے لیکچررکی اسامی آفر کی گئی تو اپنی سماجی طبیعت کی وجہ سے ریڈیو کی دنیا چھوڑ کر درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے ،جب پاکستان میں نیشنل سنٹر کے ادارے کا اجراء ہوا تو انہیں پاکستان نیشنل سنٹر پشاور کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر کا عہدہ پیش کیا گیا یہاں سے وہ اکادمی ادبیات کے سربراہ کے طور پر اسلام آباد منتقل ہوئے اس کے بعد لوگ ورثہ پاکستان،نیشنل بک فائونڈیشن کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔تاہم ریڈیو پاکستان سے رخصت ہو جانے کے باوجود انہوں نے ریڈیو سے تعلق نہیں توڑا اور نہ صرف مشاعروں میں شرکت کرتے رہے بلکہ ڈرامے خصوصاً منظوم ڈرامے لکھتے رہے ،اس سلسلے میں ان کے ایک ڈرامے”نوچاند” میں بطور صدا کار راقم نے بھی کردار ادا کیا جبکہ اس ڈرامے کے مرکزی کرداروں میں مرحوم عذر اشیر وانی اور سید میثاق حسین زیدی(ریٹائرڈ کنٹرولر، بطورپروڈیوسر بھی) موجود تھے ،عذراشیر وانی کے شوہر ان دنوں میں پاکستان فضائیہ سے منسلک تھے اور ائیر ہیڈ کوارٹر میں ایک اہم عہدے پر تعینات تھے۔عذراشیروانی نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو پشاور سے کیا تھا اور بعد میں کراچی منتقل ہو کر ٹی وی سے وابستہ ہو کر کئی اہم ڈراموں کا حصہ بنیں،جن میں انکل عرفی میں ان کا کردار حکومت آپا خاص دلچسپ اور جاندار تھا،ٹی وی اور فلم سٹار شکیل ان کے بھائی جبکہ مرحوم قربان جیلانی ان کے ڈرپوک شوہر کے کردار میں نمایاں تھے،بہرحال ڈرامہ نو چاند کی ریہرسل کے دوران احمد فراز باقاعدگی سے آتے اور پوری ٹیم باہمی صلاح مشورے سے ڈرامے کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتی ،
(باقی صفحہ7)