مشرقیات

ایک مرتبہ امام اعظم ابو حنیفہ سے کسی نے سوال کیا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ قرآن وحدیث پر عقل کو ترجیح وفوقیت دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا کسی نے غلط کہا ہے،میری کیا عقل ہے۔جناب محمد رسول اللہ ۖ کی مبارک عقل کے سامنے میری کوئی عقل نہیں،یہ کسی نے بالکل غلط کہا ہے۔سائل نے کہا جی نہیں،واقعی آپ عقل کو ترجیح وفوقیت دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا اچھا میں آپ سے کچھ پوچھتا ہوں،مجھے جواب دو۔پہلی بات یہ ہے کہ بیٹی کمزور ہے یا بیٹا؟اس نے کہا جی بیٹی کمزور ہے۔آپ نے فرمایا:قرآن حکیم نے بیٹی کا حصہ زیادہ کیا ہے یا بیٹے کا؟دیکھو، قرآن کریم میں آتا ہے کہ لڑکے کو ملیں گے دو حصے اور لڑکی کو ملے گا ایک حصہ(یعنی اگر باپ کی وراثت میں تیس ہزار روپے ہیں۔اس کی اولاد میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے تو بیس ہزار لڑکے کو اور دس ہزار لڑکی کو ملیں گے۔جیسا کہ قرآن پاک نے حکم دیا ہے۔ترجمہ:”لڑکے کو دوحصے اور بیٹی کو ایک حصہ دو”۔(پ4سورة النساء آیت11)لہٰذا قرآن پاک کے سامنے ابو حنیفہ کی عقل کیا کام کرسکتی ہے؟ہم اگر اپنی عقل کو استعمال کرتے تو(نعوذباللہ)آیت ذراٹھیک کردو،اس طرح مطلب یہ ہوگا کہ دو مردوں کے برابر ایک عورت کا حصہ کیا حرج ہے ۔پس عبارت کو آگے پیچھے ہی کرنا ہے۔آپ نے فرمایا مسلمانوں کو حق تعالیٰ ایسی بے ہودگیوں سے بچائے اور اپنی حفظ وامان میں رکھے۔ پھرسائل سے آپ نے پوچھا ۔ دیکھوپائوں کا تلوہ(یعنی نیچے والا حصہ) ناپاک ہوتا ہے،اس پر نجاست لگتی ہے یا پائوں کے اوپر لگتی ہے اس نے کہا جی پائوں کے تلوے پر نجاست لگتی ہے۔پوچھا نبی کریمۖ نے جب مسح فرمایا اپنے موزوں پر ،تو کیا مسح موزوں کے اوپرکیا یا نیچے تلوئوں پر کیا؟اس نے کہاحضور اکرمۖ نے مسح پائوں کے پیٹھ پر یعنی پائوں کے اوپر کیا۔امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ اگر میں قیاد وعقل کو ترجیح دیتا تو کہتا کہ پائوں کے تلوئوں پر مسح کرو،کیونکہ پائوں کے تلوے ناپاک ہوتے ہیں کہ وہ زمین پر ہوتے ہیں،لیکن فخر دو عالمۖ نے موزوں پر مسح پائوں کی پشت پر کیا ہے اور یہی حکم فرمایا ہے۔اس لیئے ابوحنیفہ بھی کہتا ہے کہ اب حضور اکرمۖ کے فرمان مبارک کی بنا پر مسح پائوں کی پشت پر ہی کرو۔ابو حنیفہ نے سائل سے فرمایا کہ میری عقل ہر گز حاکم نہیں ہے،یہ سن کر سائل کو مکمل تسلی وتشفی ہوگئی کہ واقعی یہ کسی نے غلط کہا ہے کہ ابو حنیفہ خدا اور اس کے رسولۖ کے فرامین کے مقابلہ میں اپنی عقل کو ترجیح دیتے ہیں۔ (گلدستہ واقعات وحکایات)