مواقع،وسائل بہت مگر۔۔۔

پاکستان دہائیوں سے مسائل کا شکار رہا ہے اور ان مسائل میں سب سے بڑا مسلہ ہماری اکانومی رہاہے ۔اپنی کمزور اکانومی کو سہارا دینے کے لیے ہمیں عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینا پڑتا ہے اور پھر ان کی سخت شرائط پر قومی فیصلے کرنے پڑتے ہیں کہ جن کا براا ثر عوام کو جھیلنا پڑتا ہے ۔اکانومی کی کمزوری ہی ہمیں عالمی طاقتوں کی ڈکٹیشن لینے پر مجبور کرتی ہے ۔ کوئی بھی آزاد ریاست ایک مضبوط اکانومی کے بغیر آزادانہ فیصلے نہیں کرپاتی ۔مجبوری او ر مصلحت میں کیے جانے والے فیصلے کسی طور بھی عوامی فیصلے نہیں ہوسکتے کہ جن کے نتیجے میں عوام کو پریشانیاں ہی ملتی ہیں ۔یوں ہر جانے والی حکومت آنے والی حکومت کے لیے بہت سے مسائل وراثت میں چھوڑ کر چلی جاتی ہے ۔اور یوں ان مسائل کو حل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے کہ مزید قرضے لیے جائیں یوں ملک قرض کے بوجھ تلے ڈوبتا چلا جاتا ہے ۔ مہنگائی ، افراط زر ،بے روزگاری وہ عوامل اور مسائل ہیں کہ جوکمزور اکانو می سے جنم لیتے ہیں ۔ جبکہ یہی عوامل عوام میں عدم برداشت ، علاقائی و مسلکی تعصبات ، سماجی نفرتوں اور دہشت گردی جیسے گھمبھیر مسائل کو جنم دیتے ہیں ۔ جمہوری حکومتیں بھی اسی بنیاد پر بحرانوں کاشکار رہتی ہیں اور چاہنے کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں دے پاتیں کیونکہ حکومتیں وسائل کے ذریعے ہی عوامی مسائل کو ختم کرسکتی ہیں ۔اور وسائل کی فراوانی نہ ہوتو جگاڑ ہی کیے جاسکتے ہیں مسائل حل نہیں کیے جاسکتے ۔ عام تاثر یہ رہا ہے کہ ہمارے یہاں کرپشن بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے ہماری اکانومی پر اس کے برے اثرات پڑتے ہیں ۔ یہ بات درست بھی ہے کہ ہتھ ریڑھی والا گندے ٹماٹربیچ کر اور کم تول کر کرپشن کا مرتکب ہورہا ہے اور کوئی بابو دفتر میں بیٹھ کر رشوت لے کر کرپشن کر رہا ہے ۔غرض جس کا جتنا بس ہے وہ ناجائز طریقے سے پیسہ کمانے کے چکر میں ہے ۔ لیکن ہمارا سسٹم فی الحال اتنا توانا نہیں ہوا کہ کرپشن کو روک سکے ۔کیونکہ کسی بھی برائی کو روکنے کے لیے قانون سازی اور پھر ان قوانیں پر عمل درآمد بہت ضروری ہوتا ہے ۔ پاکستان میں ہر قسم کا قانون موجود ہے لیکن سسٹم کی کمزوری کہہ لیں کہ ہمارے ہاںسزا کی تادیب نہیں ہے ۔ جب سزا اور تادیب ہو تو صرف مجرمانہ ذہنیت کے لوگ ہی کرپشن کرتے ہیں اور ایسے لوگ آپ کو امریکہ اور یورپ میں بھی مل جائیں گے لیکن عام آدمی کرپشن کرتے وقت سو بار سوچے کہ پکڑ ا گیا تو سخت سزا ملے گی۔ہمارا ملک سچ مچ کا خدادادملک ہے کیا کیاہے جو یہاںقدرت نے ہر ہر چیز عطاکردی ہے ۔کیا دریا ،کیا سمندر،کیا پہاڑ کیا معدنیات اور کیا کھیت ۔ہماری تو افرادی قوت بھی اتنی ہے کہ ماشاء اللہ ۔لیکن یہی افرادی قوت جو قوم کا سرمایہ ہوتی ہے ہمارے یہاں وہ بے روزگاری کا طعنہ سہہ سہہ کرجیتی ہے ۔ہماری ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی تیس برس کی عمر کی ہے اور یہ عمر توانائی سے بھر پور عمر ہے ۔ یقین کریں افرادی قوت سونے اور تیل جیسے ذخائر سے قیمتی ہے چائنہ کی ترقی کا راز اسی افرادی قوت میں ہے ۔چائنہ نے اپنی بڑھتی ہوئی کو کم کیا اور مردوزن کو کارخانے کھول کر اور کھیت کھلیان آباد کر کے کام پر لگا دیا ۔چائنہ نے اپنی پروڈکشن کو اتنا آگے پہنچا دیا ہے کہ ساری دنیا اس کی محتاج ہے۔ ہمارے یہاں نہ تو اندسٹری کو وہ مراعات دی گئیں کہ وہ چل سکیں ،ایکسپورٹ کرسکیں۔ اکانومی کا سب سے اہم جزو ایکسپورٹ ہوتا ہے ۔ ایکسپورٹ سے زرمبادلہ کمایا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ہماری امپورٹ ہماری ایکسپو رٹ سے دگنی ہے ۔یعنی ہم پچاس روپے کا مال باہر بیچتے ہیں اور سو روپے کا مال باہر سے خریدلاتے ہیں ۔ اس موٹے سے حساب سے دیکھیں تو خسارہ ہی خسارہ ہے ۔ امپورٹ کو روکا بھی نہیں جاسکتا کہ ملک کی ضروریات اتنی ہیں کہ انہیں پورا کرنا بھی ضروری ہے ۔مسلہ ایکسپورٹ اور امپورٹ کے درمیاں تناسب کو ٹھیک کرنا ہے ۔ہمارا ملک زرعی ملک ہے اور اللہ نے ہمیں دریاؤں کا پانی بھی دے رکھا ہے۔ یہ وہ وسائل ہیں ہم اپنی غذائی ضروریات پوری کرلینے کے بعد اسی زمین سے لی گئی اجناس ایکسپورٹ کرسکتے ہیں ساتھ ہی مختلف صنعتوں کے لیے خام مال بھی حاصل کرسکتے ہیں کہ جن سے ہمارے کارخانے چل سکتے ہیں ۔ کارخانے چلنے کا مقصد روزگار۔زراعت تو اب ایک سائنس بن چکی ہے ۔ کیسی کیسی مشینری اور کیسے آلات مارکیٹ میں آچکے ہیں ۔ ٹیکنالوجی نے فی ایکٹر پیداوار کو دگنا چگنا کردیا ہے ۔ ہائبریڈ نے پیداوار کی کایہ پلٹ دی ہے ۔ مالدار ملکوں میں آرگینک سبزیوں اور پھلوں کی بے تحاشہ مانگ ہے ۔اب بھی پاکستان سے سبزیاں اور فروٹ ایکسپورٹ ہورہے ہیں لیکن یہ کوانٹٹی بہت کم ہے ۔ اب بھی بہت گنجائش ہے ۔ ہمارے پھل اور سبزیاں ذائقے میں ثانی نہیں رکھتیں ۔ مسلہ صرف پالیسی کا ہے کہ ہم اس طرف سنجیدہ ہوجائیں ۔ ہم سمال اور مائیکروبزنس کی طرف جاسکتے ہیں ۔ سیالکوٹ اور گجرانوالہ شہر کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ (باقی صفحہ7)