پشاور کس کی ذمہ داری ہے؟

ہم اس وقت اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے ساری دنیا کے حالات ہمارے سامنے ہیں صبح سویرے ہم یہ جان لیتے ہیں کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا اس حوالے سے اپناکردار خوب ادا کررہے ہیں جن چیزوں کے بارے میں ہم نہیں جانتے وہ دوسروں کو دیکھ کر سیکھ جاتے ہیں دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کیا کررہی ہیں ان کی کیا ترجیحات ہیں ترقی یافتہ معاشروںمیں کن چیزوں کو اہمیت دی جاتی ہے یہ اور اس طرح کی دوسری بہت سی باتیں ہم تک پہنچتی رہتی ہیں !کسی بھی شہر کے ٹریفک نظام کو سب سے پہلے دیکھنا چاہیے ٹریفک اہل کار ڈیوٹی پر موجود ہیں ٹریفک سگنلز ٹھیک طرح سے کام کررہے ہیں لوگوں میں ٹریفک قوانین کی پابندی کا شعور موجود ہے گاڑیاں رواں دواں ہیں کسی بھی قسم کا ٹریفک جام دیکھنے میں نہیں آتا ! اسی طرح بازاروں میں تجاوزات نہیں ہیں پلیٹ فارم پیدل چلنے والوں کے لیے فارغ ہیں ان پر کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے ہر بازار میں کارپارکنگ کی سہولت موجود ہے ایک نظم ہے ترتیب ہے ! ترتیب پر یاد آیا ہمارے ایک دوست جرمنی میں مقیم تھے انہوں نے میڈیسن کی دکان کھولنے کا ارادہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ دکان کھولنے سے پہلے انھیں متعلقہ محکمے سے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا پڑے گا انھوں نے درخواست دیدی چند دنوں بعد محکمے کی طرف سے ان کی درخواست کا جواب آیا جس میں پوری تفصیل بیان کی گئی تھی : بازار میں موجود میڈیسن کی دکانوں کی تفصیل تھی علاقے کی آبادی کے اعدادوشمار تھے ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی گئی تھی کہ پچھلی ایک دہائی سے علاقے کے لوگوں کی ضرورت مارکیٹ میں موجود میڈیسن کی دکانیں پوری کررہی ہیں اس لیے اس علاقے میں نئی دکان کھولنے کی گنجائش نہیں ہے آپ اپنے لیے کسی دوسری جگہ کا انتخاب کیجیے !یہ ایک ترتیب ہے جس کے مطابق سارے کام کیے جاتے ہیں اور اس کے لیے کسی پی ایچ ڈی ڈاکٹر یا راکٹ سائنس کی ضرورت بھی نہیں ہے بس اعدادوشمار مہیا کرنے ہیں ڈیٹا حاصل کرنا ہے اس ہلکے پھلکے احساس کے ساتھ کہ یہ ہمارا شہر ہے ہم نے اسے خوبصورت بنانا ہے اس کا نظم و ضبط قائم رکھنا ہے !اس حوالے سے اپنے پیارے شہر پشاور کی ٹریفک بھی ہمارے سامنے ہے اور بازاروں میں تجاوزات کی بھر مار کے ساتھ ساتھ غیر قانونی کیبن بھی موجود ہیں دکانوں کے سامنے چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والے فٹ پاتھوں پر چلنے والے راہگیروں کا راستہ بند کیے بیٹھے ہیں ان سے دکاندار باقاعدہ کرایہ وصول کرتے ہیں کارپوریشن کا بہت بڑا محکمہ بھی موجود ہے اور اس کے اہل کار بھی باقاعدہ بازاروں کے دورے کرتے رہتے ہیں لیکن صورتحال میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آتی تجاوزات بھی موجود ہیں اور مخلوق خدا ان رکاوٹوں کی وجہ سے پریشان بھی ہے !پشاور کی آبادی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کی رفتار میں روزبروز اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے یہ آبادی ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں میں تبدیل ہوچکی ہے لیکن اتنی بڑی آبادی والے شہر کے لیے لیڈی ریڈنگ ہسپتال صرف ایک ہی ہے اسی سائز کے دو تین مزید ہسپتال ہونے چاہیے تھے شاید صحت کے لیے مختص کیے گئے بجٹ میں گنجائش نہ ہو ؟ یا پھر ترتیب کا نہ ہونا ہے آبادی کے اعدادوشمار کے مطابق اس کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے ؟اگر خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کو بھی ساتھ شامل کرلیں تو پھر بھی بات نہیں بنتی اور اس کی سب سے بڑی وجہ آبادی ہے اتنی بڑی آبادی کو طبی سہولتیں مہیا کرنا صرف دوہسپتالوں سے ممکن ہی نہیںہے! نجی ہسپتالوں کی تعداد روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے لیکن ان تک رسائی ہر بندے کے بس کی بات نہیں ہے !ہمارے ایک جرمنی پلٹ دوست وہاں کے ہسپتالوں کی صفائی ستھرائی کی مثالیں دے رہے تھے وہاں کے ڈاکٹروں کی فرض شناسی کے قصے سنارہے تھے تو ہم نے ان سے جان کی امان چاہتے ہوئے کہا جنا ب وہاں ایک ترتیب ہے نظم و ضبط ہے آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہسپتال تعمیر کیے گئے ہیں یہاں پر تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ہمارے یہاں گنتی کے دو چار ہسپتال ہماری آبادی کی ضروریات کے لیے ناکافی ہیںڈاکٹر ز بیچارے بھی کیا کریں ؟ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے خاص طور پر کورونا وبا کے دوران ہمیں اپنی اس کمی کا شدت سے احساس ہو ، ا (باقی صفحہ7)