عید قربان، پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت

دنیا بھر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے قبل ازوقت انتظامات کرکے اقدامات اُٹھائے جاتے ہیں تاکہ نقصان سے بچا جا سکے یا نقصان کم سے کم ہو کیونکہ آفت کے بعد اقدامات اول تو بہت مشکل ہوجاتے ہیں دوسرا یہ کہ نقصان ہو چکا ہوتا ہے اور جب تک اقدامات اُٹھائے جاتے ہیں تب تک نقصان میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہوتا ہے، اسے سمجھنے کیلئے برسات کی بہترین مثال پیش کی جا سکتی ہے، پاکستان میں ہر سال برسات کے موسم میں سیلاب سے بے پناہ نقصان ہوتا ہے حالانکہ کئی ممالک میں پیشگی انتظامات کے باعث بارش کے پانی کو محفوظ کرکے زراعت اور بجلی کی پیداوار میں بہتری لائی جاتی ہے لیکن برسات کا وہی پانی ہمارے ہاں رحمت کی بجائے زحمت بن جاتا ہے کیونکہ ہم نے پیشگی کوئی تیاری کی ہوتی ہے اور نہ ہی نقصان سے بچاؤ کیلئے کوئی بندوبست کیا ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں کورونا کے پھیلاؤ کا سبب عیدالفطر کی شاپنگ اور اجتماع بنے تھے اب کافی حد تک کورونا کنٹرول ہے کیونکہ کیسز میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ دوسری طرف عید الاضحیٰ بھی قریب ہے، اس موقع پر قربانی کے جانور کی خریداری میں بے احتیاطی برتی جاتی ہے، امسال چونکہ قربانی ایک ایسے موقع پر آرہی ہے کہ وبائی صورتحال کے باعث ہم جانی ومالی نقصان سے دوچار ہیں اسلئے ضروری ہے کہ وقت سے پہلے ہی قربانی کی منصوبہ بندی کی جائے، جانور کی خریداری سے لیکر ذبح اور گوشت کی تقسیم تک احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، آن لائن قربانی کے آپشن پر عمل کیا جائے، عوام کو یہ بات باور کرا دی جائے کہ معمولی سی غفلت بڑے نقصان اور کورونا کے کیسز میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اس کی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے، اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے۔ کانگو ہیمرجک بخار (سی سی ایچ ایف) جسے مختصراً کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحیٰ سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل وحرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ مویشی منڈیوں میں ہجوم اور جانوروں سے براہ راست رابطے کی وجہ سے کانگو وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ جانے کا امکان ہے۔ اس ایڈوائزری کا مقصد انسانوں اور جانوروں کی صحت سے متعلقہ اداروں کو آگاہ کرنا ہے تاکہ کانگو بخار اور کووڈ19 کی روک تھام اور کنٹرول کیلئے بروقت اقدامات کئے جاسکیں۔ ایڈوائزری کے مطابق فی الحال کانگو بخار کی ویکسین دستیاب نہیں ہے لہٰذا عام افراد کو بیماری سے بچاؤ اور اس کے کنٹرول کیلئے متعلقہ ہدایات پر توجہ دینی چاہئے۔ مویشی منڈیوں کے دورے کے دوران مکمل آستین اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں۔ دستانے، ماسک اور ہینڈ سینیٹائزرز کا استعمال کریں اور دوسروں سے مناسب فاصلہ رکھیں۔ ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ عید کے موقع پر بڑے خاندانی اجتماع اور جانوروں کی قربانی سمیت تمام بھیڑ والے مقامات سے پرہیز کریں۔ جانوروں کو ہاتھ لگانے کے بعد یا خون سے آلودہ ہاتھوں کو صابن لگا کر اچھی طرح دھوئیں۔
مراسلے میں موسم گرما اور مون سون میں ہونے والی متوقع وبائی امراض سے متعلق متنبہ کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد وبائی امراض پھیلنے سے قبل وفاقی، صوبائی اور ضلعی محکمہ صحت کے حکام اور ماہرین کو خبردار کرنا اور امراض پھیلنے کی صورت میں بروقت نمٹنے کیلئے سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ ان امراض سے ہونے والی اموات میں کمی کی جاسکے۔ قومی ادارہ صحت نے اس مراسلے میں موسم گرما اور مون سون میں ہونے والی متوقع وبائی بیماریوں جیسے اسہال، کووڈ19، کانگو بخار، ڈینگی بخار، لیشمینیا، ملیریا، خسرہ، پولیو اور ٹائیفائیڈ کے بارے میں صحت کے حکام اور متعلقہ اداروں کو احتیاطی اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا ہے اور صحت عامہ سے متعلقہ اداروں کو موسمی خطرات پر مسلسل نظر رکھنے اور تمام ممکنہ اقدامات لینے کی نصیحت بھی کی ہے۔ یاد رکھیں ریاست کی جانب سے شروع کی گئی کوئی بھی مہم عوام کی مکمل حمایت کے بغیر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی ہے، اسلئے عوام کو چاہئے کہ ایسے کسی بھی کام سے اجتناب کریں جو ریاستی اداروں کیلئے مشکل کا باعث بن سکتا ہو، ہمارے ہاں چلن عام ہے کہ جان بوجھ کر ریاست کی ہدایات پر عمل نہیں کیا جاتا اور پھر حالات کی سنگینی کا ذمہ دار ریاست کو ٹھہرا کر تنقید کی جاتی ہے حالانکہ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کو اگر مختصر بیان کیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ وہاں کے عوام قانون پر عمل درآمد اور ریاستی حکم پر عمل پیرا ہوتے ہیں، ریاست کیخلاف شہریوں کے عمل کا تصور بھی محال ہے، اگر ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوں تو سب سے پہلے ہمیں ایک مثالی قوم بن کر دکھانا ہوگا۔