پاکستانی خواتین کے مسائل

پاکستان میں خواتین کی راہ میں بے شمار مسائل اور مختلف معاشی سماجی رکاوٹیں موجود ہیں، آئین وقانون کے تحت ہر شہری کے جان ومال کی ذمہ داری ریاست کی ہے، لیکن اگر عورت پر گھر میں تشدد ہو رہا ہے تو اس کے سدباب کا کوئی نظام ریاست کے پاس نہیں ہے۔ ہمارے ہاں خواتین پر تشدد کسی شمار میں ہی نہیں آتا۔ کوئی ادارہ اس پر توجہ نہیں دیتا، خواتین پر تشدد کے حوالے سے کہیں باقاعدہ ریکارڈ نہیں ہوتا ہے۔ اگرچہ خواتین کی مدد کیلئے ادارے موجود ہیں، مگر یہ ادارے عام خواتین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہے۔ جب خواتین کسی ادارے کے پاس جاتی ہیں تو وہ اس کی مصالحت کروا دیتے ہیں جبکہ مسئلے کا بنیادی سبب جوں کا توں ہی موجود ہوتا ہے۔ متاثرہ عورت کو کاؤنسلنگ اور نفسیاتی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یوں پاکستان میں خواتین کی عمومی معاشی صورتحال بہت خراب ہے۔ وہ اپنے حق کیلئے آواز اُٹھانا نہیں جانتیں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتیں کہ ان کی مدد کیلئے کون کونسے قوانین موجود ہیں۔ خواتین کی معاشی عمل میں بھرپور طریقے سے حصہ نہ لینے کی ایک وجہ صنفی مساوات بھی ہے۔ اس حوالے سے ایک چشم کشا رپورٹ اقوام متحدہ کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کیخلاف صنفی تعصب ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کا شمار ان4ممالک میں کیا گیا ہے جن کا اس رپورٹ میں خصوصی طور پر ذکر ہے، جہاں18سے49 سال کی49لاکھ خواتین کو پائیدار ترقی کے اہداف (SDG,s) کے4شعبوں سے بیک وقت محروم رکھا جاتا ہے۔ ان شعبوں میں کم عمری یا18 برس کی عمر سے قبل شادی، تعلیم تک رسائی میں رکاوٹ، صحت کے بارے میں فیصلے کرنے کی صلاحیت اور ذرائع معاش کے متعلق فیصلے شامل ہیں۔ یاد رہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف چار سال قبل عالمی سطح پر منظور کئے گئے اور انہیں 2030ء تک حاصل کرنا ہے۔ یہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک دونوں کیلئے یکساں طور پر قابل عمل ہونگے۔ سٹیٹ آف دی ورلڈ پاپولیشن کی سالانہ رپورٹ پاکستان کی خواتین کے حوالے سے چشم کشا ہے اس رپورٹ میں متعدد امتیازی سلوک پر روشنی ڈالی گئی ہے جن کی جڑیں صنفی عدم مساوات اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی وجہ سے ہیں جس سے لاکھوں لڑکیوں کو ان کی صحت، تعلیم اور پوری دنیا میں انسانی صلاحیتوں پر پورا اُترنے سے روکا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے اس دہائی (2030) کے آخر تک نقصان دہ طریقوں کے خاتمے کے ہدف کو پورا کریں۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے جنوبی ایشیاء کے ممالک جن میں بنگلہ دیش، نیپال اور بھارت شامل ہیں وہاں خواتین اور لڑکیوں کو مردوں کے برابر حقوق حاصل نہیں ہیں، انہی ممالک میں کم عمر بچوں کی شادی کی شرح زیادہ ہے،2017 میں، جنوبی ایشیاء میں4.1ملین بچوں کی شادی ہوئی، صنفی امتیازی سلوک لڑکیوں کیخلاف متعدد نقصان دہ طریقوں کا سبب بنتے ہیں، عدم مساوات کو برقرار رکھتے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں، کوویڈ19 کے بعد خواتین پر تشدد اور ان کے حقوق کی پامالی میں اضافہ ہوا ہے، ایک سروے کے مطابق کورونا کے نتیجے میں پوری دنیا میں2020 اور2030 کے درمیان 13ملین اضافی شادی بیاہ کا امکان ہوگا، کورونا کے بعد خاندانی منصوبہ بندی تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر خواتین کی تعداد، غیرارادی طور پر بچوں کی پیدائش، صنف پر مبنی تشدد اور دیگر نقصان دہ طریقوں کا سامنا دنیا بھر میں آنے والے مہینوں میں بلند ہوسکتا ہے۔ اس کے سدباب کیلئے ضروری ہے سماج کو لڑکیوں کے مساوی حقوق کیلئے کھڑا ہونا چاہئے تاکہ وہ اسکول میں رہ سکیں، ملازمت کیلئے تیاری کر سکیں، اپنی پسند کے بارے میں جان سکیں اور اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کو تشکیل دے سکیں۔ اس ضمن میں والدین کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے، کیونکہ گھر سے خواتین کو حوصلہ ملے گا تو وہ باہر کے مسائل سے نبردآزما ہو سکیں گی، ہر عورت کو مساوی مواقع کی ضمانت کیلئے معیشتوں اور قانونی نظاموں کی تنظیم نو ہونی چاہئے، بنگلہ دیش اور ایتھوپیا جیسے ممالک کے معاشی حالات میں بہتری کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب لڑکیوں اور خواتین کے پاس بہتر معاشی اختیارات ہوتے ہیں تو خواتین کے مسائل اور مشکلات میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس پس منظر کے بعد حکومتوںکو خواتین کے حقوق کی پاسداری اور کم عمر بچوں کی شادیوں کو روکنے کیلئے قانون نافذ کرنا ہوگا۔ قوانین انسانی حقوق کی بنیاد پر بنانے چاہئیں اور اس کیلئے ایک جامع فریم ورک پیش کرنا چاہئے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے ہنگم اور بے قابو آبادی ملکی وسائل بالخصوص محدود قدرتی وسائل پر سخت دباؤ ڈال رہی ہے۔ یہ صورتحال مستقبل قریب میں بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ آبادی کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ پاکستان کی معاشی سلامتی کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے، اس لئے ضروری ہے کہ اس مسئلہ کے حل کی طرف جلد ازجلد اور سنجیدہ توجہ دی جائے۔ پاکستان میں بڑھتی آبادی پر اسی صورت قابو پایا جا سکتا ہے جب ماں بچے کی صحت اور وسائل کو دیکھ کر فیملی بڑھانے کی منصوبہ بندی کی جائے۔