ہرچند کہ اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

جانے کس بدقسمت خانوادے کی عزت تھی وہ کم بخت دوشیزہ، اچھے بھلے کپڑے پہنے ہوئے تھے اس نے، نوبیاہی دلہن کی طرح لال سرخ جوڑا، سر پر نفیس کپڑے کا اسکارف، کلائیوں میں سنہری چوڑیاں بھی پہن رکھی تھیں اس نے اور اس کی انگلی میں طلائی انگشتری بھی نظر آرہی تھی، نہایت قیمتی کپڑے کی چادر یا شال دو شالے سے ڈھک رکھا تھا اس نے اپنے وجود کو لیکن اس کو ذرہ بھر پرواہ نہیں تھی کہ اس کے جسم کا کونسا حصہ نظر آرہا ہے کسی کو، دنیا ومافیہا سے بے خبر تھی نا وہ کمبخت زندگی ہاری قسمت ماری۔ اگر اس کا کسی مفلوک الحال گھرانے سے تعلق ہوتا تو نہ اس کا لباس ایسا ہوتا اور نہ ہی اس کی آنکھوں پر چشمہ ہوتا، نہ کلائیوں میں طلائی چوڑیاں اور نہ ہی اس کی مخروطی انگلیوں میں دمکتی انگشتری، جانے کس کی منڈیر سے کٹ کر گری تھی وہ ڈولتی لاوارث پتنگ کی طرح، ہمیں یہ بھی علم نہیںہو سکا کہ اس کی ویڈیو بنانے والے نے کیسے کیپچر کر لیا اس کے گہن زدہ نصیبوں جلے حسن سراپا کو سوشل میڈیا پہ وائرل کرنے کیلئے یا اس کی عبرتناک حالت سے اہل قلب ونظر اور فکر وسوچ کو آگاہ کرنے کیلئے۔ شائد وہ پشاور کا جناح پارک ہی تھا جس میں سر راہ پڑی بنچ پر بیٹھی تھی، اس کے قریب ہی ایک منرل واٹر کی بوتل بھی رکھی تھی اور کپڑے کے تھیلے سے جھانکتی تام چینی کی پلیٹ بھی نظر آرہی تھی، اس نے کپڑے کے تھیلے سے انجکشن نکال کر سرنج میں بھرنا شروع کردیا، وہ سرنج میں زہر بھر رہی تھی اپنی نرم ونازک رگوں میں اندھیرے اُتارنے کیلئے۔
خودکشی کیلئے تھوڑا سا یہ کافی ہے مگر
زندہ رہنے کو بہت زہر پیا جاتا ہے
اس کی اس حالت زار کو پکچرائز کرنے والا اس کے زخموں کو کرید کرید کر اس سے بہت سی باتیں پوچھ رہا تھا اور وہ سرنج میں نشہ آور زہر یا دارو بھرتے وقت اپنی مادری زبان کے اکھڑے اکھڑے سے لہجے میں اس کی باتوں کا یوں جواب دے رہی تھی جیسے وہ اس شخص کو اپنا غم گسار سمجھ رہی ہو اور اس شخص کے ترلے لے لیکر کہہ رہی ہو ”مجھے کہیں سے تھوڑی سی آئس لادو”
اک بوند زہر کیلئے پھیلا رہے ہو ہاتھ
دیکھو کبھی خود اپنے بدن کو نچوڑ کر
اس نے ”مجھے آئس لادو” کا تڑپا دینے والا جملہ کہا اور پھر نشہ آور زہر سے بھرے انجکشن کی سرنج اپنی ران کی اس گول بوٹی میں چبھونے لگی جسے انگلش میں ایچ آئی پی ‘ہپ’ کہتے ہیں۔ مجھے ذرا سی آئس لادو، اس نے سماجت بھرے انداز میں ویڈیو بنانے والے کو کہا، کیا لادوں؟ ویڈیو بنانے والے نے شائد اپنی ویڈیو کی قدر وقیمت بڑھانے کی غرض سے اس کی آواز کو ریکارڈ کرنے کی غرض سے پوچھا ”تھوڑی سی آئس۔۔” اس نے ایک بار پھر اپنی مخمور بے چارگی کو دہراتے ہوئے سماجت بھرے انداز میںکہا۔ ”کہاں سے لادوں، کدھر ملتی ہے یہ آئس؟ ویڈیو بنانے والے نے پوچھا، جس کے جواب میں وہ اس اہلکار کا منصب بتانے لگی جو بقول اس کے کسی تھانے میں آئس بیچنے کی دکان کھولے بیٹھا تھا۔ نشے میں دھت تھی نا وہ ناہنجار، اسے احساس تک نہ ہوا کہ وہ کیا اول خول بک رہی ہے، مفت میں بدنام کررہی ہے پولیس والوں کو، جس روز یہ ویڈیو راقم السطور تک پہنچی عین اس ہی روز اخبار کے آخری صفحہ پر ”جناح پارک میں خاتون کی آئس کا نشہ کرنے کی ویڈیووائرل” ہونے کی دوکالمی سرخی لگی اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ وہ خاتون ویڈیو کے وائرل ہونے سے پہلے ہی غائب ہوگئی یعنی انجام کو پہنچ گئی، اول خول بکنے کے جرم میں، جیسے اسے زمین نے نگل لیا ہو یا آسمان نے اُٹھا لیا ہو اور یوں پولیس جیسے نیک نام ادارے میں ہل چل سی مچ گئی جس کے سجیلے جوان تادم تحریر اس منشیات زدہ خاتون کی تلاش میں دوربینیں لگا کر
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے
کے مصداق مارے مارے پھر رہے ہیں، سرخ جوڑے میں لپٹی ہوئی زندہ لاش ہی تو تھی وہ بے چاری، ہیولا تھا وہ یا کوئی چھلاوہ یا شائد خلائی مخلوق سے تعلق تھا اس کا اس لئے کوئی بھی ہاتھ نہ بڑھا سکا اس کی جانب، اگر ایک بے بس ولاچار منشیات زدہ خاتون کی زندہ لاش قانون کے محافظوں کو نظر نہیں آتی تو منشیات کا دھندہ کرنے والے لمبے ہاتھ ان کے شکنجے میں کیسے آتے ہونگے، نہیں نہیں، ایسی کوئی بات نہیں، روز ہی گرفتار ہوتے ہیں منشیات کا دھندہ کرنے والے اور روز ہی ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں یا بری ہوجاتے ہیں ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے، چل رہا ہے موت کے سوداگروں کا یہ کاروبار اور شائد اس ہی کو کہتے ہیں چلتی کا نام ہے گاڑی، کون ہے جو اس گاڑی کی راہ میں آئیگا اور اگر آئے گا تو کچلا جائے گا، ہمارا کام ہے لکھتے رہنا اور ساتھ ہی یہ بات دہرا دہرا کر کہتے رہنا کہ
لکھتے رہے جنوںکی حکایات خوں چکاں
ہر چند کہ اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے