اپوزیشن کی نیب قانون میں چونتیس ترامیم این آراوپلس حاصل کرناہے۔ حکومت کا موقف

ویب ڈیسک (اسلام آباد):وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی،مشیر احتساب شہزاداکبراورملیکہ بخاری کی نیوزبریفنگ،

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اپوزیشن کو اپنے مفادات عزیز ہیں اور چودہ سال کی کارستانیوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن بردباری اور حوصلے سے بات سنے اور سنائے۔ فیٹف قوانین پر حکومت کو بلیک میل نہ کیا جائے، ہم نیب قوانین پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی نیب قانون میں چونتیس ترامیم کامقصدادارےکوغیرفعال بناکراین آراوپلس حاصل کرناہے۔پیپلزپارٹی اورن لیگ اپنی تمام قیادت کےخلاف کرپشن،منی لانڈرنگ اورغیرقانونی اثاثوں کےکیسزکا خاتمہ چاہتی ہے۔تحریک انصاف کواحتساب کےنام پر مینڈیٹ ملا۔

اس موقع پر معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ماضی میں کرپشن کے دو بڑے چیمپیئن سامنے آئے۔ جعلی اکاؤنٹس کے چیمپئن خاندان کے ساتھ ایک ٹی ٹی شریف خاندان بھی ہے۔ دو سپوت اور خادم اعلیٰ ٹی ٹیز سے بیگمات کے لیے جائیداد خریدتے رہے۔ ایک سابق صدر نے کہا کہ ثابت کرنا ہوگا فالودے والے کو لے کر بینک گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم حکومت میں آئے تو گرے لسٹ سے نکلنا ایک چیلنج تھا۔ وجہ دیکھنا ہوگی کہ پاکستان کیوں گرے لسٹ میں گیا؟ سابق حکومت نے منی لانڈرنگ اور سہولت کاری کے خلاف قوانین کو فعال نہیں بنایا۔ دو خاندانوں نے چارٹر آف کرپشن کیا ہوا تھا۔