پیتے ہیں لوگ آج بھی پانی خرید کے

اگر کوئی کسی کے راستے میں کنواں کھودتا ہے تو وہ اس میں خود ہی گر جاتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ ہر کنواں اس ہی لئے کھودا جائے۔ ہمیں وہ دور اچھی طرح یاد ہے جب پشاور شہر کی گلی گلی اور گھر گھر ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے کنویں ہوتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ٹیوب ویل کلچر متعارف نہیں ہوا تھا۔ ہر کنویں پر ایک یا ایک سے زیادہ چرخیاں لگی ہوتیں جس پر لپٹی مضبوط رسی کے آخری سرے پر چمڑے کا بنا ہوا ‘بوکا’ ہوتا تھا۔ اس بوکے کو کنویں میں پھینکا جاتا تو کنویں کی چرخی بوکے کے گرنے کے زور سے تیزی سے گھومتی اور جب بوکا کنویں کے پانی میں ڈوب کر بھر جاتا تو ایک یا دوبندے مل کر اس چرخی کو یوں گھماتے کہ بوکے اور چرخی کیساتھ بندھی رسی چرخی پر لپٹنے لگتی اور کنویں کے ٹھنڈے میٹھے پانی سے بھرا ہوا بوکا کنویں سے نکل کر چرخی چلانے والے بندے کے ہاتھ میں آجاتا جس سے وہ پانی نکال کر لائن میں رکھے مٹکوں گھڑوں اور پانی کے دیگر برتنوں میں انڈھیلنے لگتا۔ لوگ اپنے اپنے برتن اُٹھا کر چل دیتے لیکن کنویں سے پانی نکالنے والا رضاکار خدمت خلق کا یہ نیک کام اس وقت تک کرتا رہتا جب تک وہ تھک نہ جاتا۔ جب وہ تھکنے لگتا تو اپنا گھڑا ڈول یا بالٹی بھر کر اُٹھاتا اور اپنے گھر کی راہ لیتا اور اس کی جگہ کوئی اور تازہ دم جوان آگے بڑھ کر بوکے اور چرخی کی مدد سے کنویں سے پانی نکالنے لگتا۔ بڑی بھیڑ ہوتی ان کنووں پر اور پانی بھرنے کیلئے آنے والوں کا شور شرابا اور پانی بھرنے کی باری پر لڑائی جھگڑا تو تو میں میں سے گالم گلوچ اور لڑائی مارکٹائی کی حدود پار کرنے لگتی۔ ٹھنڈی کھوئی، کالے دی کھوئی، سیخاں والا کھو، حاجیانڑی دی کھوئی، چاہ شہباز، مہراں دی کھوئی اور اس قسم کے بہت سے مشہور ومعروف کنویں تھے شہر پشاور کی گلی گلی میں جہاں پر گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈے پانی کے طلب گاروں کی پیاس بجھانے کا پرہجوم منظرنامہ اب بھی ہماری آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے تو ہم اپنی کھوئی ہوئی جنت کو یاد کرنے لگتے ہیں
کیا ستم ہے کہ اب تیری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے
ماہرین لسانیات ایک کنویں کا پتہ دیتے ہیں جس پر خروشتی رسم الخط میں یہ بات درج ہے کہ صدیوں پہلے یہ کنواں ثواب کی نیت سے کھودا گیا تھا تاکہ خلق خدا اس کے پانی سے پیاس بجھاتے رہیں، بعض کنوؤں کے پانی کو اس قدر متبرک سمجھا جاتا کہ جب کسی دلہا کو بارات لیکر اپنی ہونے والی دلہن کی ڈولی لانے کیلئے باراتیوں کے شادیانے بجاتے جلوس کی صورت جانا ہوتا تو اس سے پہلے شادیانے بجاتا گھڑا گھڑولی کا جلوس نکالا جاتا جس میں دولہا کے یار بیلی ایک منقش اور رنگین گھڑے کو اُٹھا کر بارات کے بینڈ کی دھن پر ناچتے گاتے بھنگڑے ڈالتے ایک ایک کرکے پشاور کے سات کنوؤں پر جاکر ہر کنویں سے تھوڑا تھوڑا پانی اس گھڑے میں اکٹھا کرکے لاتے جس سے وہ دلہا میاں کا غسل کرواتے اور اسے دلہا کے کپڑے پہنا کر اس کے سر پر سہرہ سجاتے اور یوں وہ شادیانے بجاتی بارات کی صورت دلہا کی دلہن لانے روانہ ہوجاتے، پشاور میں چرخی بوکے والے ٹھنڈے پانی کے کنوؤں کا کلچر اس ہی روز سے غیرمحسوس طریقے سے ختم ہونے لگا تھا جس روز سے بلدیہ پشاور کے ترسیل آب کے نظام نے قریہ قریہ ٹیوب ویل لگا کر پانی کی سپلائی نلکوں کے ذریعہ شروع کردی، پشاور کے پرانے کنوؤں سے ٹھنڈا پانی ہمہ وقت ملتا تھا لیکن ٹیوب ویلوں کے ذریعہ سپلائی شروع ہونے کے بعد کنویں بند کر دئیے گئے اور یوں پانی کی بوند بوند کو ترسنے والے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ٹیوب ویل آپریٹر کے رحم وکرم پر یا اس کے مرہون منت ہوکر رہ گئے، اور اس پر طرہ یہ کہ ٹیوب ویل کے ذریعے زمین سے کھینچ کر نکالے جانے والے پانی کا تجزیہ کیا تو غضب خدا کا اس میں زمین میں دفن مردوں کی ہڈیوں کا برادہ بھی آنے لگا۔ بوکے چرخی والے کنوؤں سے نتھرا ہوا پانی ملتا تھا لیکن واٹر سپلائی منیجمنٹ کے ذریعے ملنے والے پانی میں شامل جراثیم اور آلودگیوں کے ثبوت ملنے کے بعد اب لوگ نتھرا ہوا پانی پی کر زندہ رہنا چاہتے ہیں لیکن اس کا کیا جائے کہ لوگوں کی اس بنیادی ضرورت اور اس کی مانگ کو دیکھ کر صنعتکاروں نے نتھرے ہوئے پانی کی فیکٹریاں لگا رکھی ہیں اور یوں وہ فلٹرڈ اور منرل واٹر بیچ کر پانی میں سے سونا چاندی نکال رہے ہیں مگر کب بھاتی ہے محسن کاظمی جیسے شاعر کو کسی سرمایہ دار کی یہ حرکت اور وہ بے اختیار ہو کر پکار اُٹھتے ہیں کہ
دوچار دن کے ظلم نہیں ہیں یزید کے
پیتے ہیں لوگ آج بھی پانی خرید کے