حکمت عملی کا فقدان

دکانداروں کی جانب سے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے سے احتراز اور بار بار تنبیہ کے باوجود خلاف ورزیوں کے باعث انتظامیہ کے اقدام پر تاجروں نے جس ردعمل کا مظاہرہ کیا اس کی نوبت نہیں آنی چاہئے تھی، دوسری جانب انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام بھی بری الذمہ اس لئے نہیں کہ جب مسلسل اس امر کا عندیہ دیا جاتا رہے گا کہ کورونا کے کیسز میں روزانہ کی بنیاد پر کمی آرہی ہے، ہسپتال خالی ہورہے ہیں، نئے مریضوں کی آمد تقریباً ختم ہوچکی تو احتیاط کے تقاضوں کی خلاف ورزی فطری امر تھا۔ ایک جانب کورونا کی رخصتی کی نوید اور دوسری جانب احتیاطی تدابیر پر زور کم از کم ہمارے معاشرے کے لحاظ سے کوئی بہتر حکمت عملی نہ تھی۔ حکومت کو عیدالاضحی تک پہلے والی پالیسی جاری رکھنی چاہئے تھی، سمارٹ لاک ڈائون پہلے بھی رسمی ہی لگتی تھی اسے کچھ دن اور جاری رکھ کر عوام کو باور کرایا جاتا کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ ویسے محکمہ صحت کے تمام دعوئوں کے باوجود اصل صورتحال یہ ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کی منزل ابھی خاصی دور ہے۔ پنجاب میں اسی باعث سخت لاک ڈائون کیا گیا ،ان کی حکمت عملی بروقت اور درست اس لئے تھی کہ اس کا باقاعدہ سرکاری طور پر اعلان کیا گیا اور خیبرپختونخوا کے دارالخلافہ کے مرکزی بازاروں میں اچانک اور غیر اعلانیہ کارروائی کا بھونڈا طریقہ اختیار کیاگیا۔ اس طرح کے کئی دیگر واقعات پہلے ہی ہوچکے ہیں جس کے تناظر میں ممکن ہے تاجر صلاح مشورے سے آئندہ کی صورتحال کیلئے اتنے تیار تھے کہ پوری ضلعی انتظامیہ طاقت لگانے کے باوجود یرغمال ہوئی اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے فوج طلب کرنا پڑی۔ انتظامیہ اگر رات گئے ان مارکیٹوں کا کنٹرول سنبھالتے اور لاک ڈائون یا بندش کا اعلان کردیتی، دکانوں کو صبح کھلنے ہی نہ دیا جاتا، ساتھ ہی متوقع ردعمل سے نمٹنے کی تیاری کی جاتی، تو ضلعی انتظامیہ کو اس درجے کی خجالت کاسامنا نہ ہوتا۔ اتنی بڑی کارروائی ہونے کے باوجود مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ بہرحال اب جبکہ بازار بند کردیئے گئے ہیں تو احتجاج کے دوران گرفتار کئے گئے تاجروں کو عید الاضحی سے قبل رہا کیا جانا چاہئے، مہینوں سے متاثرہ تاجروں کا اشتعال فطری امر تھا، ساتھ ہی ان کا یہ موقف بھی غلط نہیں کہ صارفین کو وہ زبردستی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے تھے۔ انتظامیہ اگر چاہتی تو مارکیٹوں میں دکانداروں کو ہراسان کرنے کی بجائے گاہکوں کو حفاظتی تدابیر کے بغیر مارکیٹ کے راستوں پر ہی روک کر واپس کرسکتی تھی اور ان کو تنبیہ وترغیب کے ذریعے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر قائل یا مجبور کیا جاسکتا تھا، بہرحال اب جبکہ ناخوشگوار صورتحال پیش آہی گئی ہے اب اس کے اثرات کو زائل کرنے اور مزید احتجاج کا راستہ روکنا ہی بہتر حکمت عملی ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ نے بہتر حکمت عملی اختیار نہ کر کے حکومت اور تاجروں کے درمیان محاذآرائی کی جو کیفیت پیدا کی ہے اسے عیدالاضحی سے قبل دور ہونا چاہیے، اگر ایسا نہ کیا جا سکا تو عید کے بعدتاجروںکے ممکنہ لائحہ عمل کا مقابلہ کرنا حکومت اور انتظامیہ دونوں کیلئے آسان نہ ہوگا۔