صوبائی حقوق کی ادائیگی کا احسن عندیہ

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزارت توانائی وزارت خزانہ اور ایف بی آر اور صوبائی حکومت کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی ادائیگیوں کے معاملے میں طریقہ کار طے کرنے کی ہدایت کس حد تک انتظامی ہے اور کس حد تک سیاسی اس کا تعین وقت اور سامنے آنے والے عملی اقدامات ہی کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے عیدالاضحی کے بعد صوبائی حقوق کے حوالے سے جن امور کی تفصیلی نشاندہی کرنے کیساتھ احتجاج کا عندیہ دیا گیا ہے اس کی نوبت نہیں آنے دینا چاہئے۔ گورنر خیبرپختونخوا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وزیراعظم کے زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں یقینا اس حوالے سے سنجیدہ گزارشات کی ہوں گی اور صوبے کے حقوق کی وکالت کا حق ادا کیا ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کی جانب سے محولہ ہدایت کافی نہیں بلکہ بجلی کے خالص منافع اور اس مد میں بقایا جات کی ادائیگی کا فارمولہ موجود ہے صرف اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے اس کے باوجود اگر وفاقی حکومت ضروری سمجھتی ہے تو اس کا جائزہ لینے اور طریقہ کار طے کرنے میں مضائقہ نہیں البتہ صوبے کو اس کے بقایا جات ومنافع کی ادائیگی اگر یکمشت ممکن نہ ہوں تو قسط وار ادائیگی کے شیڈول کا اعلان کیا جانا چاہئے اور یکمشت ایک معقول رقم صوبے کو ادا کرنے کی ضرورت ہے۔خیبرپختونخوا کے عوام اور حکومت بشمول حزب اختلاف سبھی کا کسی نہ کسی طرح اس امر پر اتفاق ہے کہ وفاقی حکومت صوبے کو اس کے حصے کے وسائل کی ادائیگی کی ذمہ داری نبھائے۔صوبے کے عوام نے یکے بعد دیگرے توقعات وابستہ کر کے حکمران جماعت کے اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار کیا اس کا بھی تقاضا ہے کہ صوبے کے عوام کو مایوس نہ کیا جائے اور صوبے کے جائز حقوق کی ادائیگی میں لیت ولعل کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔
تنقید اور استعفے
وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی دہری شہریت اور بھاری اثاثوں پر ہونے والی تنقید کے بعد بالآخر ایسے دو معاونین خصوصی سے استعفے لے لئے گئے یا پھر انہوں نے خود استعفے دے دیئے جن کو بہتری کی اُمید پر ہی عہدے دیئے گئے تھے۔اور وہ بیرون ملک سے آئے تھے۔ استعفوں کے بعد ان کے واپس باہر چلے جانے کی صورت میں بھی تنقید کے تھمنے کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔اب یہ کہے جانے کا امکان ہے کہ ہم نے پہلے ہی عہدے ختم ہو جانے کے بعد ان کی واپسی کی پیشگوئی کی تھی جو درست ثابت ہوئی۔میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر تنقید کو روکنا تو ممکن نہیں لیکن جن دومعاونین خصوصی ومشیروں نے استعفے دے دیئے ہیں ان کے استعفے کی وجہ صرف تنقید نہیں بلکہ ان کے حوالے سے فیصلہ کرتے وقت لگتا ہے پوری طرح سوچ بچار کا موقع نہ ملا تھا۔ اسے وزیراعظم عمران خان کی خوبی ہی سمجھی جائے کہ جب کوئی صورتحال سامنے آتی ہے تو وہ سخت اقدام سے گریز نہیں کرتے، یہ پہلا موقع نہیں بلکہ قبل ازیں بھی صوبائی وزراء کو ہٹانے اور دیگر نوعیت کی کارروائیاں ہوتی رہی ہیں۔ تازہ استعفے بھی اسی سلسلے کا حصہ ہیں۔دونوں عہدیداروں کے حوالے سے تحفظات موجود تھیں۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ظفر مرزا کیخلاف گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کم از کم دو انکوائریاں شروع ہوئیں، جن میں ان سے کافی تلخ سوالات کیے گئے تھے۔ڈاکٹر ظفر مرزا کیخلاف ہونے والی تحقیقات میںادویات کی برآمد کیلئے ایس آر او کا اجرا اور حال ہی میں دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ شامل تھیں۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ظفر مرزا نے دونوں تحقیقات میں کسی قسم کی ذمہ داری لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایس آر او کے اجرا اور قیمتوں کے اضافے میں براہ راست ان کا تعلق نہیں تھا۔جبکہ تانیہ ایدروس کے معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان کا عہدہ سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے بعد ان کا ایک نجی کمپنی سے تعلق کا انکشاف ہوا تھا۔ تاہم تانیہ ایدروس نے ڈیجیٹل پاکستان فانڈیشن(ڈی پی ایف)نامی اس کمپنی سے اپنے تعلق کو خفیہ رکھا تھا اور اس راز کو پاکستانی میڈیا نے فاش کیا تھا۔یاد رہے کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم عمران خان کے تمام معاونین خصوصی نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی تھیں، جن میں کئی ایک معاونین کی غیر ملکی شہریتوں کا انکشاف بھی ہوا اور اس سلسلے میں دہری شہریت رکھنے والے معاونین اور خود وزیر اعظم عمران خان پر بھی اعتراضات اُٹھائے گئے تھے۔ہم سمجھتے ہیں کہ عہدوں کی تفویض اور عہدے واپس لینا حکومت کا حق ہے اور خاص طور پر جہاں عدم شفافیت اور مفادات کے ٹکرائو کا سوال اُٹھے وہاں دامن بچالینے کیلئے ایسا کرنا حکومت کیلئے ناگزیر تھا۔مستعفی اراکین سمیت جن دیگر معاونین خصوصی اور مشیروں کے نام لئے جارہے ہیں ان سب کیلئے مناسب یہ تھا کہ ان کو استعفے دینے یا شہریت چھوڑنے کیلئے کہا جاتا اس طرح سے تنقید میں شدت نہ آتی بجائے اس کے کہ اسے وزیراعظم کی صوابدید قرار دیا گیا اور قانون میں ایسے کسی شرط کے نہ ہونے کا بیان دیا گیا۔مستعفی ہونے والے دوہری شہریت ترک کرنے کا اعلان کرتے تو یہ تنقید کرنے والوں کا مسکت جواب ہوتا، بہرحال دوعہدیداروں کے استعفے سے جو باب کھلا ہے اس کے بعد مزید استعفوں کا باب کھلے گا اور دوہری شہریت رکھنے والے یا جن کے اثاثے ملک سے باہر ہیں وہ سب دفاعی اندازاختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔
جیلوں میں منشیات کی سپلائی لائن
منشیات سپلائی ہونے کے نیٹ ورک کے ایک کارندے کی گرفتاری قابل اطمینان امر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گرفتار شدہ اہلکار اس نیٹ ورک کا محض ایک کارندہ ہی ہوسکتا ہے جس کی تفتیش کر کے پورے نیٹ ورک کا پتہ چلانے اور اسے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام جیل خانہ جات میں اس طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ جیلوں میں منشیات کی سپلائی کی روک تھام یا کم ازکم اس میں کمی آسکے۔سینٹرل جیل پشاور میں منشیات کی فراہمی کے اس واقعے کے بعد قانون کی وردی میں ملبوس مشکوک عناصر کی کڑی نگرانی اور اس قسم کے عناصر سے پولیس فورس کو پاک کرنے کی ضرورت ہے۔