محصور کشمیری بمقابلہ ”ہندوتوا” ذہنیت

ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا’ گزشتہ سال کے انہی دنوں کی بات ہے کہ بھارتی حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت بھارتی آئین کے دو آرٹیکل نمبر370 اور 15-Aکو غیرمؤثر قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔ مودی سرکار کے پالیسی ساز اس حقیقت سے یکسر بے خبر محسوس ہوئے (یا انہوں نے جان بوجھ کر خود کو بے خبر ظاہر کیا) کہ مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کے مسئلے کو خود بھارتی حکومت کم وبیش 70برس پہلے اقوام متحدہ میں لیکر گئی تھی۔ حالیہ برسوں میں تین مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کسی نہ کسی طور اور کسی نہ کسی سطح پر مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کے بارے میں سفارتی کارروائی کی ہے۔ ادھر مودی سرکار کے اس غیرقانونی بلکہ مجرمانہ اقدام کیخلاف وادی کے عوام نے احتجاج کیا تو قابض بھارتی فوج نے وادی کو عملی طور پر باقی دنیا سے کاٹ کر وہاںکے عوام کو محصور کر دیا ہے اور یہ سلسلہ ایک سال سے جاری ہے۔ صورتحال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ تک کی سروس بھی بند ہے۔ وہاں پر ملکی یا غیرملکی میڈیا کے نمائندوں کی رسائی تو الگ رہی ایک عام سیاح کو بھی وادی میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ مودی سرکار نے ایک طے شدہ منصوبے اور گہری سازش کے تحت مذکورہ دو آرٹیکل غیرمؤثر بنائے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی مرضی سے غیرکشمیری افراد کو لاکر آباد کیا جائے۔ اس منصوبے اور سازش کا ایک بین ثبوت یہ ہے کہ وہاں پر اب تک دولاکھ سے زائد ایسے مکانات تعمیر کئے جا چکے ہیں، جہاں غیرکشمیری آکر آباد ہو رہے ہیں۔ اس مقصد کیلئے ان افراد کو پرکشش ترغیبات دی جارہی ہیں اور اس کا ایک جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ1947ء میں وادی سے نقل مکانی کر گئے تھے اور اب وہ واپس آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہزاروں کی تعداد میں ریاستی ڈومیسائل جاری کئے گئے ہیں جن کی قانونی حیثیت کو کشمیری حریت پسند قیادت قبول نہیں کرتی۔ واقفان حال کا ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس غیرقانونی اور امن دشمن منصوبے کا راستہ دکھانے والی اسرائیل کی حکومت ہے جس نے فلسطینیوں کو ان کے وطن سے دور رکھنے اور فلسطین کی سرزمین پر اپنے قدم جمانے کیلئے ایسا ہی طریقہ اور حربہ استعمال کیا تھا۔ قارئین کی دلچسپی اور معلومات کیلئے تحریر کیا جاتا ہے کہ مودی سرکاری نے اپنے غیرقانونی اور غیرآئینی اقدامات کا سلسلہ یہیں پر موقوف نہیں کیا بلکہ آزادکشمیر کے صدر مسعود خان کے مطابق ”مقبوضہ کشمیر کی ایڈمنسٹریٹو کونسل نے اس تجویز کی منظوری دی ہے کہ کنٹرول آف بلڈنگ آپریشن ایکٹ1988ء اور ڈویلپمنٹ ایکٹ 1970ء میں ترمیم کی جائے تاکہ بھارتی فوجیوں کو جو علاقے درکار ہوں ان کو ”تذویراتی علاقہ” قرار دیکر اس کا قبضہ ان بھارتی فوجیوں کو دیدیا جائے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ پہلے ہی 243ہیکٹر کا رقبہ بھارتی فوج کے حوالے کرچکی ہے جبکہ ماضی میں 21400ہیکٹر کا وسیع رقبہ تذویراتی قرار دیکر بھارتی فوج کے حوالے کیا گیا۔ اس نئے ضابطے کے تحت وادی کے عوام اور خاص طور پر مسلمانوں کو اب جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جارہا ہے”۔ وادی کے مظلوم عوام کا وادی سے باہر کی دنیا سے عملی طور پر کوئی رابطہ نہیں ہے لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طور پر محصور کشمیری مہذب دنیا کو اپنے حالات کی نزاکت اور ابتری سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسی ہی اطلاعات سے یہ حقیقت اُجاگر ہوئی کہ مقبوضہ کشمیر میں9لاکھ بھارتی فوجی موجود ہیں اور اگر اس تعداد کو مقبوضہ وادی کے عوام کی کل تعداد کیساتھ اوسط کے فارمولے کے تحت دیکھا جائے تو یہ حیرت انگیز حقیقت بے نقاب ہوتی ہے کہ ایک مظلوم اور نہتے کشمیری پر آٹھ ایسے بھارتی فوجی متعین کئے گئے ہیں جن کے پاس جدید اسلحہ اور ہر قسم کی سہولت موجود ہے۔ یہ صورتحال قابض فوجیوں کو یہ حوصلہ بھی دیتی ہے کہ وہ ان محصور کشمیریوں کیساتھ قانون اور ضابطے کی بجائے اپنی مرضی کے مطابق سلوک کریں۔ اسی لئے گزشتہ دنوں یہ واقعہ بھی رونما ہوا کہ بھارتی فوجیوں نے ایک نہتے بزرگ کو نہ صرف گولی مار کر شہید کر دیا بلکہ اس کے ہمراہ اس کے نوعمر نواسے کو اس کی لاش کے سینے پر بٹھا کر اس کی تصویریں اور ویڈیو بناتے رہے۔ یہ منظر سوشل میڈیا پر دنیا بھر میں وائرل ہوا اور مہذب دنیا نے اس کی شدید مذمت کی لیکن مودی سرکار پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ایک سیمینار میں آزادکشمیر کے صدر مسعود خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت نے پاکستان کیخلاف جنگ کا آغاز کردیا ہے اور اب ہمیں ہر اقدام کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا۔ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور محصور عوام کا مقابلہ اس ”ہندوتوا” ذہنیت سے آن پڑا ہے جو کسی قانون’ اخلاقیات اور تہذیبی روایات کو خاطر میں لانے کی عادی نہیں بلکہ وہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور علاقے میں بالادستی قائم کرنے کیلئے جائز اور ناجائز کے درمیان تمیز کرنے سے بھی عاری ہوگئی ہے اس کے باوجود تاریخ کا یہ درس اور سبق پیش نظر رہے کہ ” ظلم پھر ظلم ہے’ بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے”۔ یہی وہ حوصلہ اور اُمید ہے جو مظلوم کشمیری عوام کیلئے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے۔