مشرقیات

حضرت ابن مسعود نے ایک شخص کو تہبند لٹکائے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اپنا تہبند اونچا کرو، اس نے کہا: ابن مسعود! اپنا تہبند تو سنبھال لیں۔ کہا: میں تمہاری طرح نہیں’ میری پنڈلیاں پتلی ہیں اور میرا رنگ گندمی ہے۔ حضرت عمر تک یہ بات پہنچی تو اس شخص کو ایک ضرب لگائی اور کہا: کیا تو نے ابن مسعود کو جواب دیا؟ حضرت حذیفہ کہتے ہیں: رسول اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے اہل علم کو معلوم ہے’ حضرت ابن مسعود خدا کے بہت قریب اور کتاب الٰہی کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ ایک بار حضرت عمر ایک مجلس میں تشریف فرما تھے’ حضرت ابن مسعود آئے اور بیٹھنے لگے۔ اپنے چھوٹے قد کی وجہ سے وہ لوگوں میں چھپ گئے تھے۔ سیدنا عمر ان سے ہنسی مذاق کرنے لگے’ واپس ہوئے’ نظروں سے اوجھل ہوئے تھے کہ سیدنا عمر نے کہا’ ابن مسعود علم کی زنبیل (کنیف) ہیں’ جو علوم ومعارف سے لبریز ہے۔ یہ فقرہ انہوں نے تین بار کہا۔
سیدنا عمر کے کہنے کے بعد سیدنا ابن مسعود لفظ کنیف سے ملقب ہوگئے’ یہ لقب محدثین کے ہاں ان کیلئے خاص ہوگیا۔ فتاویٰ ظہیریہ (مرتبہ: ظہیرالدین بخاری) میں ہے کہ یہ لقب خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عطا کیا تھا۔ حضرت علی نے فرمایا: حضرت ابن مسعود نے قرآن پڑھا’ سنت کا علم حاصل کیا’ علم ہی پر اکتفا کر لیا اور یہی بہت ہے۔ (مستدرک حاکم)
حضرت ابن مسعود خود بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارکہ سے ستر سورتیں سیکھیں۔ (بخاری) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تو پڑھا ہوا بالک ہے۔ (مسند احمد) ابن مسعود بیان کرتے ہیں’ ایک بار رسول اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سورہ نساء سنانے کا حکم دیا۔ میں نے عرض کیا’ کیا میں پڑھ کر سناؤں’ حالانکہ قرآن تو آپ پر نازل ہوا ہے؟ فرمایا’ میں دوسرے کے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔ میں نے تلاوت شروع کی، جب آیت 41 پر پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روک دیا’ تب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ (بخاری’ مسلم)
حضرت علقمہ شام گئے تو سیدنا ابوالدردا سے ان کی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا’ کیا تمہارے ساتھ وہ صاحب (حضرت ابن مسعود) نہیں رہتے جن پر نبی اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتوں’ بستر اور وضو کے پانی کی ذمہ داری تھی’ جو رازدان رسالت تھے؟ (بخاری)