یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں

کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ بہت سے موضوعات سامنے آکھڑے ہوتے ہیں کہ بندہ انگریزی کے الفاظ میں Pick and choose کے مسئلے سے دوچار ہوجاتا ہے اور اگر کسی ایک یا دو موضوعات کو لیکر باقی کو نطرانداز کردیا جائے تو وقت گزرنے کے بعد ان کی وقعت ختم ہو کر رہ جاتی ہے، اس لئے آج کا کالم موضوعات کے تنوع کے حوالے سے بظاہر ”چوں چوں کا مربہ” سمجھ لیں یا کچھ اور آپ کی مرضی، البتہ یہ مختلف موضوعات متقاضی ہیں یعنی بقول شاعر
یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کیلئے
کھڑے رہو گے کہاں تک تماشبینوں میں
پہلا موضوع عوامی نقطۂ نظر سے اہم بھی ہے اور قابل توجہ بھی کہ اس کی حیثیت چلیپائیوں جیسی ہے، بظاہر تو عوامی شکایت یہ ہے کہ نانبائیوں نے نہ صرف روٹی کا وزن کم کردیا ہے روٹی مہنگی کردی ہے بلکہ دوگنے وزن کی ڈبل روٹی (کم وزن کیساتھ) عوام کو فراہم کر کے ان کا استحصال شروع کررکھا ہے۔ ظاہر ہے اس صورتحال کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ شہر میں آٹے کی فراہمی میں مشکلات کی شکایات عوام کیساتھ نانبائیوں کو بھی ہیں۔ فلور ملز نے گندم کی پسائی بند کر کے مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔ فلور ملز والوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں پنجاب کی طرز پر گندم کی سپلائی کی جائے تاکہ وہ پسائی کر کے سرکاری نرخوں پر آٹے کی فراہمی کو ممکن بناسکیں، غرض ایک مسئلے کی کوکھ میں سے کئی مسائل اُبھر رہے ہیں حکومتی حلقے اپنے بیانات میں مسائل کی تردید کرتے دکھائی دے رہے ہیں مگر اصل حقیقت کیا ہے اس کی وضاحت نہیں ہورہی اور ایک محاورے کے مطابق گیہوں کیساتھ گھن پسنے کا اطلاق آخر میں اصل متاثرین یعنی عوام پر ہو رہا ہے جو دو پاٹن کے بیچ والے ایک اور محاورے کی مانند تمام سٹیک ہولڈرز کی ”ریشہ دوانیوں” کا شکار بن رہے ہیں۔ ویسے جہاں تک یہ نانبائیوں کی جانب سے ڈبل روٹی یعنی دوگنے وزن کی روٹی کی فراہمی کا تعلق ہے تو یہ ہر سال عیدالفطر اور عیدالاضحی کے مواقع پر اسی نوعیت کے سلوک کا اعادہ بلکہ ”نیٹ پریکٹس” ہی لگتی ہے، اس لئے عوام کو ابھی سے عید کے دنوں میں (کم وزن کیساتھ) ڈبل وزن کی روٹی کا عادی بنانا ہے۔ عوام کیلئے میر تقی میر نے یونہی تو نہیں کہا تھا کہ
پگڑی اپنی سنبھالئے گا میر
اور بستی نہیں یہ دلی ہے
ایک خبر کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے وفاق کی جانب سے تیل وگیس کی مد میں رائلٹی سمیت دیگر حقوق نہ دینے پر وفاق کیخلاف علم بغاوت بلند کر دیا ہے اور صوبائی حقوق کیلئے عید کے بعد اسلام آباد میں ڈیرے ڈالنے کی دھمکی دے دی ہے۔ اپوزیشن نے واضح کیا کہ اگر حکومت صوبائی حقوق نہیں دے رہی اور خیبر پختونخوا حکومت نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے تو وفاق سے حقوق چھین لیں گے۔ اب دیکھئے تو اس مسئلے کے بھی دو پہلو ہیں، ایک اپوزیشن جماعتوں کی چتاؤنی یا دھمکی کہ وہ وفاق سے صوبائی حقوق چھین لیں گی تو قدیم زمانے میں کسی اُستاد شاعر نے یہ شعر ایسی ہی صورت احوال کے حوالے سے کہا ہوگا جو آنے والے ادوار پر بھی منطبق ہوتا رہتا ہے یعنی
نہ خنجر اُٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں
اور جہاں تک صوبائی حکومت کی صوبے کے حقوق پر خاموشی اختیار کرنے کے الزامات کا تعلق ہے تو ماضی کے ادوار سے لیکر موجودہ دور تک ہر صوبائی حکومت کبھی کبھی دل خوش کرنے اور عوام کو ورغلانے کیلئے نعرہ مستانہ تو بلند کرنے کا تکلف ضرور کرتی رہی ہے تاہم وفاق کی جانب سے آنکھیں دکھانے کے بعد ورنہ پر نوکری عمومی رویہ رہتا ہے۔ سو اب بھی وہی صورتحال ہے اور ایسا نہ ہوتا تو پشاور ہائی کورٹ میں گزشتہ روز محکمہ صحت اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بدانتظامی، سینئر ڈاکٹرز کی برطرفی اور استعفوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فاضل جسٹس قیصر رشید کی جانب سے انڈکشن کیس میں یہ ریمارکس کیوں سامنے
آتے کہ محکمہ صحت تباہ ہو رہا ہے، ایک شخص اتنا طاقتور کیسے ہو گیا، ملک کی صحت کے فیصلے سات سمندر پار سے ہو رہے ہیں۔ فاضل عدالت نے جس مسئلے پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور جس ”شخصیت” کی جانب اشارہ کیا ہے اس کی حقیقت پورا ملک جانتا ہے مگر صوبے سے باہر کے ایک شخص کیخلاف اگر صوبائی حکومت ایک لفظ تک منہ سے نہیں نکال سکتی تو وہ صوبے کے پن بجلی اور گیس پیٹرول کی آمدن کیسے وصول کرسکتی ہے، بلکہ صوبے کے جائزحقوق سے دستبردار ہونے پر ”تابعداری” کی حدیں اس حد تک پار کر چکی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں پورے صوبے میں کوئی ایک بھی شخص صوبے کی نامزدگی کیلئے دکھائی نہیں دیتا اور پنجاب سے ”صوبے کے حقوق” مانگنے کیلئے بندہ اوپر سے مسلط کئے جانے کی مزاحمت تک موجودہ صوبائی حکومت نہیں کر سکتی، حالانکہ بلوچستان کے احتجاج کے بعد وہاں کیلئے نامزد سابق وزیر جن کا تعلق سندھ سے تھا جاوید جبار نے خود ہی مستعفیٰ ہو کر اپنی عزت بچالی تھی، مگر نہ تو خیبر پختونخوا کی حکومت نے اپنے لئے پنجاب کے نمائندے پر احتجاج کیا نہ ہی اس نامزد شخص میں اتنی حمیت تھی کہ وہ خود ہی اس غیرآئینی اقدام کیخلاف مستعفی ہو جاتا۔ بہرحال دیکھتے ہیں کہ احتجاج کی آواز بلند کرنے والے حزب اختلاف کی جماعتیں اسلام آباد میں واقعی اکٹھی ہوتی ہیں یا پھر بقول نکہت افتخار
جانے کس وقت کوچ کرنا ہو
اپنا سامان مختصر رکھئے