اُمت مسلمہ کو پیغام

میدان عرفات کی مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ عبداللہ المنیع نے موجودہ وبائی صورتحال کے تناظر میں امت مسلمہ کو خاص طور پر پیغام دیا کہ بحیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ مصیبت سے بچنے کیلئے ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کریں جو ہم کر سکتے ہیں۔ اسلامی شریعت ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ ہم ہر طرح کی معاشی اور مالی مشکلات کا مقابلہ کریں اور پوری کوشش کریں کہ ان پر قابو پا سکیں۔ اسی لیے اسلامی شریعت نے تعلیم دی ہے کہ ہم ہر طرح کا کاروبار کریں۔ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیں جس سے ہم اپنی غربت پر قابو پا سکیں۔ شیخ عبداللہ المنیع نے کہا کہ اللہ نے یہ بھی حکم دیا کہ ہم ناپ تول میں انصاف سے کام لیں اور کسی قسم کی کمی بیشی نہ کریں۔ صلہ رحمی سے کام لیں تاکہ معاشرے میں ہم آہنگی اور محبت کا ماحول پیدا ہو سکے۔ خطبہ حج میں کہا گیا کہ پیغمبر اسلام نے حکم دیا کہ اگر آپ کسی مرض کا شکار ہیں تو دوا کریں، کسی وبا یا طاعون کا کسی علاقے میں سنیں تو لازم ہے کہ آپ اس علاقے میں نہ جائیں۔ اگر اس علاقے میں موجود ہیں تو آپ کو چاہیے کہ اس علاقے میں رہیں تاکہ یہ وبا نہ پھیل سکے۔شیخ عبداللہ المنیع نے خطبے میں کہا کہ ان تمام نبوی تعلیمات کی روشنی میں لازم ہے کہ ہم ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیارت کریں۔ حج عبادات کا وہ رکن ِ اعظم ہے جو تزکیہ نفس کے علاوہ مسلم معاشرے کو سماجی’ معاشی’ سیاسی اور اخلاقی ہدایت بھی مہیا کرتا ہے۔ امت مسلمہ کا یہ سب سے بڑا اجتماع اپنے اندر ملت اسلام کی معاشرتی معاملات میں رہنمائی کا پیغام بھی رکھتا ہے’ اس تناظر میں خطبہ حج کی اہمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے ایک پالیسی بیان کی سی ہے جس کی پاسداری ہمارے دنیاوی معاملات کو سلجھا سکتی ہے اور اقوامِ عالم میں امت مسلمہ کو وہ بلند مقام عطا کر سکتی ہے جس کی یہ قوم حقیقی طو ر پر مستحق ہے۔ شیخ عبداللہ المنیعنے دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے لوگوں کے عظیم اجتماع حج سے خطاب کرتے ہوئے روایتی لب ولہجہ اختیار کیا اور نہ ہی ان کا خطاب کوئی پیچیدہ علمی اور فہمیدگی کیلئے مشکل تھا بلکہ ان کا خطاب امت مسلمہ کیلئے ان تمام معاملات کی صرف یاد دہانی تھی جسے امت مسلمہ نے بھلا دیا ہے۔ شیخ المنیع سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت کوئی پوشیدہ امر نہیں جنہوں نے اس میدان اور اس مقام پر کھڑے ہو کر آقائے دوجہاں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰۖ کے اس خطبے اور ان ارشادات کا اعادہ کیا جو پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید وسائل نے دنیا کو بڑی حد تک سمیٹ دیا ہے’مگر دیکھا یہ جا رہا ہے کہ اس کے باوجود دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ لوگ سوشل میڈیا پر یا دیگر ذرائع سے دنیا کے دوسرے کونے میں دوستیاں بنائے ہوئے ہیں مگر حقیقی صورت یہ ہے کہ گھروں کے اندر تنہائیاں بڑھ رہی ہیں۔ ہمیں ان حقائق پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر چند کہ جدید سہولیات کا استفادہ معاشرتی ترقی اور نمو کیلئے لازمی ہے مگر یہ دیکھنا ہوگا کہ ہماری سماجی’ خاندانی اور ذاتی زندگی پر ان وسائل کے منفی اثرات تو مرتب نہیں ہو رہے؟یہ سہولتیں ہمیں خرافات کی جانب تو نہیں لے جا رہیں؟ اگرچہ ہر فرد اپنے آپ کا خود بھی ذمہ دار ہے مگر والدین اور سرپرستوں پر بدرجہ اتم ذمہ داری ہے اور ریاست بھی تو شہریوں کیلئے اصولی طور پر سرپرست ہی ہوتی ہے۔ سماج کے اندر اور ورچوئل دنیا میں ایسے بہت سے امکانات موجود ہیں جواخلاق باختہ اور جسمانی و نفسیاتی صحت کیلئے خطرناک اثرات کے حامل ہیں’ والدین اور سرپرست اس سلسلے میں خبردار رہیں اور اپنے بچوں کو بچانے کے فریضہ نبھانے میں کوتاہی کامظاہرہ نہ کریں۔بطور مسلمان اور امت مسلمہ کے آج اگر ہم اپنے زوال کے اجتماعی اسباب کا جائزہ لیں تو سب سے قدر مشترک اور بنیادی سبب یہی سامنے آتا ہے کہ آج ہم اسلام کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ سے ہدایت ورہنمائی چھوڑ چکے ہیں۔ ہماری ترجیحات دین کے تابع نہیں بلکہ اس کے سراسر خلاف ہیں جوں جوں ہم اپنے مالک حقیقی اور اس کے محبوبۖ کی تعلیمات اور ہدایات سے دور ہوتے گئے تو ہم آسمان وزمین اور پوری کائنات کے رب عظیم کے رحم کے ازخود مستحق نہیں رہے جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ امام مسجد نبوی نے اپنے خطبہ حج میں انہی امور کی طرف امت مسلمہ کی توجہ دلائی ہے اور اپنے رب کریم سے جڑنے اور ان کی تعلیمات وہدایات اور رسول اکرمۖ کے اسوہ حسنہ کو اختیار کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ بلاشبہ ہمارے تمام مسائل کا حل اپنے اصل کی طرف لوٹنے میں ہے ہم جب تک اپنے اصل کی طرف نہیں لوٹیں گے امت مسلمہ کی شیرازہ بندی ممکن نہ ہوگی۔