عیدالاضحی کے موقع پر صفائی’ شہری بھی ذمہ داری نبھائیں

عیدالاضحی کی تعطیلات کے دوران صفائی کے خصوصی انتظامات کا اعلان تو کیا جاتا ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ پورے شہر کی یکبارگی صفائی کیلئے وسائل اور افرادی قوت کی عدم دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس امر کی گنجائش تو نکلتی ہے کہ صفائی کے عملے کی کوتاہیوں سے صرف نظر کیا جائے لیکن اس امر کی گنجائش نہیں کہ قربانی کے جانوروں کی آلائشیں دو تین روز تک پڑی رہیں اور کوئی اُٹھانے والا نہ ہو۔ عام مشاہدے کی بات یہ ہے کہ ہر قسم کی منصوبہ بندی کے باوجود حکام عیدالاضحی کے موقع پر شہر کی صفائی میں ناکام رہتے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان ناکامیوں سے سبق سیکھ کر ان کو دور کرنے کی سعی کی بجائے آئندہ سال اسی کا اعادہ ہوتا ہے۔ ہمارے تئیں عیدالاضحی کے موقع پر صفائی کا کام اتنا بڑھ جاتا ہے کہ آلائشیں اُٹھانے میں مجبوراً تاخیر ہو جاتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس صورتحال کے شہری بھی برابر کے ذمہ دار ہیں جو اس امر کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کہ اوجھڑی اور دیگر باقیات کو ایک مخصوص جگہ پر احتیاط سے اس طرح رکھیں کہ عملہ صفائی کو اس کو اُٹھانے میں آسانی ہو۔ اسلام میں جہاں قربانی کا درس دیا گیا ہے وہاں نظافت اور صفائی کو نصف ایمان کا درجہ حاصل ہے جس طرح قربانی مقدس فریضہ احسن طریقے سے ادائیگی کا متقاضی ہے اسی طرح صفائی پر توجہ بھی ہر شہری کا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے جس کی ادائیگی میں غفلت کا ارتکاب نہیں ہونا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ شہری خود اپنے مفاد میں اپنے گلی محلوں کو صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری ازخود نبھائیں گے اور عملہ صفائی کے کام کو آسان بنائیں گے یہ ہم سب کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔
بلا تعطل بجلی کی خوشخبری
پیسکو کی جانب سے عید کی تینوں تعطیلات کے دوران بجلی بحال رکھنے کا اعلان خوش آئند ہے۔ پچھلے چند ہفتوں کے دوران ملک کے تقریباً سبھی علاقوں میں اعلانیہ یا غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ عوام کیلئے بڑی پریشانی کا باعث رہی ہے اور جس کے باعث شہری سخت نالاں ہوچکے ہیں کم از کم عید کے موقع پر اگر شہریوں کو ریلیف دیا جائے تو بھی غنیمت ہوگی۔عیدالاضحی کے موقع پر بارش کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جو صارفین کیلئے خوشخبری کیساتھ تشویش کا بھی باعث امر اس لئے ہے کہ معمولی بارش یا ہلکی آندھی بھی ہمارے بجلی کے انفراسٹرکچر کو ہلا کر رکھ دیتی ہے اور صارفین لمبے عرصے تک بجلی سے محروم رہتے ہیں۔اب عید کے دنوں میں اگر بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تو لازمی ہے کہ اس جانب بھی توجہ دی جائے جہاں بارشوں سے بجلی کا نظام متاثر ہوا تاکہ پیسکو کا عوام سے وعدہ پورا ہو اور عوام کو بجلی نہ ہونے کی مشکلات سے کم از کم عید کے دنوں میں تو نجات ملے۔
زرعی اراضی کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت
حکومت کی طرف سے ایک مرتبہ پھر زرعی اراضی پر تعمیرات کی حوصلہ شکنی اور زرعی اراضی کے بچائو کا عزم احسن عندیہ ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ اس طرح کے عزائم کے اظہار کے باوجود عملی طور پر اقدامات نہ ہونے کی بنا پر زرعی اراضی پر کنکریٹ کی عمارتیں کھڑی ہو رہی ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ زرعی اراضی پر تعمیرات روکنے کیلئے حکومتی اقدامات تسلی بخش نہیںاس ضمن میں پہلے ہی اتنی تاخیر ہوچکی ہے کہ قیمتی زرعی اراضی پر عمارتیں کھڑ ی ہوچکی ہیں۔ انفرادی’ اجتماعی تعمیرات ہو چکی ہیں۔ بہرحال مزید زرعی اراضی اور باغات کو تعمیرات کی زد میں لانے سے بچانے کیلئے جتنا جلد ممکن ہوسکے اقدامات کی ضرورت ہے۔ نفاذ قانون میں روایتی سستی اور کاہلی نہیں ہونی چاہئے۔ مروجہ قوانین اور طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جائے تو بھی تعمیرات کی روک تھام ناممکن نہیں۔ اس ضمن میں انتظامی قوانین کا بھی سہارا لیاجاسکتا ہے شرط یہ ہے کہ سنجیدگی کیساتھ زرعی اراضی اور باغات کی تباہی کی روک تھام کا قصد کیا جائے اور اس ضمن میں کسی مصلحت اور دبائو کو خاطر میں نہ لایا جائے۔توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہوگا اور ایسے اقدامات یقینی بنائے جائینگے جس کے نتیجے میں زرعی اراضی کی مزید کمی اور زرعی اراضی پر مکانات تعمیر کرنے کی روک تھام ممکن ہوسکے ۔