قربانی کے جانوروں کی خریداری

میاں جی ہر عید پر چپلیاں ضرور خریدتے ہیں، قربانی کے جانور خریدنے کے بعد ان کا اگلا مشن پشاوری چپل کی خریداری ہوتا ہے، ان کی معیت میں قربانی کے جانوروں کی خریداری اپنا خون جگر پینے والی بات ہوتی ہے۔ وہ جانور کا نہ صرف تفصیلی معائنہ کرتے ہیں بلکہ اس کے جدامجد تک سے متعارف ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم نے ان سے کئی بار کہا کہ جنا ب قربانی کا جانور خریدتے وقت صرف دو چیزیں دیکھنی چاہئیں ایک یہ کہ اس میں کوئی شرعی عیب نہ ہو اور خوبصورت ہو، یہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے محبت ہے قربانی ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے لیکن اس حوالے سے میاں جی کا اپنا فلسفہ ہے وہ جانور کا وزن دیکھتے ہیں اور پھر بازار کے نرخ کے مطابق حساب لگاتے ہیں کہ کہیں ہم مہنگا جانور تو نہیں خرید رہے۔ ہمارا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ جناب قربانی کا جانور مہنگا سستا نہیں ہوتا یہ تو قبولیت کی بات ہے بس نیت صاف ہونی چاہئے، جانور حلال مال سے خریدا جائے اور اللہ تعالیٰ قبول کرلے تو پھر ایک کروڑ روپے میں خریدا گیا جانور بھی سستا ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے دو دنبے خریدے، خریداری پر اس لئے زیادہ وقت لگ جاتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے لئے جانور خریدتے ہیں بلکہ اپنے اردگرد خریداری کرنے والوں کو اپنے مفید مشوروں سے بھی نوازتے رہتے ہیں۔ جانور کے دانت دیکھتے ہیں سینگوں کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں، اسے اُٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وزن کا اندازہ کیا جاسکے ان کے فنکارانہ معائنے کی وجہ سے اکثر لوگ جانور بیچنے سے انکار کر دیتے ہیں، سوداگر ان سے کہتا ہے بابا اپنے کام سے کام رکھو دوسروں کے معاملات میں ٹانگ مت اڑاؤ، ہم بھی انہیں منع کرتے ہیں لیکن وہ اپنی عادت کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ انہیں لوگوں کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی خریداری میں وہ اپنی عمر عزیز کے ساٹھ برس خرچ کرچکے ہیں، اس کیساتھ ساتھ وہ لوگوں کو اپنے خریدے ہوئے جانور بھی بتاتے رہتے ہیں، عام دنوں میں تو صبر کیا جاسکتا ہے لیکن سر پر کورونا وائرس کی تلوار لٹک رہی ہو تو بندے کو احتیاط کرنا پڑتی ہے مگر ہم نے مویشیوں کی منڈی میں اس حوالے سے کسی بھی قسم کی کوئی احتیاط نہیں دیکھی، لوگ ماسک لگائے بغیرگھوم رہے تھے۔ ایک جانور کے گرد اتنا بڑا ہجوم بن جاتا کہ ہم گھبرا کر وہاں سے آگے چل پڑتے، افسوس بھی ہوا کہ ہم لوگ کب سمجھیں گے ہم اپنے دشمن ہیں۔ مال منڈی میں پھرتے ہوئے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی کو اپنا خیال نہیں ہے جب ہم نے میاں جی کی توجہ اس پہلو کی طرف دلائی تو وہ ہنس کر کہنے لگے، یار کچھ بھی نہیں ہوتا اب کورونا یہاں سے رخصت ہوچکا ہے۔ خدا خدا کرکے جانوروں کی خریداری سے فارغ ہوئے تو مغرب کی اذان ہوچکی تھی جانور سوزوکی میں ڈالے اور لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔ اس کے بعد میاں جی نے پشاوری چپل بھی خریدنی تھی وہ ہمیں ساتھ لیکر ایک چھوٹی سی گلی میں موجود بیٹھک میں داخل ہوگئے، وہاں باپ بیٹا رہائش پذیر ہیں یہ ان کی دکان بھی ہے مہمان خانہ، باورچی خانہ اور خواب گاہ بھی۔ بیٹا چھوٹا تھا جب اس کی ماں فوت ہوگئی باپ نے دوسری شادی نہیں کی اور بیٹے کو ساری توجہ دینے لگا۔ باپ مزدور تھا دن بھر مزدوری کرتا اور رات کو دونوں باپ بیٹے روکھی سوکھی کھا کر سو جاتے۔ بیٹا ایک موچی کی دکان پر شاگرد ہوگیا اور پشاوری چپلیاں بنانے کا ہنر سیکھنے لگا۔ اب بیٹا جوان ہے اور باپ بیمار۔ ایک چھوٹی سی گلی میں ایک کمرا کرائے پر لے رکھا ہے باپ سارا دن چارپائی پر لیٹ کر کھانستا رہتا ہے اور بیٹا چپلیاں بناتا رہتا ہے، میاں جی نے چپلی خریدی اور ہمیں چلنے کا اشارہ کیا، خوش نصیب ہے یہ باپ جس کا اتنا فرمانبردار بیٹا ہے میں جانتا ہوں کہ بڑھاپا کتنا بڑا امتحان ہے اعضاء کمزور ہوجاتے ہیں، انسان دو قدم چلے تو سانس پھول جاتی ہے، بلڈپریشر، شوگر اور دوسرے موذی امراض اس عمر میں انسان کو گھیر لیتے ہیں، جوانی میں ہمیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ تھکاوٹ کسے کہتے ہیں ہم نے میاں جی سے ازراہ مذاق کہا کہ جناب جب بندہ بوڑھا ہو جاتا ہے تو اسے اپنی جوانی بہت یاد آتی ہے، وہ اپنی جوانی کے قصے سنا کر بڑا خوش ہوتا ہے۔ وہ بھی جوش میں آکر کہنے لگے کہ آج کے کیا جوان ہیں، جوانی تو ہماری تھی ہمیں جوانی میں پہلوانی کا شوق تھا ہم خالص دودھ پیتے دیسی انڈے کھاتے، دیسی مرغیاں اور دنبے کا گوشت کھاتے۔ ہم نے میاں جی سے کہا جناب دیسی مرغی تو اب پندرہ سو روپے میں آتی ہے۔ لوگ ولایتی انڈوں پر ہی گزارا کر رہے ہیں۔ گائے کا گوشت خریدنا بھی سفید پوش آدمی کے بس کی بات نہیں ہے اس لئے زیادہ تر دال سبزی پر ہی گزارا کیا جاتا ہے۔ دنبے کا گوشت سفید پوش آدمی صرف عیدالاضحی پر ہی کھا سکتا ہے۔