کنٹرول لائن’ موسم گل میں آگ اُگلتی خونی لکیر

کشمیر کی کنٹرول لائن کی گرماگرمی جاری ہے اور حادثات وواقعات کا سلسلہ بھی پوری رفتار سے جاری ہے۔ اس دوران آزادکشمیر اور راولپنڈی اسلام آباد میں مقیم کشمیر ی صحافیوں نے پانچ اگست کے بعد اورکنٹرول لائن پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے اثرات کے حوالے سے صورتحال جاننے کیلئے انٹرسروسز انٹیلی جنس کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا جہاں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کشمیری اخبار نویسوں کو پانچ اگست کے بعد کی صورتحال بھارت کی ہائبرڈ وار اور کنٹرول لائن کی کشیدگی سمیت کئی اہم موضوعات پر تفصیلی بریفنگ دی جس کے بعد سوال وجواب کی نشست بھی ہوئی۔ جنرل بابر افتخار نے ایک سوال کے جواب میں افواج پاکستان کے ترجمان کی حیثیت سے ایک بات وضاحت کیساتھ کی کہ پانچ اگست سے پہلے یا اس کے بعد پاکستان کی ریاست کی کوئی مرضی ومنشا شامل نہیں اور اس حوالے سے ڈیل ہوجانے کی باتیں قطعی بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پانچ اگست کے اقدامات کو ریورس کرائے بغیر بھارت سے نارمل تعلقات قائم نہیں کریگا۔ کشمیر ی صحافیوں کے دورے سے پہلے آئی ایس پی آر کے زیراہتمام غیرملکی صحافیوں کے ایک وفد نے چڑی کوٹ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا۔ اس دورے کا اہتمام مقبوضہ کشمیر کی شناخت میں تبدیلی کے بھارتی فیصلے کو ایک سال ہونے کے موقع پر کیا گیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق وفد نے کنٹرول لائن کی صورتحال کا تفصیلی مشاہدہ کیا اور ان بھارتی پوسٹوں کا جائزہ بھی لیا جو نہتی آبادی کو نشانہ بناتی ہیں۔ صحافیوں نے بہ چشم خود بھارت کے وہ حفاظتی انتظامات بھی دیکھے جس کے بعد چڑیا پر بھی نہیں مار سکتی مگر بھارت مسلسل آزادکشمیر سے دراندازی کے الزامات عائد کرتا ہے۔ اخبارنویسوں کو بتایا گیا کہ رواں برس 1657 مرتبہ بھارتی فوجیوں نے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی۔ غیرملکی صحافیوں کا دورہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ دنیا کو یہ علم ہوگا کہ حقیقت میں کنٹرول لائن پر دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کیا حالات چل رہے ہیں۔ اب یہ صرف دو نہیں تین ایٹمی طاقتوں کا معاملہ بن کر رہ گیا ہے۔ لداخ میں گلوان وادی میں چینی فوج کے ہاتھوں ملنے والے سبق کے بعد بھارت کے فوجی حکام اور حکومتی شخصیات کی جانب سے آزادکشمیر کو چھیننے کی باتیں اب قریب قریب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں اس کے باوجود کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن اس وقت بھارتی جارحیت کا اہم ہدف ہے۔
1988میں کشمیرمیں شروع ہونے والی مسلح تحریک کے بعد کنٹرول لائن ایسی بھڑک اُٹھی کہ دوبارہ کبھی ٹھنڈی نہ ہوسکی سوائے جنرل مشرف کے دور میں2003میں ہونے والی جنگ بندی کے جو کم وبیش ایک عشرے تک ہی چل سکی۔جس کے بعد سے ایک اور عشرہ ہونے کو ہے کنٹرول لائن آگ اور خون کی لکیر بن کر رہ گئی ہے۔ بھارت کشمیر میں چلنے والی تحریک سے زچ ہوکر اس کا بدلہ آزادکشمیر کے عوام سے لیتا ہے ۔اس کے پیچھے جہاں بدلے کی سوچ ہوتی ہے وہیں پاکستان کے جواب کی صورت میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کا نقصان بھی بھارت کے لئے خوشی کا باعث بنتا ہے۔چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر نقصان خربوزے کا ہی ہوتا ہے کے مصداق فائرنگ ایک طرف سے ہو یا دوسری طرف سے نقصان کشمیری مسلمان کا ہی ہوتا ہے۔ بھارت کیلئے اس میں ہینگ لگے نہ پھٹکڑی کا معاملہ ہے مگر پاکستان کیلئے مقبوضہ علاقے کی آبادی بھی اسی طرح اہم ہے جس طرح آزادکشمیر کی آبادی۔ اس وقت کنٹرول لائن کے قریب دس لاکھ لوگ بستے ہیں اور ان میں ایک بڑی تعداد پانچ سو میڑ کی دوری پر ہے اور اچھی خاصی تعداد کنٹرول لائن سے دو ڈھائی کلومیٹر کی دوری پر رہتی ہے۔ یہ لوگ بھارتی فوج کی آسان دسترس میں ہیں۔ بھارت کا ایک فوجی کلاشنکوف سے بھی یہاں انسانی آبادی کو نشانہ بنا سکتا ہے اور اکثر ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ بھارت کی بھاری ہتھیاروں سے ہونے والی فائرنگ میں انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں ۔گھر دکانیں سکول اور ہسپتال تباہ ہوتے ہیں اور مال مویشی مارے جاتے ہیں۔ یوں 340کلومیٹر طویل کنٹرول لائن روز شعلے اگل کر ایک المناک کہانی کو جنم دیتی ہے۔ اقوم متحدہ کی فوجی مبصرین کا کردار اب اس معاملے میں نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے کیونکہ بھارت نے اپنی طرف تعینات فوجی مبصرین کو عضو معطل بنا دیا ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین سے یک طرفہ تعاون کر رہا ہے کیونکہ ان مبصرین کی موجودگی کشمیر کی متنازعہ حیثیت کاواضح ثبوت ہے۔ ان کی موجودگی پاکستان اور کشمیریوں کے موقف کی تقویت اور بھارتی موقف کی کمزوری زندہ دلیل ہے۔ بھارتی فوج کنٹرول لائن پر عالمی قوانین اور جنگی اصولوں کی صریح نفی کرکے نہتے لوگوں کو نشانہ بنارہی ہے۔ آبادی پر توپ خانے کااستعمال کیا جانا معمول ہے۔رائفل، سنائپر، مارٹر سمیت عام اور معصوم شہریوں پر ہر ہتھیار استعمال بھارتی فوج کیلئے جائز بن چکا ہے۔