ایران نے صدرروحانی کے مستعفیٰ ہونے کی دھمکی پر یوکرینی طیارہ گرانے کا جرم قبول کیا

تہران: امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرائن کا طیارہ گرنے پر ایرانی صدر نے مستعفی ہونے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد حقیقت سامنے لائی گئی۔یہ بھی پڑھیں:باجوڑ،تحصیل سالازئی میں2بم دھماکے،پولیس اہلکار شہید،3زخمی

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے یوکرینی طیارہ مار گرانے کی حقیقیت ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے مستعفیٰ ہونے کی دھمکی کے بعد سامنے لائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کویوکرینی طیارہ گرنےکے چند منٹ بعد ہی حقیقت کا پتاچل گیا تھا کہ ان کے راکٹ حملوں سے یوکرینی طیارہ تباہ ہوا تاہم یہ بات تین روزتک ایرانی صدر روحانی سے چھپائی گئی اور صدرحسن روحانی کو11 جنوری کو حقیقت بتائی گئی۔

ارپورٹ کے مطابق یوکرائن کا طیارہ گرنے پر حقیقت تسلیم نہ کیے جانے پر ایرانی صدر نے مستعفی ہونے کی دھمکی دی تھی، حقیقت کا پتا چلنے پرایرانی صدر حسن روحانی نے الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ذمہ داری قبول کی جائے ورنہ استعفیٰ دے دوں گا۔

واضح رہے ایران اور امریکا کی کشیدگی کے بعد ایران کی جانب سے عراق میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں دو راکٹ یوکرینی مسافر طیارے کو بھی لگے جس سے وہ گر کر تباہ ہوگا، حادثے میں طیارے پر سوار مسافروں اور عملے کے اراکین سمیت تمام 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں