بیٹی کے ساتھ ایسا حادثہ ہوچکا ہے جیسا ‘رسوائی’ میں دکھایا، اداکار محمد احمد

پاکستان کے نامور اداکار سید محمد احمد اس وقت اپنے ڈراموں ‘رسوائی’ اور ‘میرے پاس تم ہو’ کے لیے مداحوں سے کافی داد وصول کررہے ہیں

اے آر وائے ڈیجیٹل کے ڈرامے ‘رسوائی’ میں محمد احمد نے ایک ایسے والد کا کردار نبھایا، جن کی بیٹی کو ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس وجہ سے اُس کی شادی شدہ زندگی مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔

اس ڈرامے کے ایک منظر میں دکھایا گیا تھا کہ محمود نامی کردار جو محمد احمد نبھارہے ہیں وہ اپنے بیٹے، بہو اور بیٹی کے ہمراہ ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے جاتے ہیں جہاں کچھ غنڈے ان کی بیٹی اور بہو کو اغوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اداکار اپنی بیٹی کے بجائے بہو کو بچالیتے ہیں۔

اس قسم کے سنجیدہ موضوع پر مبنی ڈرامے میں کام کرنے کے حوالے سے سید محمد احمد نے حال ہی میں ایک انٹرویو بھی دیا۔

‘رسوائی’ میں کام کرنے کے حوالے سے اداکار کا کہنا تھا کہ ان کے لیے اس کردار کو قبول کرنا مشکل ترین کام تھا کیوں کہ وہ اصل زندگی میں بھی اپنی بیٹی کے حوالے سے ایسے غم سے گزر چکے ہیں۔

محمد احمد کے مطابق ‘ہمارے سماج میں بیٹی کا باپ ہونا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، لیکن میں اپنی بیٹیوں کے حوالے سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان چاروں نے مجھے ایک مغرور والد بنایا ہے جس کے لیے میں اللہ کا بےحد شکر ادا کرتا ہوں’۔

اپنی بیٹی کی طلاق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سید محمد آبدیدہ ہوگئے، ان کا کہنا تھا کہ ‘میری ایک بیٹی کے ساتھ ایسا حادثہ ہوچکا ہے، اس کو طلاق ہوئی جو میرے لیے بہت تکلیف دہ تھا کیوں کہ میری بیٹی کا کوئی قصور نہیں تھا، تاہم مجھے اس بات کا یقین ہے کہ جب آپ کے ساتھ (ایسا) کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس میں کچھ بہتری رکھی ہوگی، اس وقت آپ کو اس کا پتہ نہیں ہوتا لیکن انسان کو کچھ سال بعد ہی سمجھ آتا ہے کہ اللہ جو کرتا ہے ہماری بہتری کے لیے ہی کرتا ہے’

ڈرامے کے حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ جب رسوائی میں کام شروع کیا تو جو سارا غم انہیں زندگی میں ملا وہ سارا میں انہوں نے اپنے کردار میں پیش کردیا، ‘لوگ میرے کردار کو پسند ہی اس لیے کرتے ہیں کہ جب میں بیٹی کا والد بنتا ہوں تو میں اداکاری نہیں کرتا حقیقت پیش کرتا ہوں’۔

 بیٹیوں سے اپنے رشتے پر مزید بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘لوگ کہتے ہیں کہ ماں کا دل نرم ہوتا ہے تو میں سوال کرتا ہوں کہ کیا باپ کا دل کسی اور چیز سے بنا ہے؟ اور جتنے بھی باپ ہیں کوئی ان سے پوچھے کہ اپنی اولاد کے لیے وہ کتنی محنت کرتے ہیں’۔

خیال رہے کہ سید محمد احمد کی 4 بیٹیاں ہیں جن میں سے تین کی شادی ہوچکی ہے جبکہ چوتھی کی بھی جلد شادی ہونے والی ہے

اداکار کے مطابق ‘میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے بیٹا نہیں دیا، اگر بیٹا ہوتا تو شاید میری محبت بٹ جاتی، بہو ہوتی تو وہ بھی اتنی ہی پیاری ہوتی لیکن اللہ نے میرے دل کے 4 ٹکڑے بنائے ہیں اور سب مجھ سے بہت قریب ہیں۔

ڈرامے میں ریپ جیسے سنگین موضوع کو شامل کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘مجھے چینلز، پروڈیوسرز اور مصنفوں سے ایک بات پر شدید اختلاف ہے کہ جب وہ ریپ دکھاتے ہیں تو پھر اس کا انجام بھی اتنا ہی خوفناک دکھائیں تاکہ دیکھنے والوں کو عبرت ہو’۔

البتہ انہوں نے بتایا کہ ایسے موضوعات پر بہت کم ہی ڈرامے بننے چاہیے کیوں کہ یہ دیکھ دیکھ کر لوگوں کے دل آہستہ آہستہ پتھر کے ہوجاتے ہیں

خیال رہے کہ ‘رسوائی’ کے علاوہ محمد احمد کے ‘میرے پاس تم ہو’ میں کیے کردار کو بھی بےحد پسند کیا گیا۔

اس ڈرامے میں اداکار نے مرکزی کردار ‘دانش’ کے باس اور دوست ‘متین صاحب’ کا کردار نبھایا تھا۔

سید محمد احمد پاکستان کی کامیاب فلم ‘کیک’ میں بھی کام کرچکے ہیں جبکہ وہ ‘عہد وفا’، ‘یہ دل میرا’ اور ‘سنو چندا’ جیسے مقبول ڈراموں کا بھی حصہ بنے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں