پشاور: پولیس نے پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین کو گرفتار کرلیا

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے شاہین ٹاؤن سے پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کو گرفتار کرلیا

پولیس نے دیگر 9 پی ٹی ایم کارکنوں کو گرفتار کیا، جن کی شناخت محمد سلمان، عبدالحمید، ادریس، بلال، محب، سجادالحسن، ایمل، فاروق اور محمد سلمان کے نام سے ہوئی۔

اس حوالے سے تہکال پولیس اسٹیشن کے عہدیدار شیراز احمد نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پیر کو علی الصبح انہیں گرفتار کیا گیا۔

پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم سربراہ کو ڈیرہ اسمٰعیل خان منتقل کیا جائے گا جہاں ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس منظور پشتین کو راہداری ریمانڈ کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گی۔

پولیس کے مطابق 18 جنوری کو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں سٹی پولیس تھانے میں پی ٹی ایم کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 506 (مجرمانہ دھمکیوں کے لیے سزا)، 153 اے (مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کا فروغ)، 120 بی (مجرمانہ سازش کی سزا)، 124 (بغاوت) اور 123 اے (ملک کے قیام کی مذمت اور اس کے وقار کو تباہ کرنے کی حمایت) کے تحت درج کیا گیا۔

دوسری جانب پی ٹی ایم کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ‘یہ پرامن اور جمہوری طریقے سے اپنے حقوق مانگنے کے لیے ہماری سزا ہے، منظور پشتین کی گرفتاری سے ہمارے عزم کو تقویت ملے گی، (لہٰذا) ہم منظور پشتین کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں’۔

انہوں نے پی ٹی ایم کارکنان اور حامیوں پر زور دیا کہ وہ گرفتاری کے تناظر میں پرامن رہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ‘ہم مشاورت کے بعد ایک حکمت عملی مرتب کریں گے، ہم ان لوگوں کے خلاف ہیں جو آئینی حقوق کے لیے کیے گئے مطالبات پر سب سے زیادہ پریشان ہیں (لیکن) ہم یہ کرنا جاری رکھیں گے’۔

ادھر انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی منظور پشتین کی ‘فوری اور غیر مشروط’ رہائی کا مطالبہ کردیا

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹ پر ایک ٹوئٹ میں گروپ کا کہنا تھا کہ منظور پشتون کو آزادی اظہار رائے اور پرامن اسمبلی کے لیے اپنے انسانی حقوق استعمال کرنے پر گرفتار کیا گیا، انہیں غیرمشروط طور پر فوری طور پر رہا کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ ایسا اتحاد ہے جو سابق قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے مطالبے کے علاوہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے خاتمے پر زور دیتا ہے اور ایسا کرنے والوں کے خلاف ایک سچے اور مفاہمتی فریم ورک کے تحت ان کے محاسبے کا مطالبہ کرتا ہے۔

پی ٹی ایم ملک کے ان قبائلی علاقوں میں فوج کی پالیسیوں کی ناقد ہے، جہاں حالیہ عرصے میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا تھا۔یہ بھی پڑھیں

تاہم پی ٹی ایم کے رہنما خاص طور پر اس کے قومی اسمبلی کے اراکین بغیر کسی عمل کے انتظامیہ کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کے لیے فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، تاہم پاک فوج کا کہنا کہ یہ پارٹی ملک دشمن ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور ریاست کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس پی ٹی ایم کے دو رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کو پولیس نے خرقمر میں مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر فوجی اہلکاروں سے تصادم اور تشدد پر گرفتار کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں