چیف جسٹس کے حکم پر ابھی مستعفی ہونے کو تیار ہوں. شیخ رشید

مجھے نہیں معلوم کہ میرا ووٹ اتنا اہم ہے کہ اس سے حکومتیں بنتی اور گرتی ہیں. وزیرریلولے کی صحافیوں سے گفتگو

وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کے حکم پر ابھی مستعفی ہونے کو تیار ہوں‘مجھے نہیں معلوم کہ میرا ووٹ اتنا اہم ہے کہ اس سے حکومتیں بنتی اور گرتی ہیں.سپریم کورٹ میں پیشی کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج چیف جسٹس نے ریلوے کی بہتری اور بھلائی کے لیے احکامات دیے ہیں، چیف جسٹس کی ہدایت پر ریلوے آگے بڑھے گی .انہوں نے کہا کہ ساری قوم کی دل چسپی ایم ایل ون میں ہے، ہمیں 15 دن کا نوٹس دیا گیا ہے، چیف جسٹس نے ہدایت دی ہے کہ ایم ایل ون پر فی الفور ٹینڈر دیا جائے.

شیخ رشیدنے کہا کہ عدالت کے مشکور ہیں اور چیف جسٹس کی ہدایت کے مطابق ریلوے کو آگے لے کر جائیں گے، چیف جسٹس نے جو بھی ہدایت کی ہے اس پر عمل کریں گے.انہوں نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ ہمارے دور کی نہیں 2013ءسے 2017ءتک کی ہے، جب ہمارے دور کی آڈٹ رپورٹ آئے گی تو اس پر اعتراضات کا جواب دیں گے شیخ رشید کا نے استعفے کے حوالے سے سوال پر صحافی کو جواب دیا کہ چیف جسٹس کہیں تو ابھی استعفی دے دوں گا، مگر آپ کی خواہش پر نہیں.ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ جتنا عرصہ وزیراعظم عمران خان رہیں گے اتنا ہی عرصہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار بھی رہیں گے.سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کے دوران وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے علاوہ سیکرٹری اور چیف ایگزیکٹو ریلوے بھی پیش ہوئے ہیں واضح رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے گزشتہ سماعت کے دوران پاکستان ریلوے کی آڈٹ رپورٹ پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور ریمارکس دیے تھے کہ ریلوے کرپٹ ترین ادارہ ہے، جس میں کوئی بھی چیز درست انداز میں نہیں چل رہی.انہوں نے کہا تھا کہ ہر روز حکومتیں گرانے اور بنانے والوں سے اپنی وزارت نہیں چل رہی، پورا محکمہ سیاست میں پڑا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ مسافر اور مال گاڑیاں چل رہی ہیں نہ ریلوے اسٹیشن ٹھیک ہیں، نہ ٹریک، نہ ہی سگنل، ریل کا ہر مسافر خطرے میں سفر کر رہا ہے.انہوں نے کہا کہ دنیا بلٹ ٹرین چلا رہی ہے جبکہ ہم اٹھارہویں صدی کی ریل چلا رہے ہیں، چولہے میں پھینک دیں اپنی انکوائری، آپ کا سارا ریکارڈ مینوئل ہے، اس کا مطلب ہے کہ ایک لاکھ کی ریکوری میں 25 ہزار ظاہر کیے جاتے ہیں جبکہ 75ہزار غائب ہو جاتے ہیں.جسٹس اعجاز الاحسن نے دورانِ سماعت کہا کہ ریلوے کو اربوں روپے کا خسارہ ہو رہا ہے، آڈٹ رپورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ ریلوے کا نظام چل ہی نہیں رہا دورانِ سماعت سپریم کورٹ نے ریلوے سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں آنے والے حقائق پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، سی ای او ریلوے اور سیکرٹری ریلوے کو آج طلب کیا تھا.

اپنا تبصرہ بھیجیں