حکومت نے جون 2025 تک آئی ٹی کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو برآمدات پرانکم ٹیکس سے مستثنیٰ قراریاہے

قومی اسمبلی کو آج بتایا گیا کہ حکومت نے جون 2025 تک انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو برآمدات پر انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

 پارلیمانی امور کے بارے میں وزیر مملکت علی محمد خان نے وقفہ سوالات کے دوران بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہماری قومی معیشت کے اہم جز  کے طور پر ابھری ہے اورحکومت اس شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوریا کی حکومت کے تعاون سے آئی ٹی پارک قائم کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک آئی ٹی پارک قائم کردیا گیا ہے جبکہ کراچی میں بھی ایک آئی ٹی پارک قائم کیا جائے گا جس کا مقصد اس شعبے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

 علی محمد خان نے ایوان کو بتایا کہ نیا پاکستان ہاوسنگ منصوبے کے تحت اب تک بیس لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

تعلیم کے بارے میں پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ اکرام نے بتایا کہ حکومت اقتصادی مسائل کے باوجود اعلیٰ تعلیم سمیت تعلیم کے فروغ پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔

  قومی تحفظ خوراک کے وزیر مخدوم خسرو بختیار نےایک توجہ دلاو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ زرعی شعبے کو ٹڈی دل سے محفوظ رکھنے کےلئے شراکتداروں کے تعاون سے لائحہ عمل وضع کرلیا گیا ہے۔

 انہوں نے کہاکہ آئندہ ڈیڑھ سال کے دوران اس منصوبے پر عملدرآمد کیا جائے گا جس پر سات ارب 30 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور اس کے لئے پانچ ارب روپے وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ فصلوں کو ٹڈی دل سے محفوظ رکھنے کےلئے سندھ اور جنوبی پنجاب میں فضائی سپرے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بدولت حریف کی فصل کو ٹڈی دل سے بچالیا گیا ہے۔

ایک اور توجہ دلاو نوٹس کے جواب میں شہری ہوا بازی کے وزیر غلام سرور خان نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے پی آئی اے کی آمدن میں ایک سو چھیالیس ارب روپے کا اضافہ کیا ہے جبکہ سال 2018 کے پی آئی اے کے 29ارب روپے کے خسارے میں سال 2019 میں 11 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں