کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں چمگادڑوں کے سوپ کی افواہیں، آن لائن پھیلنے والی غلط معلومات کی سچائی کیا ہے؟

چین میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 213 ہو چکی ہے۔

جمعے کی صبح تک چین میں اس وائرس سے تصدیق شدہ متاثرہ افراد کی کل تعداد دس ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اس وائرس کے پھیلاؤ کو عالمی سطح پر روکنے کے لیے ہانگ کانگ اور دیگر کئی ممالک نے چین آنے اور جانے والی پروازیں معطل یا کم کر دیں ہیں۔

نہ صرف یہ وائرس چین اور بیرونِ ممالک تک پھیل چکا ہے بلکہ اس سے متعلق غلط معلومات بھی بہت تیز رفتاری سے پھیل رہی ہیں۔

کورونا وائرس کے حوالے سے بے شمار غلط معلومات سامنے آئی ہیں۔۔۔ چمگادڑوں کے سوپ والی ویڈیو تو آپ نے دیکھی ہی ہو گی۔

BIG Line

چمگادڑوں کے سوپ والی ویڈیوز

کورونا وائرس کیسے شروع ہوا، اس کے بارے میں ابتدا سے ہی لوگوں نے آن لائن قیاس آرائیاں کرنی شروع کر دیں تھیں۔ اس سب میں بڑا کردار ایسی ویڈیوز کا تھا جن میں ووہان (جہاں سے کورونا وائرس شروع ہوا) میں چینیوں کو چمگادڑوں کا سوپ نوش کرتے دیکھایا گیا ہے۔

ایسی ہی ایک ویڈیو میں مسکراتی ہوئی چینی خاتون، پکا ہوا چمگادڑ کیمرے کو دکھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس کا ذائقہ ’مرغی کے گوشت‘ جیسا ہے۔

یہ ویڈیو آن لائن صارفین کے غم و غصے میں اضافے کا سبب بنی۔

کچھ صارفین تو اس وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار چینیوں کے کھانے پینے کی عادات کو قرار دیتے نظر آئے۔

تاہم اوپر بیان کی گئی ویڈیو سرے سے ووہان کی ہے ہی نہیں۔۔۔ اور آپ کو یہ جان کرشاید مزید حیرت ہو کہ یہ چین میں بھی نہیں فلمائی گئی۔

سنہ 2016 میں یہ ویڈیو اس وقت فلمائی گئی تھی جب مقبول بلاگر اور ٹریول شو کی میزبان مینگین وانگ، مغربی بحر الکاہل کے جزیرے پاؤلو کے دورے پر تھے۔

گذشتہ سال کے آخر میں ووہان میں نئے کورونا وائرس کے سامنے آنے کے بعد یہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر ایک بار پھر وائرل ہو گیا۔

آن لائن سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد، مس وانگ نے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا ’میں صرف مقامی طرزِ زندگی متعارف کرانے کی کوشش کر رہی تھی‘ اور وہ نہیں جانتی تھیں کہ چمگادڑ ایک وائرس کیریئر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد سے ان کی ویڈیو ہٹا لی گئی تھی۔

اس وائرس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ چین کے شہر ووہان میں جانوروں کی ایک غیر قانونی مارکیٹ سے پھوٹا۔

اگرچہ اس وائرس کی وجوہات جاننے کے لیے چین میں کی جانے والی حالیہ تحقیق میں چمگادڑوں کا نام سامنے آیا ہے لیکن چین میں چمگادڑ کا سوپ زیادہ پسند نہیں کیا جاتا اور اس وائرس کا اصل ماخذ جاننے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

BIG Line

کیا اس وائرس کے پھیلاؤ کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی؟

گذشتہ ہفتے امریکہ میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد، ٹوئٹر اور فیس بک پر بے شمار ایسی سند یافتہ دستاویزات وائرل ہونا شروع ہوئیں جنھیں دیکھنے سے ایسا تاثر ملا کہ ماہرین برسوں سے اس وائرس کی موجودگی سے باخبر تھے۔

ایسے الزامات کو سامنے لانے والے صارفین میں سے ایک سازشی تھیوریسٹ اور یوٹیوبر جارڈن سیتر تھے۔

ٹوٹر پر بنائے گئے جارڈدن کے تھریڈ جسا کہ اب تک ہزاروں بار ری ٹویٹ کیا جا چکا ہے، اس میں انھوں نے سرے، انگلینڈ کے پیربرائٹ انسٹی ٹیوٹ کا سنہ 2015 کا ایک لنک شیئر کیا ہے۔

اس دستاویز میں نظامِ تنفس سے منسلک بیماریوں کی روک تھام اور ویکسین کے طور پر ممکنہ استعمال کے لیے کورونا وائرس کا کمزور ورژن تیار کرنے کی بات کی گئی ہے۔

ویکسین کے خلاف مہم چلانے والوں اور سازشی فیس بک گروپس میں یہ لنک بڑے پیمانے پر شئیر کیا جا چکا ہے۔

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن پیربرائٹ اور ویکسین کی تیاری دونوں کے لیے امداد دیتے ہیں، اس حقیقت کا استعمال کرتے ہوئے سیتر نے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس ویکسین کی تیاری کے لیے مالی امداد حاصل کرنے کے لیے جان بوجھ کر اس وبا کو پھیلایا گیا۔

سیتر نے ٹویٹ کیا۔ ’گذشتہ برسوں میں گیٹس فاؤنڈیشن نے ویکسین پروگراموں کو کتنے فنڈز دیے ہیں؟ کیا اس وائرس کا پھیلاؤ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا؟ کیا خوف بڑھانے کے لیے میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے؟‘

لیکن پیربرائٹ کی دستاویز کورونا وائرس سے متعلق نہیں۔ بلکہ یہ ایویئن انفیکشئس برونکائٹس وائرس کے متلعق ہے جس کا تعلق کورونا وائرس کے بڑے خاندان سے ہے جو مرغیوں کو متاثر کرتا ہے۔

اور جہاں تک بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے بارے میں قیاس آرائیوں کا تعلق ہے، پیربرائٹ کی ترجمان ٹریسا موغان نے بزفیڈ نیوز کو بتایا کہ فاؤنڈیشن نے برونکائٹس وائرس سے متعلق تحقیق کو کوئی مالی اعانت فراہم نہیں کی تھی۔

بائیو ویپن جیسی سازشیں

آن لائن وائرل ہونے والا ایک اور بے بنیاد دعویٰ یہ بھی ہے کہ یہ وائرس چین کے ’خفیہ بائیو ویپن پروگرام‘ کا حصہ تھا اور ہو سکتا ہے کہ یہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ویرولوجی سے لیک ہوا ہو۔

اس نظریے کو آگے بڑھانے والے بہت سے اکاؤنٹس واشنگٹن ٹائمز کے دو مضامین شیئر کرتے نظر آئے جن میں ایک اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس کے سابقہ افسر کے بیان کا حوالہ دیا گیا ہے۔

تاہم ان دونوں مضامین میں اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے اور اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’اب تک اس بارے میں کوئی ثبوت یا اشارہ موجود نہیں ہے‘ جس سے یہ معلوم ہو سکے یہ کوئی لیک تھی۔

ان دونوں مضامین کو اب تک سینکڑوں اکاؤنٹس سے شئیر کیا جا چکا ہے اور انھیں پڑھنے والوں میں لاکھوں افراد شامل ہیں۔

گذشتہ ہفتے ڈیلی سٹار نے بھی ایسا ہی ایک مضمون شائع کیا جس میں یہ دعوی کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس ’خفیہ لیب میں شروع ہوا‘ ہو۔ تاہم بعد میں اس مضمون میں ترمیم کی گئی کیونکہ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں تھے۔

اب تک کی گئی سرکاری تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے اس وائرس کا ماخذ شاید ووہان کے بازار میں جانوروں کی غیر قانونی خرید و فروخت ہے۔

یہ سوچا گیا ہے کہ یہ وائرس ووہان کے ہوانان سمندری غذا بازار میں غیر قانونی طور پر تجارت کی جانے والی جنگلی حیات سے پھوٹا ہے۔

سامنے آنے والے ایک اور دعوے میں اس وائرس کا تعلق کینیڈا کی نیشنل مائیکرو بیالوجی لیبارٹری میں ایک محقق کی معطلی سے جوڑا جا رہا ہے۔

ووہان سے نرس کی ویڈیو

سوشل میڈیا پر ایک مبینہ ’وسل بلور‘ کی ویڈیو کے مختلف ورژن لاکھوں مرتبہ شیئر کیے جا چکے ہیں۔ اس مبینہ ویڈیو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ہوبان صوبے سے تعلق رکھنے والی کسی نرس یا ڈاکٹر نے بنائی ہے۔

اس ویڈیو کا سب سے مقبول ورژن یوٹیوب پر ایک کورین صارف نے اپلوڈ کیا تھا اور اس میں انگریزی اور کورین سب ٹائٹلز شامل تھے۔ بعد میں اس ویڈیو کو ہٹا دیا گیا۔

انگریزی سب ٹائٹلز کے مطابق یہ خاتون ووہان کے ایک ہسپتال میں نرس ہیں۔ تاہم ویڈیو میں وہ نرس یا ڈاکٹر ہونے کا کوئی دعویٰ نہیں کرتیں۔

ایسا لگتا ہے جیسے سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے مختلف ورژن پھیلانے والوں نے خود ہی یہ مفروضہ بنا لیا کہ وہ ڈاکٹر یا نرس ہوں گی۔

وہ خاتون جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتیں، کسی نامعلوم مقام پر وائرس سے بچاؤ کا حفاظتی سوٹ پہن رہی ہیں۔ تاہم ان کا سوٹ اور ماسک ہوبائی میں میڈیکل اسٹاف کے زیرِ استعمال سوٹ اور ماسک سے مماثلت نہیں رکھتا۔

چینی حکام کی جانب سے لاک ڈاؤن کیے جانے کے بعد، اس صوبے سے ویڈیو کی تصدیق مشکل ہے۔ لیکن وہ وائرس کے بارے میں ایسے متعدد غیر یقینی دعوے کرتی ہیں جن سے ان کے نرس یا پیرامیڈیکل سٹاف ہونے پر شک ہونے لگتا ہے۔

وہ دعویٰ کرتی ہے کہ چین میں متاثرہ افراد کی اصل تعداد نوے ہزار ہے۔ لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک تصدیق شدہ متاثرہ افراد کی کل تعداد 7700 ہے۔

چین کی فائل آن لائن میگزین سے وابسطہ ووہان نژاد اور وژول ایڈیٹر موی ژاؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ایسا لگتا ہے ان کا طبی پیشے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔‘

اگرچہ اس ویڈیو کے صحیح مقام کا تعین نہیں کیا جا سکا، لیکن امکان یہ ہے کہ یہ خاتون ہوبائی کی رہائشی ہیں اور اس وبا کے بارے میں اپنی ذاتی رائے شیئر کر رہی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آسٹریلیا میں مقیم چین کے ایک سیاسی کارکن بدیوکاؤ کا کہنا تھا ’میرے خیال میں اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ ایسا سوچتی ہیں کہ وہ سچ بول رہی ہیں۔ کیوں کہ کوئی بھی سچائی نہیں جانتا۔‘

’اصل صورتحال واضح نہیں اور لوگ صرف اندازے لگا رہے ہیں اور گھبرا رہے ہیں۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں