آج انسان کو محبت کی ضرورت ہے

آج فروری کے مہینے کی پہلی تاریخ ہے اور آج سے پاکستان سمیت ساری دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی کا عالمی ہفتہ منانے کا آغاز کیا جا رہا ہے جو 7فروری تک جاری رہے گا جس کا مقصد مذہبی ہم آہنگی کے ذریعہ ادیان عالم کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے ان کے درمیان پیار محبت، ایک دوسرے کے درمیان احترام کی فضاء پیدا کرکے جہاں بھر میں امن کی فضاء قائم کرنا ہے، اس دوران اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے گرجا گھروں، مساجد، مندروں اور دیگر عبادت گاہوں کی وساطت سے ایک دوسرے کا احترام کرنا اور ان کے درمیان پائی جانے والی منافرت کی فضا کو ختم کرنا ہے، اگر ہم دنیا بھر کے مذاہب یا ادیان عالم کا مطالعہ کریں تو ہمیں ان میں جو قدر مشترک نظر آتی ہے وہ زمین پر رہنے والوں کیلئے نیکی کا پیغام ہے، اس دنیا کے لوگوں کو عیسائیت یا اسلام جیسے مذاہب وحدانیت کی تعلیم دیتے ہیں، جبکہ اہل ہنود یا ہندو مذہب سے وابستہ لوگ بتوں کی پوجا کرکے ان کو بھگوان ماننے لگتے ہیں یا کفر وشرک کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں، ہم مذاہب عالم کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہمیں ہر دین اور مذہب کے لوگ اس ذات باری کو تلاش کرتے اور اس کی عبادت کیلئے نت نئے طور طریقے اپناتے نظر آتے ہیں، بعض قومیں خالق کائنات کی تلاش میں سورج کو پوجتی دکھائی دیتی ہیں اور بعض آتش پرستی میں مبتلا ہوکر اسے دنیا اور دنیا والوں کے وجود میں آنے کی وجہ قرار دیتی ہیں، ہادی برحق اور خدائے لم یزل کی تلاش ہر دور میں رہی جس تک رسائی کو ممکن بنانے کیلئے ہر دور میں اوتار اور اللہ کے برگزیدہ بندے پیمبر علیہ السلام اجمعین بن کر اس دنیا میں آتے رہے اور دنیا والوں کو نیکی کا پیغام دیکر ان کو سیدھے رستے پر چلانے کی ترغیب وہدایت دیتے رہے اور یوں وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ادیان عالم پھلتے پھولتے پھیلتے اور مختلف فرقوں میں درخت کی شاخوں کی طرح بٹتے یا تقسیم ہوتے رہے، ادیان عالم کے کسی دین سے وابستگی یا کسی دین کی قبولیت کی دو وجوہات نظر آتی ہیں، اگر کوئی فرد کسی دین کی تعلیمات سے متاثر ہوکے وہ دین قبول کرلے تو اس میں اس کی مرضی، پسند یامصلحت کا عمل دخل ہوتا ہے لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی مذہب کے ماننے والے کے گھر آنگن میں پیدا ہوکر اتفاقی طور پر اپنے والدین کے مذہب کو اختیار کرنے کے پابند ہوجاتے ہیں، مثلاً مجھ پر رب کریم کا خاص فضل اور کرم ہوا اور یوں میں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوگیا اور جدی پشتی مسلمان کہلانے لگا،ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں 4200کی تعداد میں مختلف النوع مذاہب اپنی تعلیمات یا عقائد کا فروغ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک حوالہ کے مطابق 2012ء میں جمع کئے گئے اعداد وشمار کی روشنی میں عیسائیت بلحاظ حجم دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے جس کا حجم یا پھیلاؤ 31.5 فیصد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اسلام کا حجم 30.2 فیصد ہے اور یوں اسلام بلحاظ حجم دنیا کا دوسرا بڑا مذہب قرار پاتا ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں جملہ مذاہب کے پیروکاروں کی تعداد 7.167ملین ہے جن میں 2.2 ارب عیسائی اور 2.6 ارب مسلمان ہیں اور اہل ہنود کی تعداد 1ارب ہے جن میں سے 90فیصد بھارت میں مذہبی جنون اور انتہاپسندی میںمبتلاء ہوکر وہاں رہنے والے مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کیلئے ظلم زیادتی، قتل مقاتلے، گھیراؤ جلاؤ، دہشت و بربریت اور خوف اور خطر کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک پاکستان کے وجود میں آتے ہی بانی پاکستان کی اس یادگار تقریر نے دنیا والوں پر واضح کردیا کہ ملک پاکستان مذہبی آزادی کے بین المذاہب ہم آہنگی کے نظریہ قائم رہنے کیلئے معرض وجود میں آیا، یہاں اقلیتوں کو اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی کھلی آزادی دی گئی، آج ملک کے کونے کونے میں ان کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں اور ان کے معبد خانوں میں اقلیتوں کی مذہبی سرگرمیوں کا جاری رہنا اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ یہاں مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کیلئے فضا نہایت محفوظ، پرامن اور سازگار ہے۔
پاکستان کے سبز ہلالی لہراتے پرچم میں اس کا سفید رنگ یہاں زندگی کے شب وروز گزارنے والے غیرمسلموں کی نمائندگی کرتے ہوئے دنیا والوں کو بتا رہا ہے کہ یہاں پر بسنے والے عابد کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کے معبود کو برا نہ کہنے کی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں اور اس وقت تک عمل پیرا رہیں گے جب تک کسی غیرمذہبی جنونی کے ہاتھوں اس ملک کے علاوہ یہاں پنپنے والی مذہبی آزادی کو ٹھیس پہنچانے کا خطرہ سر نہیں اُٹھاتا، مذہب نام ہے ضابطہ حیات اور ضابطہ اخلاق کا، ہم سب سرائے عالم کے مسافر ہیں اور اپنے اپنے عقائد اور تیقن کی گاڑی میں بیٹھ کر اس منزل کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں جہاں پہنچ کر ہم نے سرخرو اور سرفراز کہلانا ہے، اگر ہم نے اس لڑتی جھگڑتی دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرلی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس دنیا کو امن کا گہوارہ نہ بنا دیں اور اپنے چار اطراف محبتوں کے پھول نہ نچھاور کردیں
سات صندوقوں میں بھر کر دفن کردو نفرتیں
آج انسان کو محبت کی ضرورت ہے