ایف اے ٹی ایف کی شرائط پورا کرنے کے لیے درجنوں قوانین میں ترامیم کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے آئندہ 6 ماہ کے دوران کم از کم ایک درجن قوانین میں ترامیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ منی لانڈرنگ اور ایف اے ٹی ایف کے معاملات دیکھنے والے ملک کے سب سے اعلیٰ ادارے نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی (این ای سی) کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔

اجلاس کی صدارت وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدال حفیظ شیخ نے کی جہاں وزیر معاشی امور و قومی ایف اے ٹی ایف رابطہ کمیٹی برائے عوامی و سلامتی ادارے کے سربراہ حماد اظہر، وزیر مواصلات مراد سعید اور متعلقہ وزارتوں و قومی اداروں کے سربراہ موجود تھے۔

اجلاس میں آئندہ ماہ پیرس میں ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کی موثر اور مفید شرکت یقینی بنانے اور مثبت نتائج کے حصول کیلئے کی جانے والی تمام تیاریوں اور کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور جون 2020 تک ایف اے ٹی ایف کے معیار سے مطابقت کے لیے منصوبے کو حتمی شکل دی گئی اور قانون سازی کے لیے اہداف مقرر کیے گئے۔

شرکا نے رواں سال جون تک 12 سے 13 قوانین میں ترمیم کی منظوری دی جس کی بنیاد پر ایف اے ٹی ایف پاکستان کی کارکردگی کا فیصلہ کرے گا۔

معلومات رکھنے والے ذرائع کا کہنا تھا کہ نئی قانون سازی میں سب سے اولین ترجیح انسداد دہشت گردی ایکٹ کو حاصل ہے جو پہلے ہی سے پارلیمنٹ میں زیر التوا ہے جس کے ساتھ متعدد ممالک کے درمیان قانین تعاون کے لیے باہمی قانونی معاونت ایکٹ بھی شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ (سلامتی کونسل) ایکٹ 1948 کو اپنائے گا جس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے افراد یا تنظیموں کی سزا 10 سال قید اور 10 لاکھ جرمانے سے بڑھا کر 10 سال قید اور 20 کروڑ جرمانہ کردی جائے گی۔

عالمی معیار پر پورا اترنے کے لیے کرمنل پروسیجر کوڈ اور کمپنیز ایکٹ 1984 میں بھی ترمیم کی جائیں۔

اس کے علاوہ کئی ضمنی قوانین کو بھی بہتر بنایا جائے گا تاکہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف کمیشن (ایس ای سی پی) اور دیگر وفاقی و صوبائی ایجنسیاں اپنے دائرہ اختیار میں سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں۔

ایف اے ٹی ایف شرائط: قائمہ کمیٹی میں دو بلز کی منظوری

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے 2 بلز منظور کرلیے۔

اینٹی منی لانڈرنگ (ترمیمی) بل 2019 اور غیر ملکی زرمبادلہ ریگولیشن (ترمیمی) بل 2019 یکم جنوری کو پہلے ہی قومی اسمبلی سے منظور ہوچکے ہیں۔

کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ غیر ملکی زرمبادلہ ریگولیشن (ترمیمی) بل میں کوئی ترمیم پیش نہیں کی گئی۔

بعد ازاں کمیٹی نے اینٹی منی لانڈرنگ (ترمیمی) بل پر نظر ثانی کی اور اس کے سیکشن 4، 21 (3)، 33 اور 34 اور (2) میں چند ترمیم کی گئی ہیں۔

باہمی قانونی معاونت و معلومات کے تبادلے کا بل بھی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں زیر التوا ہیں۔

اس بل کو ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے پارلیمنٹ سے منظور ہونے کی بھی ضرورت ہے۔

دریں اثنا قومی اسمبلی میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق 5 بلز متعارف کرائے گئے تاکہ چند ایکٹس اور آرڈیننسز مزید ترمیم کی جاسکیں۔

ان بلوں میں سرکاری سیونگز بینک (ترمیمی) ایکٹ 2020، پوسٹ آفس کیش سرٹیفکیٹ (ترمیمی) ایکٹ 2020، انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 اور امیگریشن آرڈیننس (ترمیمی) ایکٹ 2020 شامل ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں پیرس میں منعقدہ ایف اے ٹی ایف اجلاس کے اختتام پر ٹاسک فورس کے صدر شیانگ من لو نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو مزید 4 ماہ کے لیے گرے فہرست میں رکھا جائے گا۔

ایف اے ٹی ایف کے بیان کے مطابق ‘اسلام آباد کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرے’۔

پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے اقدامات پر فروری 2020 میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اگر اس نے آئندہ اجلاس تک اپنے ایکشن پر مکمل طریقے سے موثر اور نمایاں پیش رفت نہ کی تو ایف اے ٹی ایف کارروائی کرے گا۔