تراشیدم، پرستیدم، شکستم

خیر میں شر اور شر میں خیر کا پہلو ہوتا ہے، نظر بظاہر تو یہ جو اقدام اُٹھایا گیا ہے اس میں اگرچہ بنیادی طور پر نیک نیتی نظر نہیں آتی تاہم اس کے ڈانڈے ضیاء الحق کے دور میں اسی نوعیت کے ایک اقدام کیساتھ ملتے دکھائی دیتے ہیں، جب اس دورسے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے اندر پہلی فاصلاتی یونیورسٹی ”پیپلز اوپن یونیورسٹی” کے نام سے صرف اسلئے منسوب کی تھی کہ ان کی جماعت کا نام پیپلزپارٹی تھا، مگر ضیاء الحق نے جمہوریت پر شب خون مارنے کے بعد پیپلز اوپن یونیورسٹی کا نام تبدیل کر کے اسے مفکر پاکستان علامہ اقبال کے نام سے موسوم کر کے اسے نئی شناخت دی، تب ملک میں مارشل لاء ہونے کی وجہ سے کسی نے ایک لفظ تک منہ سے نکالنے کی جرأت نہیں کی۔ اب موجودہ حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کر کے اسے احساس کفالت کا نام دینے اور کارڈ پر محترمہ بینظیر کی تصویر کی جگہ بابائے قوم قائداعظم کی تصویر لگادی ہے تاکہ اس پروگرام کے ذریعے خصوصاً سندھ میں پیپلزپارٹی کوئی سیاسی فائدہ اُٹھانے میں ناکام رہے حالانکہ اس سے پہلے لیگ (ن) کے دور میں بھی ایسی سوچ سامنے آئی تھی اور میاں نواز شریف کو بھی ایسا ہی مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ بینظیر انکم سپورٹ کا نام تبدیل کردیں تاہم پیپلزپارٹی کے شدید احتجاج کے بعد اس پروگرام کو اس کے اصلی شکل میں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اب ایک بار پھر اس کا نام تبدیل کر کے اسے ”غیر سیاسی” بناتے ہوئے نیا نام احساس کفالت دیدیا گیا ہے جس کے پیچھے حب علی کے برعکس سوچ کارفرما دکھائی دیتی ہے،اگرچہ اصولی طور پر کسی بھی قومی مفاد کے پروگرام کو ہر قسم کی سیاست سے پاک رکھنے کی سوچ بہتر ہے اور ماضی میں جتنے بھی پروگرام سامنے آتے رہے ہیں ان کا بنیادی مقصد متعلقہ سیاسی جماعت کے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے کے سوا کچھ بھی نہیں، اس لئے بعد میں جب دوسری جماعتیں برسر اقتدار آجاتی ہیں تو وہ اپنی سیاسی اہمیت کو اُجاگر کرنے کیلئے اپنے ہی رہنمائوں کے نام سے امدادی پروگرام یا ادارے قائم کر کے سیاسی فوائد اُٹھاتی ہیں۔ایسے پروگراموں میں نیک نیتی شامل ہو تو ان کو متعلقہ پارٹیوں کے لیڈروں کے ناموں سے منسوب کر نے کی بجائے ان کو بانیان پاکستان کی اہم شخصیات کے ناموں سے منسوب کیا جانا چاہئے یا پھر ایسے نام دینے چاہئیں جو عمومی الفاظ پر مشتمل ہوں جیسے کہ اب موجودہ حکومت نے اسے احساس کفالت کا نام دے کر اس میں قائداعظم کی تصویر شامل کردی ہے، لیکن یہاں ایک سوال اُٹھتا ہے کہ اگر تحریک انصاف نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کر کے اس حوالے سے جاری کارڈوں پر بابائے قوم کی تصویر لگادی ہے جس کی اصولی طور پر مخالفت کا کوئی جواز بھی نہیں پیدا ہوتا، تو پھر یہ جو صحت انصاف کارڈ کے نام سے انہوں نے صحت پروگرام کو اپنی جماعت کے نام سے منسوب کیا ہے اس کا کیا جواز ہے؟ بقول شاعر
ہمیں بھی آپ سے اک بات عرض کرنا ہے
پر اپنی جان کی پہلے امان مانگتے ہیں
انگریزی کا ایک محاورہ ہےTit for tat اس کامتبادل اُردو میں بھی موجود ہے مگر ہم جان بوجھ کر اس سے صرف نظر کر رہے ہیں بس کہنے کا مقصد اتنا ہی ہے کہ آج محض سیاسی مخالفت پر کسی بھی پروگرام کا نام تبدیل کرنے کی باری دوسروں کے پروگراموں کی بھی آسکتی ہے کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت کئی کئی بار اقتدار میں نہیں رہ سکتی اور کل کے حکمران اگر آج حزب اختلاف میں نظر آرہے ہیں تو کل یہی صورتحال آج کے حکمرانوں کیساتھ بھی پیش آسکتی ہے، تب ان کے شروع کئے ہوئے پروگراموں کا بھی ایسا ہی حشر ہو سکتا ہے، اس صورتحال سے نمٹنے کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے ایسی قانون سازی جو کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنے پارٹی کے نام یا اپنے رہنمائوں کے ناموں کیساتھ کوئی بھی پروگرام منسوب کرنے پر قد غن لگا دے، یعنی قومی مفاد اور عوامی فلاح وبہبود کیلئے شروع کئے جانے والے پروگراموں کو یا تو کوئی بھی عمومی نام دیتے جائیں یا پھر انہیں بانیان پاکستان اور آزادی کیلئے جنگ کرنے والے رہنمائوں کے ناموں سے منسوب کیا جائے تو اس پر نہ کوئی معترض ہوگا نہ ہی آنے والی دوسری جماعتوں کے اقتدار کے دنوں میں ان کو بار بار تبدیل کرنے کی نوبت آئے گی اور یہ پروگرام خوش اسلوبی سے جاری رہیں گے مگر افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم بت گری اور بت شکنی میں مبتلا ایسی قوم ہیں جو بقول علامہ اقبال
ولیکن سر گذشتم ایں سہ حرف است
تراشیدم پرستیدم شکستم
ہم اقتدار میں ہوں تو مخالفین کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کے زعم میں مبتلا ہو کر انہیں صرف غلط کی طرح نیست ونابود کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب خود اقتدار سے محروم ہو جاتے ہیں تو پیالی میں طوفان اُٹھا کر سب کچھ اتھل پتھل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ملکی سیاست میں داخل ہوتی یہ صورتحال جب تک ختم نہیں ہوگی اور ایک قومی مکالمے کی بنیاد پر کچھ اصول ترتیب دیکر سیاست کے جسد سے نفرت اور توہین کے جذبات خارج نہیں کئے جائیں گے ہم ترقی کی منزل پانے میں ہمیشہ ناکام رہیں گے ،تاہم بد قسمتی سے اس سوچ کو تج دینے کی اخلاقی جرأت سے ہم من حیث القوم عادی ہیں، اللہ ہماری حالت پر رحم کرے بقول جو ن ایلیائ
اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے