جانتا ہوں ‘میرے پاس تم ہو’ کے ڈائیلاگز تکلیف دہ تھے، عدنان صدیقی

پاکستان کا مقبول ترین ڈراما ‘میرے پاس تم ہو’ جہاں مداحوں کی تعریفیں بٹورتا رہا وہیں اسے خواتین کو منفی پیش کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

اس ڈرامے کے ڈائیلاگز بھی خاصے متنازع رہے، جبکہ آخری قسط کو بھی مداحوں نے بالکل پسند نہیں کیا۔

خیال رہے کہ ‘میرے پاس تم ہو’ میں ہمایوں سعید، عائزہ خان، عدنان صدیقی اور حرا مانی نے اہم کردار نبھائے۔

ڈرامے میں عدنان صدیقی نے ‘شہوار’ نامی بزنس مین کا منفی کردار نبھایا اور آخری قسط کے دوران ایک منظر میں ان کا کردار کچھ یہ ڈائیلاگز بولتا نظر آیا: ‘ایسی عورت کو مرد برباد نہیں کرتا، اس کے اندر موجود اپنے گھر توڑ دینے کی ہمت اسے برباد کرتی ہے، اس کے آنکھوں سے بڑے اس کے خواب اسے برباد کرتے ہیں، ایسی عورتیں یہ نہیں دیکھتی کے انہیں کیا ملا ہے، وہ یہ دیکھتی ہیں کہ دوسروں کو کیا ملا ہے، اندھی ہوتی ہیں ایسی عورتیں اور اندھوں کو پار لگانے کے بہانے کوئی بھی ساتھ لے جائے، اس کے لیے کسی کا شہوار احمد ہونا ضروری نہیں’۔

اور اب عدنان صدیقی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ بھی شیئر کی جس میں انہوں نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ ‘میرے پاس تم ہو’ کے ڈائیلاگز متنازع تھے۔

انسٹاگرام پر لگائی ایک پوسٹ میں عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ ‘مجھے جو پیار ملا اس کے لیے میں سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ ڈرامے کے ڈائیلاگز تکلیگ دہ تھے اور کچھ مواقوں پر تھوڑا زیادہ متنازع بھی ہوگئے، کبھی تو خواتین کو ایک ہی انداز میں پیش بھی کیا گیا، میں یہ سب مانتا ہوں اس لیے بتانا ضروری سمجھتا ہوں، امید تھی کہ کہانی ڈرامے کو اور بہتر بناتی’۔

خیال رہے کہ ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ مہوش (عائزہ خان) ایک غریب گھرانے کی شادی شدہ خاتون ہوتی ہیں جو پیسوں کی لالچ میں اپنے شوہر (ہمایوں سعید)کو دھوکا دے کر ان سے طلاق لے کر امیر شخص ‘شہوار’ (عدنان صدیقی) سے تعلقات استوار کرکے ان سے شادی کرنے کی خواہش مند ہوتی ہے۔

دونوں کی شادی سے قبل ہی امیر شخص شہوار کی پہلی اہلیہ ماہم (سویرا ندیم) امریکا سے واپس آجاتی ہیں اور مہوش کو بے عزت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے امیر شوہر کو جیل بھجوا دیتی ہیں۔

ڈرامے کی کہانی کو بہت زیادہ لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ تنقید کے باوجود اس ڈرامے کو بہت زیادہ دیکھا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر آئے دن اس ڈرامے سے متعلق کوئی نہ کوئی بحث ہوتی رہتی ہے۔