سندھ سے صوابی براستہ پینٹاگون

لکھنا تو کچھ اور تھا بلکہ ہے لیکن پہلے دو تین باتیں کرلیتے ہیں۔ اولاً یہ کہ قلم مزدور کو اپنے پنجابی دوستوں (صحافیوں) پر حیرانی ہوتی ہے کہ وہ سندھ میں آئی جی پولیس کے تبادلے کے معاملے میں زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کرکے نون لیگ کے زمانے میں جی ہی نہیں رہے بلکہ ماضی کی طرح اب بھی ملبہ سندھ حکومت پر گرانے کا ثواب کما رہے ہیں۔ ہمارے ان دوستوں میں سے کسی کے پاس اس سوال کاجواب نہیں ہے کہ پنجاب میں اٹھارہ ماہ کے دوران تین چیف سیکرٹری اور 5آئی جی پولیس کیوں تبدیل کئے گئے یہاں تک کہ خیبر پختونخوا کے جس سابق آئی جی کو وزیراعظم اور تحریک انصاف پولیس اصلاحات کا جادوگر بنا کر پیش کرتے تھے وہ پنجاب میں پولیس اصلاحات کیلئے مشیر کے طورپر چند دن بھی نہ چل پائے تو کیوں؟۔ ثانیاً یہ کہ سندھ کے موجودہ آئی جی کلیم امام جب پنجاب میں آئی جی تھے تو ان دنوں خاتون اول کے سابق سسرالی خاندان کا پاکپتن پولیس سے تنازع ہوا تھا۔ معاملہ سپریم کورٹ تک گیا، اس وقت کے آئی جی کلیم امام نے اس واقعہ کے حوالے سے جو رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی وہ نہ صرف مسترد کردی گئی بلکہ عدالت نے آئی جی پولیس سے سوال کیا ”وہ کن وجوہات کی بنیاد پر ایک جھوٹی رپورٹ کے درست ہونے پر مصر ہیں’ کیوں جھوٹ بول رہے ہیں؟”۔ ثالثاً یہ کہ جب وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ سندھ کے درمیان سندھ حکومت کی طرف سے آئی جی کیلئے بھیجے گئے پانچ میں سے ایک نام پر اتفاق ہوگیا تھا تو وزیر اعظم کے کنگری ہائوس پر پہنچنے سے قبل کس نے گورنر ہائوس سے فون کرکے پیر پگارا اور بیگم فہمیدہ مرزا کو بتایا کہ مشتاق مہر کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے؟ پھر یہ ہوا کہ کنگری ہائوس میں جب وزیراعظم اور جی ڈی اے کے قائدین کی ملاقات ہوئی تو پیرپگارا’ ایاز لطیف پلیجو’ فہمیدہ مرزا اور دوسرے اتحادی رہنماؤں نے یک زبان ہو کر وزیراعظم کو بتایا کہ مشتاق مہر کی تعیناتی ہمیں قبول نہیں۔ جی ڈی اے کیساتھ ساتھ تحریک انصاف نے بھی مشتاق مہر کے معاملے میں عدم اعتماد ظاہر کیا۔ وزیراعظم چند قدم پیچھے ہٹے اور کہا کہ فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی اور اگلے روز وفاقی کابینہ میں سندھ سے تعلق رکھنے والے جی ڈی اے’ تحریک انصاف کے وزراء متحد ومتفق تھے کہ ہمیں آئی جی کا تبادلہ قبول نہیں۔ جس کے بعد وزیراعلیٰ کو پیغام بھجوایا گیا کہ وہ آئی جی کے معاملے پر سندھ کے گورنر سے مشاورت کریں۔ کیسی عجیب بات ہے جس گورنر پر یہ الزام ہے کہ اس نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے درمیان طے پانے والے معاملے کی بذریعہ فون پیر پگارا اور فہمیدہ مرزا کو اطلاع دی اور نیا تنازع پیدا ہوا اب اس سے مشاورت کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی کے معاملے پر گورنر سے مشاورت سے انکار کردیا۔ سندھ حکومت کا مقدمہ یہ ہے کہ پچھلے چند ماہ سے آئی جی پولیس صوبائی حکومت کے احکامات ماننے کی بجائے گورنر ہاؤس کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ نومبر سے جنوری کے وسط تک ان کے پسندیدہ چند افسران نے پیپلز پارٹی کے متعدد ارکان سندھ اسمبلی سے ملاقاتوں کے درمیان جو پھلجڑیاں چھوڑیں وزیراعلیٰ ان کے بارے وزیراعظم سے اپنی حالیہ ملاقات کے دوران انہیں آگاہ کرچکے۔ ہم اس بات کو کنگری ہاؤس میں جی ڈی اے اوروزیراعظم کی ملاقات سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو رخصت کرکے مخلوط حکومت بنانے کیلئے ”مشن” تقریباً مکمل ہے، اس مرحلے پر آئی جی پولیس کی تبدیلی کا نقصان ہوگا۔ کیا وزیر اعظم یا کنگری ہاؤس والی ملاقات میں موجود جی ڈی اے کے رہنما اس بات سے انکار کرسکتے ہیں کہ اس ملاقات میں یہ بات نہیں ہوئی؟ کیا یہ درست نہیں کہ اس ملاقات میں بار بار ایک لسٹ وزیراعظم کو دکھائی جاتی رہی اور کہا گیا کہ یہ پیپلز پارٹی کے ان ارکان سندھ اسمبلی کے نام ہیں جو فارورڈ بلاک بنانے پر آمادہ ہیں؟۔
اخبار نویس کنگری ہاؤس میں وزیراعظم اور جی ڈی اے کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں آئی جی کے حوالے سے ہوئی گفتگو اور ”مشن سندھ تعمیر نو” پر معلومات کے ذرائع کے درست ہونے پر مطمئن ہے۔
آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ اسلام آباد و راولپنڈی اور خود وزیراعظم کو غیرآئینی کوششوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہئے۔ دوسروں کو 2023ء تک انتظار کا مشورہ دینے والے سندھ میں خود 2023ء تک انتظار پر آمادہ کیوں نہیں؟ بلاشبہ پیپلز پارٹی فرشتوں کی جماعت نہیں انسانوں کی جماعت ہے کچھ غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن کیا سندھ کے عوام نے اس جماعت کو ووٹ نہیں دئیے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ سندھ اسمبلی میں پی پی پی نے 2018ء کے انتخابات میں جتنی نشستیں حاصل کیں وہ ماضی کے تمام ادوار سے زیادہ ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے پنجابی صحافی دوست سندھ کے معاملے میں روایتی تعصب کا شکار ہیں، کل وہ اپنی پسندیدہ نون لیگ کے دور میں سندھ کے بارے میں جن ارشادات سے نوازتے تھے وہی اب بھی ان کا رزق ہیں۔ مکرر عرض کرتا ہوں وفاق کو قاعدے قوانین اور متعلقہ صوبائی حکومت کی شکایات کو بھی سامنے رکھنا چاہئے۔ یہی سب کیلئے بہتر ہوگا۔ حرف آخر یہ ہے کہ امریکی پینٹاگون نے اب تسلیم کیا ہے کہ بغداد میں امریکی ائیربیس پر ایرانی حملے سے 50امریکی متاثر ہوئے۔ قبل ازیں صدر ٹرمپ کسی امریکی فوجی کے زخمی ہونے کی تردید کرتے رہے ہیں۔ یہاں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پینٹاگون نے ان 30امریکی فوجیوں کا ذکر نہیں کیا جنہیں بغداد سے تل ابیب بھجوایا گیا تھا۔ دوسری خبر یہ ہے کہ سعودی عرب میں ہرایک گھنٹے میں 7 اورایک دن میں 168 طلاقیں ہو رہی ہیں، 90فیصد طلاق لینے والی خواتین کاشکوہ یہ ہوتا ہے کہ خاوند ان سے بات چیت نہیں کرتے۔ آخری خبر صوابی کے حوالے سے ہے جہاں پولیو ٹیم کی دو خواتین ارکان فائرنگ سے جاں بحق ہوئیں۔سانحہ کی جگہ صبح سے ہی مقامی مسجد سے پولیو ٹیم کیخلاف اعلانات کئے جا رہے تھے۔ انتظامیہ نے اس کا بروقت نوٹس کیوں نہ لیا اور پولیو ٹیم کے ہمراہ تعینات پولیس اہلکار موقع پر موجود کیوں نہ تھے؟۔