مہوش حیات کے بعد فلم ساز خاتون کا بھی خواتین کے ٹوائلٹ میں گندگی پر برہمی کا اظہار

کچھ دن قبل اداکارہ مہوش حیات نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ایئرپورٹ پر خواتین کا ٹوائلٹ استعمال کرنے کے بعد وہاں کی گندگی کے حوالے سے ٹوئٹ کی تھی۔

مہوش حیات نے 24 جنوری کو اپنی ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ ’بدقسمتی سے انہیں کراچی ایئرپورٹ پر خواتین کے بیت الخلا استعمال کرنے کا اتفاق ہوا اور وہ خواتین واش روم میں گندگی اور تعفن دیکھ کر شدید حیران رہ گئیں‘۔

اداکارہ نے ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ انہوں نے خواتین کے واش روم میں انتہائی گندگی اور بدبو کا سامنا کیا اور تو اور انہیں وہاں کاکروچ بھی دکھائی دیے۔

مہوش حیات نے خواتین کے واش رومز کی خراب حالت کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’یہ عمل نہ صرف حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اس عمل سے ہم بیرون ملک سے آنے والے افراد کو پہلا تاثر بھی غلط دے رہے ہیں‘۔

اداکارہ نے لکھا تھا کہ واش رومز کی صفائی بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے اور ہمیں اب صفائی کرنی پڑے گی۔

مہوش حیات کی ٹوئٹ کے بعد اگرچہ وفاقی حکومت نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ٹوائلٹ کی صفائی کرائی جائے گی تاہم اب امریکی نژاد پاکستانی فلم ساز، لکھاری، سماجی رہنما اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سنتھیا ڈان رچی نے بھی کراچی سمیت اسلام آباد ایئرپورٹ کے خواتین کے واش رومز کے حوالے سے ٹوئٹ کی ہے۔

سنتھیا ڈان رچی نے مہوش حیات کی پرانی ٹوئٹ پر جواب دیتے ہوئے اداکارہ کی باتوں سے اتفاق کیا۔

امریکی نژاد پاکستانی فلم ساز نے لکھا کہ وہ مہوش حیات کی پوری باتوں سے اتفاق کرتیں اور انہوں نے نہ صرف کراچی ایئرپورٹ کے خواتین واش رومز بلکہ اسلام آباد ایئرپورٹ کے واش رومز میں بھی گندگی دیکھی۔

فلم ساز نے مزید لکھا کہ حکومت کو نہ صرف ایئرپورٹ پر موجود خواتین کے ٹوائلٹس بلکہ پورے ایئرپورٹس کی صفائی کروانی چاہیے کیوں کہ یہی وہ پہلی جگہ ہوتی ہے جو دوسرے ممالک سے آنے والے افراد یا سیاح دیکھتے ہیں۔

انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ایئرپورٹس دوسرے ممالک سے آنے والے سیاحوں کی نظر میں پہلے آتے ہیں اور انہیں دیکھ کر ہی وہ لوگ ملک کے حوالے سے تصویر بناتے ہیں۔

فلم ساز کی دوسری ٹوئٹ پر مہوش حیات نے بھی جواب دیا اور ان سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا کہ اب پاکستان کے تمام ایئرپورٹس کو تزئین و آرائش کی ضرورت ہے کیوں کہ یہی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں دوسرے ممالک سے آنے والے لوگ سب سے پہلے دیکھتے ہیں اور ملک کے حوالے سے اپنی ذہن سازی کرتے ہیں۔