پولیو ورکرز کو تحفظ دینے میں ناکامی

صوابی میں دو پولیو ورکروں کے قتل پر ڈپٹی کمشنر نے اس واقعے کو ذاتی عناد کے ممکنہ واقعات کے امکان کا بیان دیکر واقعے کی نوعیت کومشکوک بنادیا ہے ان کا یہ بیان اسلئے بے موقع وبے معنی ہے کہ دونوں خواتین الگ الگ مقامات سے تھیں اور ان کی آپس میں کوئی قرابت داری بھی نہیں تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد محض اس وجہ سے کہ صورتحال کو مشکوک بنا کر بری الذمہ ہوا جائے ایک ایسے واقع کو مشکوک بنادیا ہے جو اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ پولیو ورکرز کو تاک کر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے پولیو مہم کیلئے آنے والی رقم میں تو سب سے پہلے دفتروں میں بیٹھے اعلیٰ افسران اور انتظامی وپولیس افسران کا حصہ ہوتا ہے لیکن عملی طور پر پولیس کے سپاہی اور حوالدار کے عہدے کے جوان پولیو ورکرز کی حفاظت کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ صوابی میںپولیو ورکرز کو جس وقت نشانہ بنایا گیا اس وقت ان کو سیکورٹی کیوں مہیا نہیں کی گئی تھی، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ ضلع کے پولیس افسران کیخلاف اس ضمن میں تحقیقات ہونی چاہئے اور پولیو ورکروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی پر ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ اس واقع کے بعد آئی جی خیبرپختونخوا کا ازخود جائے وقوعہ کا دورہ ایک اچھی کاوش ہے جس سے ان کو واقعے کی نوعیت کا اندازہ ہونے کیساتھ لواحقین کی بھی قدرے تسلی ہوئی ہوگی لیکن جب تک پولیو ورکرز کے قتل کی تحقیقات کیلئے تین رکنی کمیٹی کی رپورٹ نہیں آتی اور واقعے کی ذمہ داری کاتعین نہیں ہوتا اور غفلت برتنے والے عناصر کیخلاف کارروائی نہیں ہوتی اس وقت تک نہ تو صوبائی حکومت کی ذمہ داری پوری ہوسکتی ہے اور نہ ہی لواحقین کی ڈھارس بندھ سکتی ہے۔صوابی کے بعض علاقے پولیو ورکرز کیلئے بہت ہی پر خطر بتائے جاتے ہیں اور وہاں پر پولیو قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ان علاقوں کیلئے خاص طور پر حفاظتی اقدامات کیساتھ ساتھ پولیو ورکرز کی ڈیوٹی پر آمد کے موقع پر ہی نہیں بلکہ ان کی آمد سے قبل اور جب تک پولیو کی سہ روزہ مہم مکمل نہ ہو پولیس کو خاص طور پر متحرک ہونا چاہئے۔ اس خاص موقع پر ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کیخلاف خصوصی مہم چلا کر علاقے میں حکومتی عملداری کی دھاک بٹھا نے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پولیس گشت میں اضافہ اور سماج دشمن عناصر کیخلاف مہم میں تیزی لانی چاہئے تاکہ پولیو ورکرز کو نسبتاً تحفظ کا ماحول ملے ان علاقوں میں انکاری والدین کو سمجھانے اور شعور بیدار کرنے کیلئے بھی اقدامات ہونے چاہئیں۔
صوبے میں سعودی سرمایہ کاری کا عندیہ
گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان اور سعودی سفیر نواف بن سیدالمالکی کے درمیان ملاقات میں خیبرپختونخوا میں معدنیات اور زراعت کے شعبے میں سعودی سرمایہ کاری کے امکانات اور رضامندی کا اظہار اگر رسمی نہیں اور سعودی حکومت واقعی اس میںدلچسپی کا عملی اظہار کرے تو یقیناً صوبے میں سرمایہ کاری کے کافی مواقع موجود ہیں جن سے دونوں برادر ممالک کے سرمایہ کاراور ماہرین فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں شہد اور زیتون کی پیداوار کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات بھی کافی ہیں اس ضمن میں اولاً غیر ملکی سرمایہ کاری کی بجائے اگرمقامی طور پر ہی امکانات کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا شہد کے کاروبار کی ترقی کیلئے اقدامات کی گنجائش ضرور ہے البتہ صوبے میں فی الوقت زیتون کی پیداوار اتنی نہیں کہ اس کیلئے بڑے پیمانے پر انتظامات کی ضرورت ہو صوبے میں زیتون کے پودے لگانے اور چھ سات سال بعد ان کے پھل دینے کے بعد ہی ان کو محفوظ بنانے اور تجارتی اقدامات کی نوبت آئے گی۔
محکمہ تعلیم کے سرکاری گاڑیوں کا غلط استعمال
ایجوکیشن سیکرٹریٹ کے پلاننگ سیل اوردوسرے شعبوں کے درجنوں گاڑیوں کے غائب ہونے اور گاڑیوں کی ریکوری کیلئے باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کافیصلہ اپنی جگہ ا س حوالے سے غفلت برتنے کا ارتکاب ہے۔نئی گاڑیاں ملنے کے بعد پرانی گاڑیوں کی واپسی متعلقہ افسران کی ذمہ داری اور عملے کا فرض تھا جن کی ملی بھگت اور صرف نظر کے بغیر ان گاڑیوں کا غیر مجاز افراد کا استعمال کرنا ممکن نہ تھا۔ ممکن ہے گاڑیوں کے غلط استعمال کا وہی عملہ ہی مرتکب ہوا ہو جن کی ذمہ داری ہی ان گاڑیوں کا مجاز افراد ہی کو دینے کا تھا بہرحال سرکاری گاڑیوں کو جس طرح سے غیر قانونی اور غیر مجاز افراد استعمال کر رہے ہیں وہ کوئی راز کی بات نہیں۔ صوبے میں سرکاری گاڑیوں کے غلط استعمال کی روک تھام کیلئے سرکاری گاڑیوں کو مخصوص رنگ دیا جائے اور ہر گاڑی پر نمایاں اورجلی الفاظ میں متعلقہ محکمے کا نام لکھا جائے۔ سرکاری گاڑیوں میں ٹریکنگ سسٹم لگایا جائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں جن کا غیر مجاز افراد کی طرف سے استعمال تو کجا مجاز افراد کو بھی صرف سرکاری اوقات کار میں سرکاری امور کی انجام دہی کیلئے ہی استعمال کی اجازت ہو جس کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے۔محکمہ تعلیم کے غیر مجاز افراد کے گاڑیوں کے استعمال کے ذمہ دار عناصر سے گاڑیاں نہ صر ف واپس لی جائیں بلکہ ان سے گاڑیوں کا کرایہ بھی وصول کرنے کیساتھ ساتھ ان کیخلاف محکمانہ تادیبی کارروائی بھی کی جائے۔توقع کی جانی چاہئے کہ سرکاری گاڑیوں کے غلط استعمال کی روک تھام کیلئے حکومت کوئی ٹھوس لائحہ عمل وضع کرے گی اور برسوں سے جاری اس لاقانونیت کا راستہ مستقل طور پر بند کیا جائے گا۔