پیدائش کے وقت آپ کا وزن مستقبل کی صحت کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟

بیشتر افراد کا سانس کچھ دور بھاگنے سے ہی پھول جاتا ہے، حالانکہ وہ سیگریٹ سے بھی دور ہوتے ہیں مگر اب انکشاف ہوا ہے جسمانی فٹنس کا تعلق پیدائش کے وقت کے وزن سے ہوتا ہے۔

یہ بات سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کیرولینسیکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پیدائش کے وقت کم وزن اور بلوغت میں دل اور تنفسی نظام کی ناقص صحت کے درمیان تعلق موجود ہے۔

طبی جریدے جے اے ایچ اے میں شائع تحقیق کے مطابق دل اور تنفسی نظام (کارڈیوریسپریٹری)کی اچھی فٹنس بنیادی طور پر جسم کی جسمانی سرگرمیوں کے لیے ضروری مسلز تک آکسیجن کی فراہمی کے لیے ضروری ہوتی ہے، اس کے متاثر ہونے سے مختلف امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

دنیا بھر میں لوگوں میں کارڈیو ریسپریٹری فٹنس میں کمی آئی ہے اور ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ سوئیڈن میں ایسے افراد کی شرح 1995 میں 27 فیصد تھی جو 2017 میں 46 فیصد تک پہنچ گئی۔

یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین اس کی وجوہات جاننے کے لیے کام کررہے ہیں اور محققین اس کے تعین کے لیے جسمانی سستی اور جینیاتی عناصر کی شناخت کررہے ہیں۔

اور اب اس نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قبل از وقت پیدائش اور پیدائش کے وقت کم وزن کا بھی اس فٹنس سے تعلق ہے اور بعد کی زندگی میں کارڈیو ریسپریٹری فٹنس متاثر ہوسکتی ہے۔

محققین نے اس مقصد کے لیے 2 لاکھ 80 ہزار مردوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جن کی عمریں 17 سے 24 سال تھی اور ان کا جسمانی معائنہ کرنے کے ساتھ انہیں مختلف جسمانی سرگرمیوں کے ٹاسک دیئے۔

انہوں نے دریافت کیا کہ جن لوگوں کا وزن پیدائش کے وقت زیادہ تھا، انہوں نے اس فٹنس کے ٹیسٹ میں زیادہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

یہ تعلق ہر وزن کے حامل نوجوانوں میں مستحکم دریافت ہوا تاہم ماہرین وضاحت نہیں کرسکے کہ پیدائشی وزن اور کارڈیو ریسپریٹری فٹنس کے درمیان تعلق کی وجہ کیا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ بچے کی پیدائشی وزن میں 450 گرام اضافہ بھی اس فٹنس کو بہتر کرسکتا ہے اور یہ نتائج عوامی صحت کے لیے بہت اہم ہیں کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں 15 فیصد بچوں کا پیدائشی وزن ڈھائی کلوگرام سے کم ہوتا ہے ، جن کو بعد کی زندگی میں دل اور تنفسی نظام کی ناقص فٹنس کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ والدین کی اچھی نگہداشت کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کو بچپن میں نقصان سے بچاسکتی ہے بلکہ کارڈیو ریسپریٹری فٹنس کو بھی بہتر کرسکتی ہے۔